طبع زاد مجرئی خلق میں ان آنکھوں نے کیا کیا دیکھا ہم وہ نسل ہیں جس نے تاریخ کو کتابوں میں نہیں، اپنی آنکھوں کے سامنے بدلتے دیکھا ہے