مختلف اوقات، آوازوں اور رشتوں میں الجھا ہوا قصہ

بین لرنر کا ناول ٹرانسکرپشن یہ ناول تین الگ الگ آوازوں اور بیانیوں میں کہانی بیان کرتا ہے، جس میں یادداشت اور حقیقت، آواز اور خاموشی، ماضی اور حال ایک دوسرے میں مدغم ہیں

مختلف اوقات، آوازوں اور رشتوں میں الجھا ہوا قصہ

بین لرنر امریکی شاعر، ناولسٹ اور نقاد ہیں۔نیویارک ٹائمز میگزین نے انھیں "اپنی نسل کا سب سے باصلاحیت ادیب" قرار دیا ہے۔ ان کا چوتھا ناول ٹرانسکرپشن اپریل میں شائع ہوا ہے۔

یہ ناول تین الگ الگ آوازوں اور بیانیوں میں بیان ہوتا ہے جو آپس میں گُتھے ہوئے ہیں۔ پہلے حصے کا راوی درمیانی عمر کا دانشور اور صحافی ہے۔ کہانی کا آغاز ایک خواب سے ہوتا ہے جس میں وہ اپنی بیٹی تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ وہ ایک سفر پر ہے اور اپنے پرانے استاد تھامس کا انٹرویو کرنے پراویڈنس جارہا ہے۔ تھامس ایک معروف جرمن نژاد مفکر، میڈیا تھیورسٹ اور فلم ساز ہے جو نوے سال کا ہوچکا ہے۔ راوی راستے میں اپنی بیوی میا اور بیٹی ایوا سے رابطے میں رہتا ہے۔ وہ خاص طور پر ایوا کی ذہنی حالت پر پریشان ہے جو اسکول کے بارے میں اضطراب کا شکار ہے۔

ہوٹل پہنچنے کے بعد راوی کا موبائل فون باتھ روم کے سنک میں گر کر خراب ہوجاتا ہے۔ اس سے وہ اچانک دنیا سے کٹ جاتا ہے۔ نہ کسی سے رابطہ کرسکتا ہے، نہ معلومات حاصل کرسکتا ہے اور سب سے اہم بات، اپنے استاد کا انٹرویو ریکارڈ نہیں کرسکتا۔ فون کے بغیر پراویڈنس کی گلیوں میں چلتے ہوئے اسے عجیب سی آزادی اور حسیاتی شدت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے کالج کے دنوں کو یاد کرتا ہے، خاص طور پر میا اور انیسا کے ساتھ اپنے پیچیدہ جذباتی رشتوں کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ اسی سفر میں وہ بوسٹن میں شیشے کے پھولوں کی نمائش دیکھنے کا واقعہ یاد کرتا ہے۔

جب وہ تھامس کے گھر پہنچتا ہے تو سچ بتانے سے ہچکچاتا ہے اور بہانہ کرتا ہے کہ کل ریکارڈنگ کریں گے۔ لیکن تھامس اسے فوری بات شروع کرنے پر آمادہ کرلیتا ہے۔ راوی اپنا خراب فون میز پر رکھ کر جھوٹ بول دیتا ہے کہ وہ ریکارڈ کررہا ہے۔ تھامس اپنے بچپن، ریڈیو، آواز اور ایتھر کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس کے مطابق آواز جسم سے آزاد ہوکر بھی موجود رہ سکتی ہے اور ریڈیو نے اس قدیم تجربے کو نئی شکل دی۔ وہ بچپن میں ریڈیو پر ہٹلر کی پاٹ دار آواز کا ذکر کرتا ہے۔ گفتگو کے دوران تھامس اور راوی کے درمیان حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ تھامس راوی کو اپنے بیٹے میکس سے خلط ملط کرنے لگتا ہے اور یادداشت و حقیقت کے درمیان فاصلہ واضح ہونے لگتا ہے۔

اس رات راوی تھامس کی لینڈ لائن سے ایوا کو فون کرتا ہے اور ناول کا پہلا حصہ اس لمحے پر ختم ہوتا ہے جہاں مختلف آوازیں، اوقات اور رشتے ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔

درمیانی حصہ ہوٹل ویلا ریال، میڈرڈ میں پیش آتا ہے۔ راوی تھامس کی یاد میں ریئنا صوفیا میوزیم میں ایک تقریب میں تھامس کی زندگی اور کام پر گفتگو کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھامس اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ تقریب کے بعد رات کے کھانے میں میوزیم کی کیوریٹر روسا اسے بتاتی ہے کہ لوگ اس کی تقریر سے پریشان ہوگئے ہیں کیونکہ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے تھامس کا آخری انٹرویو جزوی طور پر یادداشت کی بنیاد پر تحریر کیا تھا، نہ کہ اصل ریکارڈنگ سے۔ روسا اسے ڈیپ فیک قرار دیتی ہے۔

تیسرا حصہ ہوٹل آرباز میں پیش آتا ہے جہاں راوی بدل جاتا ہے اور اب تھامس کا بیٹا میکس کہانی سناتا ہے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ پیچیدہ اور دردناک رشتے کا احوال بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی ایمی کی بیماری کا ذکر کرتا ہے جو کھانے سے گریز کرتی ہے۔ اس کا علاج اس طرح ہوتا ہے کہ اسے آئی پیڈ دیکھتے ہوئے کھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پھر وہ کووڈ کے دنوں کا ذکر کرتا ہے جب تھامس بیمار ہوا اور میکس نے ایک نرس لارا کے ذاتی فون کے ذریعے تھامس کے کان کے قریب فون رکھ کر وہ سب کچھ کہا جو وہ کبھی نہیں کہہ سکا تھا۔ لیکن تھامس کو ہوش نہیں تھا، وہ وینٹی لیٹر پر تھا۔ بعد میں جب میکس اسے ملنے پراویڈنس گیا تو تھامس نے کوویڈ کی بیماری کے دوران کی گئی گفتگو کو یاد نہیں کیا۔ اس لمحے نے میکس کو اندر سے بدل دیا۔

ناول کا اختتام فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر واقع ہوٹل آرباز میں ہوتا ہے جس کی سیڑھیوں کے نچلے حصے فرانس ہے اور ساتویں سیڑھی سے آگے سوئٹزرلینڈ شروع ہوجاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں یہاں یہودیوں اور مزاحمتی تحریک کے لوگوں کو پناہ دی گئی تھی کیونکہ نازی فوج صرف فرانسیسی حصے میں داخل ہوسکتی تھی۔ اوپری منزل تک نہیں جاسکتی تھی۔ یہ ہوٹل ناول کی مرکزی علامت ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں دو حقیقتیں، دو وقت اور دو دنیائیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اس ناول میں یادداشت اور حقیقت، آواز اور خاموشی، ماضی اور حال ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔