مارکونی کی ایجاد سے قتل کے ملزم کی گرفتاری
ایرک لارسن کی کتاب تھنڈراسٹرک میں قتل کے انوکھے کیس کا قصہ، بحری جہاز کے کپتان نے ریڈیائی نظام سے پولیس کو پیغام بھیجا، پہلی بار کسی گرفتاری میں وائرلیس مواصلات استعمال ہوئی
تھنڈراسٹرک کی کہانی دو بالکل مختلف انسانوں کے درمیان ایک انوکھے تعلق کو بیان کرتی ہے۔ ان میں سے ایک ہیں گگلیلمو مارکونی، ایک ذہین موجد، جنھوں نے صرف 20 سال کی عمر میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ریڈیائی لہروں پر مبنی وائرلیس ٹیلی گراف نظام ایجاد کیا۔ لیکن مارکونی ایک بے لوث سائنسدان سے زیادہ ایک تاجر قسم کا آدمی تھا اور اس کی خواہشات کی کوئی حد نہ تھی۔
دوسرے شخص کی کہانی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ یہ ہیں ڈاکٹر ہالی ہاروے کرپن، جو "معجزاتی علاج" بیچ کر روزی کماتے تھے۔ لیکن جب حکومت نے پیٹنٹ دوا کی صنعت پر پابندی لگانا شروع کی تو ان کی مشکلات بڑھ گئیں۔ ان دونوں کے درمیان تمام تر فرق کے باوجود ایک قدر مشترک تھی۔ دونوں نے خوبصورت لڑکیوں سے محبت کی، دونوں ناکام شوہر ثابت ہوئے لیکن ان میں سے ایک قاتل بنا۔
کرپن کا تعارف ایک سادہ اور نیک نام گھرانے سے ہوتا ہے۔ وہ مشی گن کے قصبے کولڈواٹر میں پلے بڑھے، جہاں ان کے خاندان نے ایک میتھوڈسٹ گرجا گھر کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔ انھیں انتہائی مذہبی سمجھا جاتا تھا۔ کرپن نے ہومیوپیتھی کے ذریعے اچھی آمدنی حاصل کی۔ پھر ایک ایسی کمپنی میں کام کیا جو معجزاتی علاج کا دعوی کرتی تھی۔ 1893 کے کساد بازاری کے دور میں ان کی آمدنی کم ہوگئی۔
کرپن کی شادی کورا ٹرنر سے ہوئی جو صرف 17 سال کی عمر میں بڑے اسٹیج پر گانے کے خواب دیکھتی تھی۔ کورا کو ہر ماہ شدید تکلیف ہوتی تھی، اس لیے اس کی بیضہ دانیاں آپریشن کے ذریعے نکال دی گئیں۔ اس سے یہ جوڑا ہمیشہ کے لیے بے اولاد ہوگیا اور کورا کے پیٹ پر ایک بڑا نشان رہ گیا۔ ان کی ازدواجی زندگی ناخوشگوار رہی۔ کورا دوسرے مردوں سے تعلقات رکھتی تھی۔ کرپن یہ جاننے کے باوجود اسے چھوڑ نہ سکا۔ یہاں تک کہ وہ بروس ملر کے ساتھ اس کی راتوں کے اخراجات بھی برداشت کرتا رہا۔ دونوں نے بظاہر شادی برقرار رکھی لیکن حقیقت میں ایک دوسرے سے بالکل الگ زندگی گزارنے لگے۔
ادھر مارکونی نے جرمن طبیعیات دان ہائنرش ہرٹز کے تجربات سے متاثر ہو کر وائرلیس مواصلاتی آلے پر کام شروع کیا۔ اس زمانے کے ماہر سائنسدان طویل فاصلے کی وائرلیس ترسیل کو ناممکن سمجھتے تھے۔ لیکن مارکونی روایتی سائنسدان نہیں تھا بلکہ ایک عملی موجد تھا۔ وہ بار بار کوشش کرتا اور تجربہ کرتا رہتا۔ اس کے والدہ نے اس کا ساتھ دیا مگر والد نے نہیں۔ بالآخر مارکونی کامیاب ہوا اور اپنا آلہ لے کر لندن روانہ ہو گیا۔ لیکن جیسے ہی ٹرین سے اترا، پولیس نے اس کا آلہ ضبط کر لیا اور اسے بم سمجھ کر فوراً توڑ دیا۔
اس ناکامی کے باوجود مارکونی نے ہمت نہ ہاری اور ایک نیا آلہ بنایا۔ اس نے برطانوی پوسٹ آفس کے چیف الیکٹریشن ولیم پریس سے ملاقات کی۔ پریس فوری طور پر اس ایجاد کے گرویدہ ہو گئے اور مارکونی کے تجربات میں بھرپور تعاون کیا۔ لیکن مارکونی نے بعد میں سرکاری سرپرستی چھوڑ کر نجی کاروبار اختیار کیا۔ مارکونی کی ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کرانے کی کوشش نے سائنسی برادری کو ناراض کیا۔
مارکونی کا ہدف بحر اوقیانوس کے پار وائرلیس پیغام بھیجنا تھا۔ اس نے آٹھ میل رقبے پر ایک پاور اسٹیشن بنایا اور اونچے اینٹینا نصب کیے، حالانکہ اس نے انجینئرنگ کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ جب موسم نے اس کی تنصیب برباد کردی تو اس نے پتنگوں سے تاریں اڑا کر سگنل وصول کرنے کی کوشش کی۔ مارکونی حوصلہ نہ ہارا اور بالآخر ٹرانس اٹلانٹک مواصلات میں کامیابی حاصل کی۔ اسی دوران اس نے خوبصورت نوجوان خاتون بیاتریچے سے محبت کی شادی کرلی۔ پھر اسے لے کر دنیا کی سیاحت پر نکل پڑا۔ جب بیاتریچے نے دوسرے بچے کو جنم دیا تو مارکونی سمندر میں تھا۔ بیاتریچے نے بحر اوقیانوس میں موجود مارکونی کو وائرلیس ٹیلی گرام بھیج کر گھر بلایا جو اس ٹیکنالوجی کی خوبصورت عملی مثال تھی۔
ادھر کرپن کی زندگی میں نیا موڑ آیا جب وہ اپنی ریسیپشنسٹ ایتھل لی نیو سے محبت کرنے لگا۔ پھر اس کی بیوی کورا اچانک غائب ہو گئی۔ کرپن نے دوستوں کو بتایا کہ وہ امریکا چلی گئی ہے۔ کچھ دن بعد اس کی موت کی اطلاع دی۔ اب ایتھل کرپن کے گھر آ گئی اور کورا کے زیورات پہننے لگی۔ اس سے کورا کے دوستوں کو شک ہوا۔ دو افراد نے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے رابطہ کیا۔
ابتدا میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کو یہ معاملہ بے ضرر لگا۔ ایک ناخوشگوار شادی کے بعد شوہر زندگی میں آگے بڑھ گیا۔ لیکن جب کرپن سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کورا دراصل زندہ ہے۔ اس اعتراف کے فوری بعد کرپن نے ایتھل کو لڑکے کا بھیس دیا، اس کے بال کٹوائے، اپنی مونچھیں مونڈیں اور رابنسن کے نام سے باپ اور بیٹے کے روپ میں فرار ہو گئے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے انسپکٹر ڈیو نے کرپن کے گھر کی تین بار تلاشی لی اور ہر بار تہہ خانے پر رکتا رہا۔ چوتھی بار اس نے اینٹیں اکھاڑیں تو وہاں سے انسانی باقیات ملیں۔
یہ باقیات انتہائی بری حالت میں تھیں۔ تمام اعضا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے لیکن جسم سے الگ کردیے گئے تھے۔ سر، ہاتھ، پاؤں اور کمر کی ہڈی غائب تھی تاکہ جنس کا تعین ممکن نہ ہو۔ لیکن دو نشانات نے شناخت ممکن بنائی۔ رنگے ہوئے بالو اور جلد پر وہ بڑا نشان جو بیضہ دانیوں کے آپریشن سے بنا تھا۔ یوں ثابت ہوا کہ کرپن نے بیوی کو قتل کیا تھا۔ اس کی تلاش شروع ہوگئی۔
کرپن اور ایتھل بحری جہاز مونٹروز پر سفر کررہے تھے۔ انھیں کوئی اندازہ نہ تھا کہ کپتان نے سفر کے تیسرے دن ہی مارکونی کے وائرلیس نظام کے ذریعے پولیس کو پیغام بھیج دیا تھا، جو تاریخ کے مشہور ترین وائرلیس پیغامات میں سے ایک بنا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی مجرم کی گرفتاری میں وائرلیس مواصلات استعمال ہوئی۔ انسپکٹر ڈیو ایک تیز رفتار جہاز پر سوار ہوکر مونٹروز سے پہلے کینیڈا کی بندرگاہ پر پہنچ گیا۔ اس دوران پوری دنیا مارکونی کے ذریعے اس تعاقب کی خبریں پڑھ رہی تھی۔ صحافی بندرگاہ پر جمع ہو گئے۔
کرپن کے لیے یہ سفر خوشگوار اور پر سکون تھا۔ اسے ذرا بھی احساس نہ تھا کہ یہ سفر اس کی تباہی کا پیغام ثابت ہوگا۔ جب جہاز منزل پر پہنچا تو انسپکٹر ڈیو نے کرپن سے مصافحہ کر کے اسے گرفتار کرلیا۔ ایتھل بے ہوش ہوگئی۔
یہ کہانی نہ صرف ایک قتل اور فرار کی سنسنی خیز داستان ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل دیا۔ مارکونی کی ایجاد نے مواصلات کے میدان میں انقلاب برپا کیا اور ساتھ ہی ایک قاتل کو گرفتار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یوں دو مختلف انسانوں کی کہانیاں ایک مقام پر آ کر ملتی ہیں۔ ایک نے دنیا کو جوڑا اور اس کی ایجاد نے دوسرے کا انجام طے کردیا۔ ایک شخص کی تقدیر اس آدمی کی ذہانت نے لکھی جس سے وہ کبھی نہیں ملا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں: