مختصر ویڈیوز آپ کی یادداشت کو متاثر کررہی ہیں
سوشل میڈیا پر بار بار موضوع کے بدلنے اور تیز رفتار مواد دیکھنے سے دماغ کو مکمل تصویر بنانے میں مشکل پیش آتی ہے
آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک دلچسپ اور قدرے تشویشناک رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے، مختصر ویڈیوز یا کلپس کی دنیا۔ چند سیکنڈ کے ویڈیوز نہ صرف ہماری توجہ حاصل کرتے ہیں بلکہ ہماری سوچ، یادداشت اور میڈیا کے پورے نظام کو بھی بدل رہے ہیں۔ مختلف شعبوں کے ماہرین اس رجحان کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مختصر ویڈیوز کی مقبولیت کیوں بڑھی ہے۔ اٹلانٹک میگزین کے مطابق انٹرنیٹ پر اب اصل مواد نہیں بلکہ اس کے کلپس زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔ لوگ پورے پروگرام کو دیکھنے، پوڈکاسٹ کو سننے یا مضمون پڑھنے کے بجائے صرف چند سیکنڈ کے حصے پر اکتفا کرلیتے ہیں۔ یہ کلپس دراصل کسی بڑے مواد کے ٹکڑے ہوتے ہیں لیکن اب یہ خود مکمل پروڈکٹ بن چکے ہیں۔ بہت سے لوگ اصل پروگرام دیکھے بغیر صرف انھیں کلپس کے ذریعے کسی شخصیت یا خیال سے واقف ہوتے ہیں۔
یہ رجحان صرف صارفین کے رویے تک محدود نہیں بلکہ پوری معیشت بن چکا ہے، جسے کلپ اکانومی کہا جارہا ہے۔ میڈیا ادارے اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز جان بوجھ کر ایسا مواد تیار کرتے ہیں جسے آسانی سے چھوٹے کلپس میں تبدیل کیا جاسکے۔ بعض اوقات ایک ہی ویڈیو کے سیکڑوں کلپس مختلف پلیٹ فارمز پر ڈالے جاتے ہیں تاکہ الگورتھم میں جگہ بنائی جاسکے۔
لیکن اس تیز رفتار مواد کا انسانی ذہن پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ آن لائن جریدے سائی پوسٹ کا ایک آرٹیکل ہمیں ایک سنگین صورتحال سے آگاہ کرتا ہے۔ ایک تحقیق میں طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ نے مسلسل ایک ویڈیو دیکھی جبکہ دوسرے نے اسی مواد کو چھوٹے چھوٹے کلپس کی صورت میں دیکھا۔ بعد میں ان سے اس بارے میں سوالات کیے گئے تو نتیجہ حیران کن تھا۔ مسلسل ویڈیو دیکھنے والوں نے 66 فیصد درست جوابات کیے جبکہ مختصر ویڈیوز دیکھنے والوں کی کارکردگی صرف 43 فیصد رہی۔
دماغی اسکین سے معلوم ہوا کہ مختصر ویڈیوز دیکھنے والوں کے دماغ کے اہم حصے کم متحرک تھے۔ خاص طور پر وہ حصے جو توجہ، یادداشت اور معلومات کو جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ یعنی بار بار موضوع بدلنے اور تیز رفتار مواد دیکھنے سے دماغ کو ایک مکمل تصویر بنانے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ مختصر ویڈیوز دیکھنے سے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ بھی کمزور ہوجاتا ہے۔ یعنی نہ صرف ہم کم یاد رکھتے ہیں بلکہ ہمارا ذہن معلومات کو مؤثر طریقے سے جوڑنے کی صلاحیت بھی کھوسکتا ہے۔
اٹلانٹک نے اس رجحان کے سماجی اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطابق لوگ اب گہرائی سے سوچنے یا پڑھنے کے بجائے اسکرول کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ ایسی عادت بن چکی ہے جس میں انسان کم وقت میں زیادہ مواد دیکھنا چاہتا ہے، چاہے سمجھ میں کم ہی کیوں نہ آئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ توجہ کا دورانیہ کم ہورہا ہے اور گہرے مطالعے کی روایت کمزور پڑ رہی ہے۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مکمل طور پر منفی نہیں ہے۔ مختصر ویڈیوز سیکھنے اور تفریح کے لیے مفید بھی ہوسکتی ہیں، خاص طور پر جب بات سادہ معلومات یا فوری ہدایات کی ہو۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی انداز ہماری سوچ کا بنیادی طریقہ بن جائے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ مختصر ویڈیوز نے دنیا کو تیز، دلچسپ اور قابل رسائی تو بنا دیا ہے، لیکن اس کی قیمت ہماری توجہ، یادداشت اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت کی صورت میں ادا ہورہی ہے۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ جو ہر چیز آسانی سے مل جائے، وہ بہتر بھی ہو۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
The Atlantic: How Short-Form Clips Took Over the Internet
PsyPost: Brain scans shed light on how short videos impair memory and alter neural pathways