امریکا کا ایک عجیب کالج

یہاں کوئی روایتی امتحان نہیں، نصابی کتابیں نہیں، لرننگ مینجمنٹ سسٹم نہیں اور نہ ہی ہر مضمون کے لیے تفصیلی تعلیمی اہداف اور روبریکس ہیں

امریکا کا ایک عجیب کالج

بیتھ مک مرٹری

امریکہ میں اعلیٰ تعلیم اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ یونیورسٹیاں نئی ٹیکنالوجی، جدید سہولتوں، نوع بہ نوع مضامین اور پُرکشش کیمپس زندگی کے ذریعے طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوسری طرف اساتذہ مسلسل شکایت کرتے ہیں کہ طلبہ مطالعے سے دور ہوتے جارہے ہیں، کلاس میں تیاری کے ساتھ نہیں آتے اور تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ ایسے ماحول میں میری لینڈ کی ایک چھوٹی سی درس گاہ کسی اور زمانے کی یادگار معلوم ہوتی ہے۔ لیکن شاید یہی "پرانا" ادارہ، سینٹ جانز کالج، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیکھنے کا اصل مطلب کیا ہے۔

ایک سرد شام سینٹ جانز کالج میں چند طالب علم اور دو اساتذہ دانتے کی ڈیوائن کامیڈی پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے۔ سوال یہ تھا کہ دانتے کے نزدیک آزادی کیا ہے اور اس کی سمجھ وقت کے ساتھ کیسے بدلتی ہے۔ دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک طلبہ نے متن کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کمرے میں نہ کوئی لیپ ٹاپ تھا، نہ موبائل فون۔ صرف کتابیں تھیں، سوالات تھے اور ان سوالات پر غور کرتے لوگ۔

سینٹ جانز کا پورا تعلیمی نظام اسی تصور پر قائم ہے کہ سیکھنا ایک فعال عمل ہے۔ یہاں طلبہ محض معلومات حاصل نہیں کرتے بلکہ سوالات اٹھاتے ہیں، دلائل کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنے خیالات کو دوسروں کے سامنے پرکھتے ہیں۔ اساتذہ کو یہاں "ٹیوٹر" کہا جاتا ہے اور ان کا کردار لیکچر دینے والے ماہرین کا نہیں بلکہ ایسے رہنماؤں کا ہے جو طلبہ کے ساتھ مل کر علم کی تلاش میں شریک ہوتے ہیں۔

یہ کالج کئی اعتبار سے غیرمعمولی ہے۔ یہاں تقریباً کوئی روایتی امتحان نہیں، نصابی کتابیں نہیں، لرننگ مینجمنٹ سسٹم نہیں، اور نہ ہی ہر مضمون کے لیے تفصیلی تعلیمی اہداف اور روبریکس ہیں۔ طلبہ چار سال تک کلاسیکی اور بنیادی متون کا مطالعہ کرتے ہیں۔ فلسفہ، ادب، ریاضی، سائنس، موسیقی، یونانی اور فرانسیسی زبان سب نصاب کا حصہ ہیں۔ مقصد کسی خاص پیشے کی تیاری نہیں بلکہ سوچنے کی صلاحیت کو نکھارنا ہے۔

سینٹ جانز کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں طلبہ کو اختلاف رائے سے ڈرایا نہیں جاتا۔ ایک طالب علم جونا کوہن نے بتایا کہ ہائی اسکول میں اگر کوئی اس کی رائے سے اختلاف کرتا تو وہ اسے ذاتی حملہ سمجھتا تھا۔ لیکن یہاں اس نے سیکھا کہ کسی کے خیالات کو چیلنج کرنا دراصل اس کے ساتھ احترام کا برتاؤ ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اسے دلیل سے سوچنے اور اپنا مؤقف بدلنے کے قابل سمجھتے ہیں۔

یہ رویہ آج کی دنیا میں خاص طور پر اہم معلوم ہوتا ہے، جہاں اختلاف رائے اکثر دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ سینٹ جانز میں طلبہ بحث جیتنے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کے قریب پہنچنے کے لیے گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی باتوں کا آغاز اکثر "میں سوچ رہا تھا" یا "میرا خیال ہے کہ" جیسے فقروں سے ہوتا ہے۔ مقصد اپنی ذہانت کا مظاہرہ نہیں بلکہ اجتماعی طور پر کسی مسئلے کو سمجھنا ہوتا ہے۔

کالج کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ تعلیم کلاس روم تک محدود نہیں رہتی۔ طلبہ کھانے کی میزوں پر، ہاسٹلوں میں، کافی کے کپ کے ساتھ اور غیر رسمی مطالعہ گروپوں میں بھی انھیں موضوعات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ کسی گروپ میں کیرکیگارڈ زیر بحث ہوتا ہے، کہیں ایمرسن، کہیں ہائیکو شاعری اور کہیں کیلکولس۔ یوں مطالعہ ایک تعلیمی فریضہ نہیں بلکہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

سینٹ جانز کے طلبہ شروع میں شدید مشکلات کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ بہت سے طلبہ کو لگتا ہے کہ وہ غلط جگہ پہنچ گئے ہیں۔ بعض اوقات وہ ریاضی یا سائنس کے متون کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ انھیں اپنی پرانی تعلیمی عادات ترک کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن یہی جدوجہد ان کی تربیت کا حصہ بنتی ہے۔ وہ سیکھتے ہیں کہ ہر مسئلے کا فوری حل ضروری نہیں، اور یہ کہ الجھن بھی سیکھنے کے عمل کا لازمی مرحلہ ہے۔

یہاں سائنس کی تعلیم بھی منفرد انداز میں دی جاتی ہے۔ طلبہ جدید نصابی کتابوں سے آغاز نہیں کرتے بلکہ ارسطو، گلیلیو، نیوٹن، آئن اسٹائن اور بوہر جیسے مفکرین کے اصل متون پڑھتے ہیں۔ وہ ان تجربات کو دوبارہ انجام دیتے ہیں جنھوں نے انسانی علم کو نئی سمت دی۔ اس طرح انھیں صرف نتائج نہیں ملتے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نتائج کیسے حاصل کیے گئے۔

اسی طرح ریاضی میں طلبہ اقلیدس کی "ایلیمنٹس" سے آغاز کرتے ہیں۔ مقصد فارمولے رٹوانا نہیں بلکہ ان سوالات کو سمجھنا ہوتا ہے جنھوں نے ریاضی کی بنیاد رکھی۔ کالج کی صدر سوسن پال مین، جو خود بایوفزکس میں ڈاکٹریٹ رکھتی ہیں، کہتی ہیں کہ اس طریقے سے طلبہ سائنس کے بنیادی سوالات کو اس گہرائی سے سمجھتے ہیں جس طرح روایتی تعلیم میں کم ہی ممکن ہوتا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ یہاں اساتذہ بھی مسلسل سیکھتے رہتے ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مختلف مضامین پڑھائیں گے، چاہے ان کا اصل تخصص کچھ بھی ہو۔ فلسفے کا استاد ریاضی پڑھا سکتا ہے اور سائنس کا استاد ادب پر گفتگو کرسکتا ہے۔ اس سے کلاس روم میں ایک منفرد فضا پیدا ہوتی ہے جہاں استاد بھی خود کو طالب علم سمجھتا ہے۔

اگرچہ سینٹ جانز کا ماڈل مکمل طور پر ہر جگہ نافذ نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس کی بعض بنیادی باتیں قابلِ تقلید ہیں۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ سیکھنا ایک اجتماعی عمل ہے۔ جب طلبہ اور اساتذہ مل کر کسی مسئلے پر غور کرتے ہیں تو علم محض معلومات کے ذخیرے میں تبدیل نہیں ہوتا بلکہ ایک زندہ تجربہ بن جاتا ہے۔

شاید اسی لیے اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ بار بار ایک بات دوہراتے ہیں۔ ان کے مطابق سینٹ جانز نے انھیں مخصوص جوابات نہیں دیے بلکہ بہتر سوالات پوچھنا سکھایا۔ اس نے انھیں اعتماد دیا کہ اگر وہ کسی نئی صورتحال یا مشکل مسئلے سے دوچار ہوں تو کیسے اس کا راستہ نکال سکتے ہیں۔

آج جب اعلیٰ تعلیم کو اکثر ملازمت، گریڈ اور ریزیومے تک محدود کردیا جاتا ہے، سینٹ جانز کالج ایک یاد دہانی ہے کہ یونیورسٹی کا مقصد صرف پیشہ ور افراد تیار کرنا نہیں بلکہ سوچنے والے انسان پیدا کرنا بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ چھوٹا سا "عجیب" کالج جدید تعلیم کے بارے میں کچھ ایسی باتیں جانتا ہے جو بہت سی بڑی یونیورسٹیاں بھول چکی ہیں۔


بیتھ مک مرٹری کا انگریزی مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

Chronicle of Higher Education: St. John’s College Is Weird. Maybe Yours Should Be More Like It.