امریکا میں آٹسٹک بچوں کو کیسے پڑھایا جاتا ہے؟

آٹزم کلاسوں کا مقصد بچوں کو محض مصروف رکھنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ وہ معاشرے میں زیادہ بااعتماد اور زیادہ خودمختار زندگی گزار سکیں

امریکا میں آٹسٹک بچوں کو کیسے پڑھایا جاتا ہے؟

آپ امریکا کے کسی اسکول میں آٹزم کے بچوں کی کلاس میں پہلی بار داخل ہوں گے تو شاید کچھ حیرت کا سامنا ہو۔ یہ روایتی کلاس روم نہیں ہوتا جہاں بیس پچیس بچے قطاروں میں بیٹھے استاد کا لیکچر سنتے ہیں۔ وہاں سات آٹھ بچے ملیں گے جن کے ساتھ ایک استاد اور دو معاونین ہوں گے۔ کوئی بچہ تصویری کارڈز کی مدد سے اپنی ضرورت بیان کرنا سیکھ رہا ہوگا، کوئی کمپیوٹر پر الفاظ پہچاننے کی مشق کررہا ہوگا، کوئی ٹیچر کے ساتھ بیٹھ کر دوسروں سے نظریں ملانے یا باری کا انتظار کرنے جیسی سماجی مہارتیں سیکھتا نظر آئے گا۔ بظاہر یہ ایک عام کلاس سے مختلف منظر ہے، لیکن اس کا مقصد وقت گزارنا نہیں بلکہ بچوں کو اپنی آئندہ زندگی میں کسی حد تک خودمختار بنانا ہے۔

امریکہ میں آٹزم کے شکار بچوں کی تعلیم ایک باقاعدہ پیشہ ورانہ شعبہ ہے جس کے لیے مخصوص تربیت اور سرکاری لائسنس درکار ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کے اساتذہ عام طور پر اسپیشل ایجوکیشن میں بیچلر یا ماسٹرز ڈگری رکھتے ہیں۔ تدریس شروع کرنے سے پہلے انھیں ٹیچنگ لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے اور دورانِ ملازمت پیشہ ورانہ تربیت بھی مسلسل جاری رہتی ہے۔ بعض ریاستوں میں آٹزم یا بیہیوئیر منیجمنٹ سے متعلق اضافی سرٹیفکیٹس بھی درکار ہوتے ہیں۔ امریکی ماہرِ تعلیم ٹیمپل گرینڈن اپنی کتاب دا آٹسٹک برین میں لکھتی ہیں کہ آٹزم والے بچوں کو سمجھنے کے لیے صرف طبی معلومات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ استاد کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ بچہ دنیا کو کس طرح دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔

کلاس روم میں استاد اکیلا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ایک یا زیادہ پیرا ایجوکیٹرز یا ٹیچنگ اسسٹنٹس بھی کام کرتے ہیں۔ ان معاونین کو بھی تربیت دی جاتی ہے، اگرچہ ان کے لیے ڈگری ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اسکول ڈسٹرکٹس ہائی اسکول ڈپلوما یا ایسوسی ایٹ ڈگری کو کافی سمجھتے ہیں۔ لیکن انھیں بیہیوئیر منیجمنٹ، حفاظتی طریقۂ کار، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور خصوصی ضرورتوں والے بچوں کے ساتھ کام کرنے کی تربیت لینی پڑتی ہے۔ کئی صورتوں میں یہی معاونین بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اور استاد کے طے کردہ اہداف پر روزانہ کام کراتے ہیں۔

ایسی کلاسوں میں بچوں کی تعداد عام کلاسوں سے کم ہوتی ہے۔ ایک کلاس میں چھ سے آٹھ بچے ہوتے ہیں، جبکہ بعض شدید ضرورت والے بچوں کو الگ معاون فراہم کیا جاتا ہے جسے ون آن ون کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آٹسٹک بچے مستقل رہنمائی اور فوری توجہ کے بغیر مطلوبہ پیشرفت نہیں کرسکتے۔ اگر ایک استاد کے سامنے بیس بچے بٹھا دیے جائیں تو انفرادی توجہ کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

آٹزم پروگراموں میں کامیابی کا معیار ریاضی یا انگریزی کے نمبر نہیں ہوتے۔ ہر بچے کے لیے انڈیویجوئل ایجوکیشن پلان یعنی لیے انفرادی تعلیمی منصوبہ تیار کیا جاتا ہے جسے مختصراََ آئی ای پی کہا جاتا ہے۔ اس میں واضح اہداف درج ہوتے ہیں کہ اگلے چند ماہ یا ایک سال کے دوران بچہ کیا سیکھے گا۔ کسی بچے کے لیے ہدف یہ ہوسکتا ہے کہ وہ زبانی طور پر اپنی ضرورت بیان کرنا سیکھ لے، کسی کے لیے دوسروں کے ساتھ پانچ منٹ تک کام میں تعاون کرنا، اور کسی کے لیے بنیادی پڑھائی یا حساب کتاب میں بہتری حاصل کرنا۔ ہر ہفتے اور ہر مہینے ان اہداف پر پیشرفت دیکھی جاتی ہے اور والدین کو تحریری طور پر مسلسل باخبر رکھا جاتا ہے۔

صحافی اسٹیو سلبرمین اپنی کتاب نیورو ٹرائبس میں لکھتے ہیں کہ آٹزم کے بارے میں جدید سوچ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہر بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق ترقی کا موقع دیا جائے، نہ کہ اسے کسی ایک سانچے میں فٹ کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہی فلسفہ امریکی اسپیشل ایجوکیشن نظام میں نظر آتا ہے۔ بعض طلبہ بعد میں کالج تک پہنچ جاتے ہیں، بعض کو عام کلاسوں منتقل کردیا جاتا ہے، جبکہ کچھ بچوں کے لیے کامیابی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کپڑے پہن سکیں، خریداری کرسکیں یا بس میں سفر کرنا سیکھ جائیں۔

خاص بات یہ ہے کہ استاد طلبہ کی ہر سرگرمی کے دوران ڈیٹا جمع کرتا ہے، نوٹس لیتا ہے اور ریکارڈ کرتا ہے کہ بچہ اپنے ہدف کے کتنے قریب پہنچا ہے۔ اگر کوئی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہ ہو تو اسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر بچہ ایک ہدف حاصل کرلے تو نیا ہدف مقرر کیا جاتا ہے۔

امریکا میں آٹزم کی تعلیم کو محض نگہداشت یا نگرانی کا عمل نہیں سمجھا جاتا۔ یہ ایک طویل، مہنگا اور محنت طلب تعلیمی منصوبہ ہوتا ہے جس میں استاد، معاونین، والدین، ماہرینِ نفسیات، اسپیچ تھراپسٹ اور دوسرے ماہرین مل کر کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد بچوں کو مصروف رکھنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ وہ معاشرے میں زیادہ بااعتماد اور زیادہ خودمختار زندگی گزار سکیں۔


The Autistic Brain: Thinking Across The Spectrum by Richard Panek and Temple Grandin

NeuroTribes: The Legacy of Autism and the Future of Neurodiversity by Steve Silberman