امریکی یونیورسٹیاں کیوں سب سے بہتر ہیں؟
ان جامعات کے وسیع کیمپس، لائبریریاں، کھیل، مباحثے، ریسرچ کلچر، دنیا بھر کے طلبہ سے میل جول، یہ سب مل کر ایسا ماحول بناتے ہیں جو دوسرے ملکوں میں کم نظر آتا ہے
دنیا کے تقریباً ہر بڑے ملک میں اچھی یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ لیکن جب عالمی درجہ بندی، تحقیق، نوبیل انعامات، سائنسی ایجادات، ٹیکنالوجی کمپنیوں یا عالمی اثر و رسوخ کی بات آتی ہے تو امریکی یونیورسٹیوں کا نام سب سے اوپر نظر آتا ہے۔ ہارورڈ، اسٹینفرڈ، ایم آئی ٹی، اور ژیل یونیورسٹی صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ عالمی طاقت، علم، دولت اور اثر و رسوخ کی علامتیں بن چکے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ امریکی یونیورسٹیاں آخر اتنی طاقتور کیوں ہیں؟ ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ اور کیا آج بھی امریکی ڈگری کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے؟
امریکی یونیورسٹیوں کی طاقت کی بنیاد صرف اچھی عمارتیں یا جدید لیبارٹریاں نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے۔ امریکا نے دوسری عالمی جنگ کے بعد تحقیق، سائنس اور اعلیٰ تعلیم پر بہت سرمایہ کاری کی۔ سرد جنگ کے دوران واشنگٹن کو احساس ہوا کہ اگر اسے سوویت یونین پر سبقت حاصل کرنی ہے تو بہترین سائنس دان، انجینئر اور محقق تیار کرنا ہوں گے۔ اسی دور میں امریکی یونیورسٹیوں کو وفاقی حکومت سے بڑے تحقیقی فنڈز ملنے لگے۔
آج بھی امریکی یونیورسٹیوں کی آمدنی کے کئی ذرائع ہیں۔ طلبہ کی فیس بعض اداروں میں حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ حکومت تحقیق کے لیے اربوں ڈالر دیتی ہے۔ بڑی کمپنیاں بھی یونیورسٹیوں میں سرمایہ لگاتی ہیں تاکہ نئی ٹیکنالوجی، دوائیں یا سافٹ ویئر تیار ہوسکیں۔ پھر ایک اور اہم ذریعہ انڈوومنٹ ہے، یعنی وہ مستقل فنڈز جو سابق طلبہ، صنعت کار اور خیراتی ادارے عطیات کی صورت میں دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہارورڈ یونیورسٹی کا انڈوومنٹ فنڈ 57 ارب ڈالر ہے۔ یہ رقم کئی چھوٹے ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح اسٹینفرڈ اور ژیل کے پاس بھی 40 ارب ڈالر سے زیادہ فنڈ موجود ہیں۔ یہی دولت انھیں دنیا کے بہترین اساتذہ، محققین اور سہولتیں فراہم کرنے کے قابل بناتی ہے۔
امریکی یونیورسٹیوں کی بڑی طاقت ان کی تحقیق ہے۔ بہت سی جدید ایجادات، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، جدید علاج اور خلائی ٹیکنالوجی ان یونیورسٹیوں اور ان سے جڑی لیبارٹریوں سے نکلیں۔ سلیکون ویلی اور اس کی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی کسی نہ کسی طرح امریکی جامعات سے جڑی ہوئی ہیں۔ سلیکون ویلی کی دنیا دراصل اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے آس پاس ہی آباد ہوئی۔
یہ امریکی یونیورسٹیاں صرف تعلیم نہیں دیتیں، وہ ایک تجربہ بھی فروخت کرتی ہیں۔ وسیع کیمپس، لائبریریاں، کھیل، مباحثے، ریسرچ کلچر، دنیا بھر کے طلبہ سے میل جول، یہ سب مل کر ایسا ماحول بناتے ہیں جو دوسرے ملکوں میں کم نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین، بھارت، پاکستان، عرب ریاستوں، افریقا اور یورپ تک سے لاکھوں طلبہ امریکا کا رخ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی طلبہ خاص طور پر اس لیے بھی آتے ہیں کہ امریکی ڈگری عالمی سطح پر قابلِ شناخت سمجھی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کے سی وی پر کولمبیا، برکلے یا ایم آئی ٹی کا نام ہو تو دنیا بھر کی کمپنیاں اور ادارے فوراً متوجہ ہوتے ہیں۔
امریکا کی بڑی یونیورسٹیوں میں طلبہ کی تعداد بھی حیران کن ہے۔ بعض نجی جامعات نسبتاً چھوٹی ہیں، مثلا ہارورڈ میں طلبہ کی مجموعی تعداد تقریباً پچیس ہزار کے قریب ہے۔ اسٹینفرڈ بھی نسبتاً محدود داخلے رکھتی ہے۔ اس کے برعکس سرکاری ادارے بہت بڑے ہیں۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی لاس اینجلس یا اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی جیسے اداروں میں دسیوں ہزار طلبہ پڑھتے ہیں۔
امریکا میں یونیورسٹی کی تعلیم دنیا میں مہنگی ترین ہوچکی ہے۔ اچھی نجی یونیورسٹی میں رہائش، فیس اور دوسرے اخراجات ملا کر سالانہ خرچ بعض اوقات ستر اسی ہزار ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ بہت سی سرکاری یونیورسٹیوں کی فیس بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکا میں طلبہ کے قرضے بڑا قومی مسئلہ بن چکے ہیں۔ لاکھوں نوجوان یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد برسوں قرض ادا کرتے رہتے ہیں۔ امریکا میں اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا یونیورسٹی کی ڈگری واقعی اپنی قیمت وصول کروا پاتی ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔
بعض شعبوں میں امریکی ڈگری اب بھی بے حد طاقتور سمجھی جاتی ہے۔ کمپیوٹر سائنس، طب، انجینئرنگ، قانون، بزنس اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں بڑی امریکی یونیورسٹیوں کے گریجویٹس اکثر اعلیٰ تنخواہوں والی ملازمتیں حاصل کرلیتے ہیں۔ بہت سی عالمی کمپنیاں براہِ راست انھیں کیمپسز سے بھرتیاں کرتی ہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ڈگری کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اگر کوئی طالب علم بہت مہنگی یونیورسٹی سے ایسا مضمون پڑھتا ہے جس کی مارکیٹ میں مانگ کم ہوتو وہ قرض اور بیروزگاری دونوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اب امریکا میں ریٹرن آف انویسٹمنٹ یعنی ڈگری کے معاشی فائدے پر کھل کر بحث ہورہی ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود امریکی یونیورسٹیاں اب بھی عالمی ذہانت کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ دنیا کے بہت سے ذہین ترین طالب علم اب بھی خواب دیکھتے ہیں کہ وہ امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھیں۔ وجہ صرف ڈگری نہیں بلکہ وہ عالمی نیٹ ورک، مواقع اور شناخت ہے جو ان اداروں سے جڑی ہوئی ہے۔ شاید یہی امریکی یونیورسٹیوں کی اصل طاقت ہے۔ وہ صرف کلاس روم نہیں چلاتیں بلکہ ایسا عالمی نظام فراہم کرتی ہیں جہاں علم، دولت، تحقیق، سیاست اور کاروبار ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے ان کی چمک اور کشش برقرار ہے۔