امریکا میں طاقت کا توازن
امریکی صدر فوج کا سربراہ ہے لیکن بجٹ کے لیے کانگریس کا محتاج ہے، جج نامزد کرسکتا ہے لیکن منظوری سینیٹ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، ایگزیکٹو آرڈر کو عدالتیں منسوخ کرسکتی ہیں
دنیا کے بہت سے ملکوں میں طاقت ایک شخص، ایک جماعت یا ایک ادارے کے ہاتھ میں جمع ہوجاتی ہے۔ لیکن امریکا کا سیاسی نظام ایک مختلف خیال پر قائم کیا گیا تھا کہ کسی ایک شخص پر مکمل اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے امریکی آئین بنانے والوں نے حکومت کو تین حصوں میں تقسیم کیا، یعنی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی ادارہ اتنا طاقتور نہ ہوجائے کہ باقی سب کو دبا دے۔
امریکا میں اسے چیکس اینڈ بیلنسز کہا جاتا ہے، یعنی طاقت کا ایسا توازن جس میں ہر ادارہ دوسرے کو اس کی حد میں رکھے۔ دنیا کا طاقتور ترین شخص کہلانے والا امریکی صدر بھی بعض اوقات اپنے ملک کے نظام کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔
اس امریکی نظام کی بنیاد 1787 کے آئین میں رکھی گئی۔ اس زمانے میں امریکی رہنما برطانوی بادشاہت کے تجربے سے نکلے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ امریکا میں کوئی بادشاہ جیسا طاقتور حکمران پیدا ہو۔ اسی لیے انھوں نے اقتدار کو تقسیم کردیا۔
انتظامیہ کی قیادت صدر کرتا ہے۔ وہ فوج کا سربراہ ہے، خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، وفاقی اداروں کو چلاتا ہے اور دنیا بھر میں امریکا کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن وہ مطلق العنان نہیں۔
امریکی کانگریس، جو مقننہ ہے، دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان۔ یہی ادارہ قوانین بناتا ہے، بجٹ منظور کرتا ہے، ٹیکس عائد کرتا ہے اور حکومتی اخراجات کا فیصلہ کرتا ہے۔ تیسرا ستون سپریم کورٹ اور عدلیہ ہے، جو یہ دیکھتی ہے کہ حکومت کے اقدامات آئین کے مطابق ہیں یا نہیں۔
یہ نظام بظاہر سادہ لگتا ہے لیکن حقیقت میں طاقت کی پیچیدہ کشمکش ہے۔ امریکی صدر کے پاس غیر معمولی اختیارات ضرور ہیں۔ وہ فوج کو حرکت دے سکتا ہے، ایمرجنسی اختیارات استعمال کرسکتا ہے، عالمی معاہدوں پر مذاکرات کرسکتا ہے اور ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرسکتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو چند گھنٹوں میں پوری امریکی خارجہ پالیسی کا رخ بدل سکتا ہے۔
مثال کے طور پر صدر فرینکلن ڈی رزویلٹ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران وفاقی حکومت کو بے حد طاقتور بنادیا تھا۔ صرر جارج ڈبلیو بش نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن، تجارت اور خارجہ پالیسی میں کئی بڑے فیصلے ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے کیے۔
مگر ہر قدم پر صدر کے سامنے رکاوٹیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ کانگریس ہے۔ امریکی صدر جنگ کا ماحول بناسکتا ہے لیکن طویل جنگوں کے لیے پیسہ کانگریس دیتی ہے۔ صدر منصوبے پیش کرسکتا ہے لیکن بجٹ منظور نہیں کرسکتا۔ اگر کانگریس فنڈنگ روک دے تو حکومت کے کئی ادارے بند ہوسکتے ہیں۔ امریکا میں کئی بار گورنمنٹ شٹ ڈاون ہوچکا ہے کیونکہ صدر اور کانگریس بجٹ پر متفق نہیں ہوسکے۔ امریکی سیاست میں اکثر یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ صدر میڈیا میں طاقتور دکھائی دیتا ہے لیکن اصل فیصلہ کانگریس کے کمروں میں ہورہا ہوتا ہے۔
کانگریس کے پاس سب سے اہم طاقت قانون سازی کی ہے۔ اگر صدر کوئی قانون بنانا چاہتا ہے تو اسے کانگریس سے منظور کروانا پڑتا ہے۔ صدر ویٹو کرسکتا ہے لیکن کانگریس دو تہائی اکثریت سے ویٹو بھی ختم کرسکتی ہے۔ یہ آسان نہیں لیکن ممکن ہے۔
سینیٹ کے اختیارات خاص طور پر بے حد اہم ہیں۔ امریکی صدر ججوں، سفیروں اور اعلیٰ حکام کو نامزد تو کرسکتا ہے لیکن ان کی منظوری سینیٹ دیتی ہے۔ اسی لیے بعض اوقات اہم عہدے مہینوں خالی رہتے ہیں کیونکہ سینیٹ صدر کی پسند سے اتفاق نہیں کرتی۔ سپریم کورٹ کے جج بھی صدر نامزد کرتا ہے اور ان کی حتمی منظوری بھی سینیٹ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ بعض اوقات عدالتی تقرریاں بڑی سیاسی جنگ بن جاتی ہیں۔
کانگریس کے پاس تحقیقات کی طاقت بھی ہے۔ وہ صدر، اس کے وزیروں اور سرکاری اداروں کے حکام کو طلب کرسکتی ہے، دستاویزات مانگ سکتی ہے اور عوامی سماعتیں کرسکتی ہے۔ بعض اوقات یہ تحقیقات صدر کی سیاسی طاقت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
امریکی تاریخ میں کئی صدور کانگریس کے سامنے کمزور پڑ گئے۔ صدر رچرڈ نکسن واٹرگیٹ اسکینڈل کے دوران اسی دباؤ کے باعث مستعفی ہوئے۔ صدر بل کلنٹن اور صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائیاں بھی کانگریس نے چلائیں۔
امریکی آئین کے مطابق اگر صدر پر سنگین الزامات ہوں تو ایوانِ نمائندگان مواخذہ کرسکتا ہے، یعنی باضابطہ فرد جرم عائد کرسکتا ہے۔ اس کے بعد سینیٹ مقدمے کی طرح سماعت کرتی ہے۔ اگر دو تہائی ارکان صدر کے خلاف ووٹ دیں تو اسے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ آج تک کسی امریکی صدر کو اس طریقے سے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا لیکن صرف مواخذے کی کارروائی بھی سیاسی طور پر بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
کانگریس کے علاوہ عدلیہ بھی صدر کو روک سکتی ہے۔ سپریم کورٹ اگر کسی صدارتی اقدام کو غیر آئینی قرار دے دے تو وہ فیصلہ عملاً ختم ہوجاتا ہے۔ کئی امریکی صدور کو عدالتوں نے روکا ہے۔ صدر بارک اوباما کی بعض امیگریشن پالیسیاں عدالتوں میں رک گئیں۔ صدر ٹرمپ کے بعض سفری پابندیوں والے احکامات کو بھی ابتدائی طور پر عدالتی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی صدر بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی فوج کا سربراہ ہے لیکن بجٹ کے لیے کانگریس کا محتاج ہے۔ وہ جج نامزد کرسکتا ہے لیکن سینیٹ کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کرسکتا ہے لیکن عدالتیں انھیں منسوخ کرسکتی ہیں۔
امریکی نظام کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف جماعتیں مختلف اداروں پر قابض ہوسکتی ہیں۔ صدر ایک جماعت سے ہوسکتا ہے جبکہ کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں دوسری جماعت کے پاس اکثریت ممکن ہے۔ ان حالات میں صدر کے لیے کام کرنا اور مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے امریکی سیاست اکثر مسلسل کشمکش کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہاں طاقت سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ مختلف ادارے ایک دوسرے کو کھینچتے رہتے ہیں۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے نظام سست ہوجاتا ہے لیکن اس کے حامی کہتے ہیں کہ یہی سستی دراصل آمریت سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔