امن کوششوں کی قیمت: 3.5 ارب ڈالر
امارات کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں تھی کہ پاکستان اس کا اتحادی بھی رہے اور ایران سے مکالمہ بھی کرے
پاکستان کے ساتھ متحدہ عرب اِمارات کے پرانے اور خوشگوار تعلقات رفتہ رفتہ پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ اِن میں ایک موڑ ایران جنگ کے درمیان آیا۔ اِمارات نے پاکستان کو ایک مشکل موقع پر دیا ہوا قرض اچانک واپس مانگ کر مشکل میں ڈال دیا۔ ایک بار پھر سعودی عرب مدد کے لیے آیا جس کے اِمارات کے ساتھ اپنے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔
فائننشل ٹائمز کے مطابق اِمارات کا موڈ اس وقت خراب ہوا جب پاکستان نے ایران جنگ میں ثالثی کی کوششیں شروع کیں۔ یہ کردار مثبت ہے کیونکہ جنگ کے بجائے امن کی کوششوں کو کون برا کہنا چاہے گا؟ لیکن دنیا اب اتنی سادہ نہیں رہی۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں درمیانی راستہ اکثر دونوں طرف شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اِمارات کے لیے یہ بات قابلِ قبول نہیں تھی کہ پاکستان ایک طرف اُس کا اتحادی رہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ مکالمہ بھی کرے۔ فائننشل ٹائمز کے مطابق ایک تجزیہ کار نے سادہ الفاظ میں کہا کہ اِمارات اِس وقت چیزوں کو سیاہ یا سفید انداز میں دیکھ رہا ہے۔ یعنی یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔
ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے بھی اِسی پہلو کو اُجاگر کیا ہے کہ پاکستان کی غیر جانبداری یا محتاط سفارت کاری نے خلیجی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ اسلام آباد واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کررہا ہے۔ ایسے وقت میں، جب ایران اور عرب دنیا کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے، غیر جانبداری بھی ایک "پوزیشن" سمجھی جارہی ہے۔
عرب اِمارات نے جو رقم واپس مانگی، وہ معمولی نہیں تھی۔ یہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی تھی۔ ایک ایسے ملک کے لیے، جو پہلے ہی معاشی دباو میں ہو، یہ کسی جھٹکے سے کم نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اِس اقدام نے نہ صرف معاشی حلقوں بلکہ سفارتی ایوانوں میں بھی ہلچل مچا دی۔
اِس بحران کے فوراً بعد سعودی عرب میدان میں آیا۔ اُس نے پاکستان کو نہ صرف تین ارب ڈالر کا نیا قرض دیا بلکہ پہلے سے موجود قرض کی مدت بھی بڑھا دی۔ فائننشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب اور اِمارات کے درمیان کچھ عرصے سے کشیدگی ہے۔ خاص طور پر یمن کی جنگ میں مسائل پیدا ہوئے، جہاں دونوں ممالک مختلف گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ عرب اِمارات کی توجہ اب تیزی سے بھارت کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط کررہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال آسان نہیں۔ ایک طرف اُسے اپنی معیشت سنبھالنی ہے اور دوسری طرف خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ ایران اُس کا ہمسایہ ہے جبکہ خلیجی ممالک اُس کے بڑے معاشی شراکت دار ہیں۔ ایسے میں کسی ایک طرف کے جھکاو پر دوسری طرف ناراضی پیدا ہونا فطری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں معاشی امداد غیر مشروط نہیں رہی۔ اب قرض، سرمایہ کاری اور مالی مدد سب کچھ خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ اِس واقعے کے بعد پاکستان کو اپنی مالیاتی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنی پڑی اور مرکزی بینک نے شرح سود میں اضافہ بھی کیا۔ یہ وہ اثرات ہیں جو براہ راست عوام تک پہنچے لیکن اِن کی جڑیں سفارت کاری میں ہیں۔
پاکستان کے لیے اب چیلنج یہ نہیں کہ وہ کس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس طرح کھڑا ہوتا ہے۔ کیا وہ اِس توازن کو برقرار رکھ پائے گا جس کے لیے زمین روز بروز سکڑتی جا رہی ہے۔ کیونکہ بدلی ہوئی دنیا میں درمیانی راستہ سب سے مشکل مقام بن چکا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Financial Time: Why the UAE asked Pakistan for its $3.5bn back
South China Morning Post: UAE pulls US$3.5 billion from Pakistan after Iran war mediation