امریکا کی سات قدیم ترین مساجد
مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز کا ریکارڈ 1900 میں شمالی ڈکوٹا کے قصبے رَوس میں ملتا ہے، ابتدائی باجماعت نمازیں گھروں، کرائے کے ہالوں یا چھوٹے کمیونٹی مراکز میں ادا کی جاتی تھیں
امریکی سرزمین پر پہلی نماز ان افریقی غلاموں نے پڑھی جنھیں ہسپانوی بردہ فروش اغوا کرکے یہاں لائے۔ ان غلاموں میں سے بعض نے اپنی یادداشتیں لکھیں اور کئی رہائی پاکر واپس بھی گئے۔ ان میں ایک نام سینیگال کے ایوبا سلیمان دیالو کا ہے جو باعمل مسلمان تھے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے پلورزم پروجیکٹ کے مطابق انیسویں صدی کے اواخر میں شام، لبنان اور موجودہ اردن کے علاقوں سے مسلمان تارکینِ وطن امریکا پہنچنا شروع ہوئے۔ بعد میں جنوبی ایشیا، بوسنیا اور مشرقی یورپ کے مسلمان بھی مختلف ریاستوں میں آباد ہوئے۔ ان میں سے بہت سے لوگ مڈویسٹ کے صنعتی شہروں میں مزدوری یا چھوٹے کاروبار کرتے تھے۔ وہ گھروں میں انفرادی یا اجتماعی نمازیں ادا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ مختلف شہروں میں چھوٹی اسلامی انجمنیں وجود میں آئیں۔ ان میں ڈیٹرائٹ کی ہلال احمر سوسائٹی اور نیویارک، شکاگو اور سیڈر ریپڈز کی مسلم کمیونٹیاں شامل تھیں۔ ابتدائی باجماعت نمازیں گھروں، کرائے کے ہالوں یا چھوٹے کمیونٹی مراکز میں ادا کی جاتی تھیں کیونکہ ابتدائی مسلم آبادی نہ تو خوشحال تھی اور نہ ہی تعداد میں اتنی بڑی کہ بڑی مذہبی عمارتیں تعمیر کرسکتی۔
امریکا میں مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز کا ریکارڈ 1900 میں شمالی ڈکوٹا کے قصبے رَوس میں ملتا ہے۔ باقاعدہ مسجد 1929 میں تعمیر کی گئی جو عبادت کے ساتھ سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھی۔ یہ سجد ایک دورافتادہ اور تقریباً ویران علاقے میں قائم تھی، جہاں شامی اور لبنانی مسلمان آباد ہوئے تھے۔ 1979 میں اس مسجد کو ختم کردیا گیا۔ 2005 میں گنبد اور چار میناروں والی نئی عمارت تعمیر کی گئی تاکہ اس قدیم مسلم کمیونٹی کی یادگار باقی رہے۔
ہسٹری چینل کے مطابق امریکا میں سب سے قدیم مسجد شکاگو میں احمدیہ جماعت کے مبلغ مفتی محمد صادق نے 1922 میں قائم کی۔ ابتدا میں یہ دو منزلہ عمارت تھی جس کا نام احمدیہ مسلم موسک اینڈ مشن ہاوس تھا۔ اس کا ایک گنبد اور دو مینار تھے۔ اب اسے جدید طرز پر تعمیر کیا جاچکا ہے اور اس کا نام بانی کے نام پر الصادق مسجد ہوچکا ہے۔
بروکلین مسلم موسک نیویارک کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ یہ ایک پرانا دو منزلہ چرچ تھا جسے مشرقی یورپ کے تاتاری مسلمانوں نے 1927 میں خرید کر مسجد میں تبدیل کیا۔ یہ کمیونٹی لیتھوانیا، پولینڈ اور بیلاروس سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ ولیمز برگ، بروکلین میں واقع اس مسجد کا پرانا نام پاور اسٹریٹ موسک تھا۔ اب یہاں روزانہ باجماعت نماز نہیں ہوتی۔
تاریخی حوالوں میں اکثر مدر موسک آف امریکا کا ذکر سب سے زیادہ کیا جاتا ہے کیونکہ یہ پہلی پرپز بلٹ یعنی خاص طور پر بنائی گئی مسجد تھی، عارضی یا کسی عمارت میں تبدیلی کرکے نہیں بنائی گئی تھی۔ ریاست آئیووا کے شہر سیڈر ریپڈز میں یہ مسجد 1934 میں شامی اور لبنانی مسلمانوں نے تعمیر کی۔ اس مسجد کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم پورے امریکا میں چلائی گئی اور شکاگو، ڈیٹرائٹ اور دوسرے شہروں کے مسلمانوں نے بھی تعاون کیا۔ ابتدا میں اسے روز آف فریٹرنٹی لاج اینڈ مسلم ٹیمپل کہا گیا۔ یہ کمیونٹی سینٹر کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی اور یہاں عرب دنیا سے لائے گئے قدیم قرآن بھی محفوظ کیے گئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مقامی مسلم آبادی بڑھی تو نئی اور بڑی مسجد تعمیر کی گئی، جبکہ مدر مسک کو امریکی اسلامی ورثے کی علامت کے طور پر محفوظ رکھا گیا۔
ریاست مشی گن کے شہر ڈئیربورن میں مقامی فورڈ موٹر کمپنی قائم ہوئی تو اس میں کام کرنے کے لیے بہت سے لبنانی تارکین وطن آئے۔ انھوں نے امریکن مسلم سوسائٹی کے نام سے انجمن بناکر 1938 میں ایک گھر میں مسجد قائم کی۔ یہ پہلی امریکی مسجد تھی جسے 1980 کی دہائی میں لاوڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت ملی۔ اب یہاں 48 اسکوائر فٹ رقبے پر عظیم الشان مسجد بن چکی ہے جس میں ایک مدرسہ بھی موجود ہے۔
امریکا میں اسلامی شناخت کے فروغ میں اسلامک سینٹر آف واشنگٹن کا کردار بھی غیرمعمولی رہا۔ 1952 میں قائم ہوئی اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں صدر آئزن ہاور نے شرکت کی تھی۔ انھوں نے اسے واشنگٹن کی خوبصورت ترین عمارتوں میں سے ایک قرار دیا۔ یہ مسجد اس بات کی علامت تھی کہ اسلام صرف تارکینِ وطن کی محدود مذہبی شناخت نہیں رہا بلکہ امریکی عوامی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کی مسجد محمد ابتدا میں نیشن آف اسلام ٹیمپل فور کہلاتی تھی اور اس کے قیام میں میلکم ایکس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1975 میں امام وارث الدین محمد کی قیادت میں اسے مرکزی سنی اسلام سے جوڑ دیا گیا۔ یہ مسجد غلام بناکر لائے گئے افریقی مسلمانوں کی اولاد کے لیے اہم مذہبی اور ثقافتی مرکز بنی۔ یہاں نماز کے طریقے، قبلے کی سمت اور مسجد کی داخلی ترتیب تک تبدیل کی گئی تاکہ اسے روایتی اسلامی مسجد کی شکل دی جاسکے۔
آج امریکا میں تقریباً تین ہزار مساجد قائم ہیں، لیکن ان قدیم مساجد کی تاریخی اور علامتی اہمیت برقرار ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ اسلام امریکا میں کوئی نیا یا بیرونی مذہب نہیں بلکہ ایک پرانی اور مسلسل روایت ہے۔ غلامی کے دور کی خفیہ نمازوں سے آئیووا اور بروکلین کی مساجد تک امریکی مسلم تاریخ بقا، شناخت اور قبولیت کی طویل داستان ہے۔
History Channel: The 7 Oldest Mosques in America