امریکی معیشت کتنی بڑی ہے؟

امریکی یونیورسٹیاں، بینک، ٹیکنالوجی کمپنیاں، فوجی اتحاد اور ڈالر مل کر ایک ایسا ڈھانچا بناتے ہیں جس کا متبادل موجود نہیں

امریکی معیشت کتنی بڑی ہے؟

دنیا کی معیشت کو اگر ایک بڑے شہر سے تشبیہ دی جائے تو امریکا اس کا مرکزی بازار ہے۔ یہاں سے پیسہ بھی نکلتا ہے، سرمایہ بھی آتا ہے، فیصلے بھی ہوتے ہیں اور بحران بھی پوری دنیا میں پھیلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی معیشت کھانستی ہے تو دنیا کو بخار محسوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن امریکا اتنا طاقتور کیسے بنا؟ وہ پیسہ کہاں سے کماتا ہے؟ ڈالر پوری دنیا پر کیوں حکمرانی کرتا ہے؟ اور کیا واقعی ایک دن امریکی معیشت ڈوب سکتی ہے؟

امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس کا حجم تقریباً تیس کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ دنیا کی کل معاشی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی امریکا اکیلا پیدا کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکا دنیا کی آبادی کا صرف چار فیصد ہے لیکن اس کی معاشی طاقت غیر معمولی ہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکا صرف فیکٹریاں چلا کر پیسہ کماتا ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ امریکی معیشت کی اصل طاقت صرف صنعت نہیں بلکہ خدمات، ٹیکنالوجی، مالیاتی نظام اور عالمی اثر و رسوخ ہے۔ ایپل، مائیکرسافٹ، گوگل، امیزون اور این ویڈیا جیسی کمپنیاں صرف مصنوعات نہیں بیچتیں بلکہ پوری دنیا کے ڈیجیٹل نظام پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ امریکی فلمیں، سافٹ ویئر، دوائیں، مالیاتی خدمات، یونیورسٹیاں حتیٰ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی امریکی معیشت کا حصہ ہیں۔

امریکا کی ایک بڑی طاقت اس کا مالیاتی نظام ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار امریکی معیشت کو دوسروں سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے لوگ اپنے پیسے امریکی بینکوں، اسٹاک مارکیٹ اور امریکی سرکاری بونڈز میں لگاتے ہیں۔ نیویارک کی وال اسٹریٹ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ عالمی سرمایہ داری کا اعصابی مرکز سمجھی جاتی ہے۔

مگر امریکی طاقت کی سب سے اہم بنیاد ڈالر ہے۔ آج دنیا میں زیادہ تر بین الاقوامی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ تیل کی خرید و فروخت سے لے کر عالمی قرضوں تک ہر جگہ ڈالر غالب ہے۔ سعودی عرب سے جاپان تک، پاکستان سے برازیل تک، ہر مرکزی بینک بڑی تعداد میں امریکی ڈالر اپنے ذخائر میں رکھتے ہیں۔ پوری دنیا کو تجارت اور مالی استحکام کے لیے ڈالر کی ضرورت رہتی ہے۔

یہ حیثیت امریکا کو غیر معمولی طاقت دیتی ہے۔ دوسرے ممالک کو پیسہ کمانے کے لیے برآمدات بڑھانی پڑتی ہیں لیکن امریکا اپنی کرنسی میں قرض لے سکتا ہے کیونکہ دنیا اس پر اعتماد کرتی ہے۔ اگر امریکا کو زیادہ اخراجات کرنے ہوں تو وہ مزید بونڈ جاری کرسکتا ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کار انھیں خرید لیتے ہیں۔

اسی وجہ سے امریکا پر قرض بھی بہت زیادہ ہے۔ امریکی قومی قرض 39 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ عام حالات میں اتنا بڑا قرض کسی ملک کے لیے خطرناک سمجھا جاتا، لیکن امریکا کے معاملے میں دنیا اس قرض کو برداشت کرتی آئی ہے کیونکہ ڈالر عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ یہی مالی طاقت امریکا کو عالمی سیاست میں بھی غیر معمولی کردار دیتی ہے۔ امریکا صرف اپنے اوپر خرچ نہیں کرتا بلکہ دنیا بھر میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے بجٹ میں امریکا سب سے بڑا حصہ دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ اسی طرح نیٹو میں بھی امریکا سب سے زیادہ فوجی اخراجات کرتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا نے یہ حکمتِ عملی اختیار کی کہ اگر دنیا میں امریکی اثر قائم رہے گا تو عالمی تجارت، ڈالر اور امریکی طاقت بھی محفوظ رہیں گے۔ اسی لیے امریکا نے یورپ، جاپان، جنوبی کوریا اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈے قائم کیے۔ اس نے اسرائیل، مصر، یوکرین، پاکستان اور دوسرے ملکوں کو مختلف اوقات میں اربوں ڈالر کی امداد دی۔ بعض اوقات یہ امداد انسانی بنیادوں پر دی گئی لیکن اکثر اس کے پیچھے سیاسی اور تزویراتی مقاصد بھی تھے۔

مثال کے طور پر سرد جنگ کے دوران امریکا نے سوویت یونین کے اثر کو روکنے کے لیے دنیا بھر میں اتحادی بنائے۔ بعد میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے مقابلے کے لیے بھی امریکا نے اپنے عالمی اتحاد مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔ گویا امریکا کا عالمی خرچ صرف سخاوت نہیں بلکہ اپنی طاقت کے تحفظ کا ایک طریقہ بھی ہے۔ مگر اب امریکا کے اندر ہی یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ نظام زیادہ دیر چل سکتا ہے؟

امریکی معیشت کے بارے میں خوف کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک طرف قومی قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف چین بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا میں سیاسی تقسیم بڑھتی جارہی ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر امریکا مسلسل قرض پر چلتا رہا تو ایک دن دنیا کا اعتماد کم ہوسکتا ہے۔ مگر امریکی معیشت کے ڈوبنے کا مطلب کیا ہوگا؟

حقیقت یہ ہے کہ امریکی معیشت اچانک کسی جہاز کی طرح سمندر میں غرق ہونے والی چیز نہیں۔ اگر بحران آیا بھی تو زیادہ امکان یہی ہے کہ اس کے رفتہ رفتہ کمزور ہونے کی شکل میں ہوگا۔ ڈالر کی عالمی حیثیت کچھ کم ہوسکتی ہے، چین اور دوسرے ممالک زیادہ بااثر ہوسکتے ہیں، یا امریکی ترقی کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔

لیکن اگر واقعی امریکا معاشی بحران کا شکار ہوا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں ہل جائیں گی۔ بہت سے ممالک کے زرمبادلہ ذخائر متاثر ہوں گے کیونکہ ان میں بڑی تعداد میں ڈالر موجود ہے۔ عالمی تجارت سست ہوسکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر روزگار تک ہر چیز متاثر ہوسکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، شدید بحران میں جاسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور بڑا سوال پیدا ہوگا۔ اگر امریکا کمزور ہوا تو عالمی نظام کو کون سنبھالے گا؟ چین ایک بڑی معاشی طاقت ضرور ہے لیکن دنیا کا مالیاتی اور سیاسی نظام ابھی تک بڑی حد تک امریکا کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی یونیورسٹیاں، بینک، ٹیکنالوجی کمپنیاں، فوجی اتحاد اور ڈالر مل کر ایک ایسا ڈھانچا بناتے ہیں جس کا متبادل موجود نہیں۔ شاید اسی لیے بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا امریکی معیشت کے خاتمے سے نہیں بلکہ اس کی کمزوری سے خوفزدہ ہے کیونکہ موجودہ عالمی نظام کی بنیادیں اسی معیشت پر کھڑی ہیں۔