کیوبا میں مایوسی معمول بن چکی ہے
ایک پوری نسل سوشلزم کی آخری اینٹ کے انتظار میں زندگی گزارتی رہی، وہ اینٹ جو کبھی رکھی ہی نہیں گئی، آج وہ نسل گویا زومبیوں کے غول کی طرح زندگی گزار رہی ہے
گیلرمو ایل
اس سال کے آغاز سے، جب امریکا نے وینزویلا میں مداخلت کی، ہماری زندگی میں بے ترتیبی بڑھ گئی ہے۔ بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔ کسی اطلاع یا شیڈول کے بغیر چھ سے بارہ گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔
مجھے فون پر ایک دوست کا پیغام موصول ہوا ہے جس میں اس نے خبردار کیا کہ ملک میں بجلی کا نظام مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے۔ مارچ سے اب تک ایسا تین بار ہوچکا ہے۔ پورے ملک میں ہونے والا یہ بلیک آؤٹ پانچ گھنٹے سے جاری تھا اور کم از کم چوبیس گھنٹے اور جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہوانا میں بجلی نسبتاً جلد بحال ہوجاتی ہے لیکن دوسرے صوبوں میں میرے جاننے والے ایسے لوگ ہیں جو مکمل بریک ڈاون سے پہلے بھی سولہ سے بیس گھنٹے تک بجلی کے بغیر گزارتے تھے۔
بجلی کی کمی ہر چیز کو متاثر کرتی ہے۔ بیشتر عمارتوں میں پانی اوپر ٹنکیوں تک پہنچانے کے لیے پمپ نہیں چلتے۔ فریج میں رکھا ہوا کھانا خراب ہوجاتا ہے۔ کھانا پکانا پہلے ہی مشکل تھا، اب اور دشوار ہوگیا ہے۔ کیا چیز جلدی تیار کی جاسکتی ہے؟ کون سی چیز کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت نہیں؟ گیس کتنی باقی ہے؟ کیا وہ گوشت پکالیا جائے جو کسی خاص موقع کے لیے رکھا تھا؟ کیا دودھ گرمی میں پھٹنے سے پہلے پی لیا جائے؟ جن لوگوں کے پاس پروپین گیس ہے، وہ خوش قسمت ہیں۔ بہت سے لوگ اب ہر ہفتے کوئلے کی بوریاں خریدنے پر مجبور ہیں۔
گرمیوں میں پنکھا چلنا آسائش نہیں ہوتا بلکہ بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔ وسطی امریکا کی گھٹن بھری راتوں میں پنکھے کے بغیر سونا تقریباً ناممکن ہے۔ انٹرنیٹ یا تو غیر مستحکم ہوجاتا ہے یا مکمل طور پر غائب ہوجاتا ہے۔ نجی کاروبار بند ہوجاتے ہیں یا محدود پیمانے پر کام کرتے ہیں۔ یوں شہر محاورتاََ اور عملاََ دونوں معنوں میں بند ہونے لگتا ہے۔
میں نے خبر کی تصدیق کے لیے نیوز ویب سائٹس، بجلی کمپنی کا فیس بک پیج اور حکومت نواز صحافیوں کی سوشل میڈیا پوسٹس دیکھیں۔ مجھے ہمیشہ یہ عجیب سا احساس رہتا ہے کہ شاید بری خبر جھوٹی ہو، شاید کوئی افواہ ہو۔ میں نے دھیمی آواز میں گالی دی۔ اونچی آواز میں تو پچھلے چند برسوں میں بے شمار گالیاں دے چکا ہوں۔
میں ایل ویدادو کے علاقے میں اپنے والدین اور دادی کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں۔ میری والدہ ایک پڑوسن کے ساتھ آئیں اور پوچھنے لگیں کہ کیا واقعی یہ خبر درست ہے؟ ہزاروں وعدوں کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں شکوک و شبہات راسخ ہوچکے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ ہم نے ان انتہائی خراب حالات کو معمول سمجھ لیا ہے۔ کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ لوگ پریشان ضرور ہوتے ہیں لیکن حیران نہیں۔ گویا معاشرتی انہدام ہماری روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ یہ اذیت پسندی نہیں، بلکہ ہم نے قبول کرلیا ہے کہ ہماری حکومت نااہل ہے اور کسی معذرت یا جواب دہی کا تکلف کیے بغیر مسلسل غلطیاں کرسکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نہ سڑکوں پر احتجاج سے کوئی حل نکلے گا اور نہ بیرونی مدد مانگنے سے کچھ ہوگا۔ اس لیے ہم کندھے اچکا کر اسے معمول سمجھ لیتے ہیں۔ امید کا قیدی بننے سے یہی بہتر لگتا ہے۔
کبھی کبھی امریکا کی نئی پابندیوں کی خبریں آتی ہیں۔ کبھی بتایا جاتا ہے کہ تیل بردار جہاز نہیں پہنچے یا تاخیر کا شکار ہیں۔ کبھی نئی پابندیاں درآمدات کو مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ سرکاری میڈیا ان خبروں کو پیچیدہ سیاسی زبان میں پیش کرتا ہے۔ لیکن کیوبا کے لوگوں کو کسی ترجمے کی ضرورت نہیں۔ ہم ان کے اثرات براہِ راست اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔
ایندھن کے لیے قطاریں پہلے سے زیادہ لمبی اور زیادہ غیر یقینی ہوگئی ہیں۔ بعض اوقات لوگ کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں اور پھر بھی یقین نہیں ہوتا کہ پٹرول ملے گا یا نہیں۔
حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دو طریقے اختیار کیے ہیں۔ پہلا "ٹکٹ" نامی ایپ ہے۔ شہریوں کو ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے اپنی اور گاڑی کی معلومات درج کرنی پڑتی ہیں اور پھر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت پٹرول حاصل کرنے کے لیے نو ماہ سے زیادہ طویل انتظار کی فہرست موجود ہے۔
دوسرا راستہ صرف ان گاڑیوں کے لیے ہے جن کے پاس ٹورسٹ نمبر پلیٹیں ہیں۔ وہ مخصوص پٹرول پمپوں پر قطار میں لگ کر اسی دن ایندھن حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ حکومت کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کتنی اہم چیز ہے۔ ترجیح انھیں لوگوں کو دی جاتی ہے جو ڈالر میں ادائیگی کرسکتے ہیں۔
اس دوران قیمتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ ذاتی بجٹ بنانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ جو بنیادی اشیا چند ماہ پہلے مہنگی سمجھی جاتی تھیں، اب بہت سے لوگوں کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہوچکی ہیں۔ کرنسی کی قدر اتنی تیزی سے گررہی ہے کہ ہر خریداری کے وقت اس کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انڈوں کی ایک ٹرے تین ہزار کیوبن پیسو سے زیادہ کی ہوسکتی ہے جبکہ کم از کم ماہانہ تنخواہ تقریباً دو اکیس سو پیسو ہے۔ اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔
حال میں بین الاقوامی توجہ دوبارہ کیوبا کی طرف مبذول ہوئی ہے۔ خبریں، تجزیے، بیانات اور بیرونِ ملک سے اظہارِ یکجہتی کے إعلانات سامنے آرہے ہیں۔ بائیں اور دائیں بازو کے ترجمانوں کے درمیان میڈیا جنگ جاری ہے۔ پمفلٹوں اور پروپیگنڈے کی بھرمار ہے۔ بیرونِ ملک سے ہونے والی یہ کوششیں شاید نیک نیتی پر مبنی ہوں، لیکن ملک کے اندر سے دیکھنے والوں کو یہ اکثر بہت دور کی چیز، بعض اوقات محض اپنا تاثر بہتر بنانے کی کوشش لگتی ہے۔ عشروں کی تنہائی اور جبر نے بہت سے کیوبن شہریوں کو سیاست سے بیزار یا بدگمان کردیا ہے۔
جیسا کہ شاعر ہیربرتو پادیّا نے 1971 کی اپنی نظم مسافر میں لکھا تھا،
ان کی نائیکون، لائیکا اور رولی فلیکس کیمرے چمکتے ہیں،
خط استوا کی دھوپ کے لیے بالکل موزوں،
اور پسماندہ دنیا کے لیے بھی۔
ان کی نوٹ بکس کھلی ہوئی ہیں
معروضی سوالات کے لیے،
اگرچہ، ظاہر ہے، انھیں احساس جرم ہوتا ہے،
دل میں تھوڑا سا، کیونکہ وہ چھاپا ماروں سے محبت کرتے ہیں،
جدوجہد سے، کھلے فضا کی زندگی سے،
اور مقامی لوگوں کی اس عجیب ہسپانوی زبان سے بھی۔
دو تین ہفتوں ہی میں
انھیں اتنا تجربہ حاصل ہوجاتا ہے
کہ وہ چھاپا ماروں پر ایک کتاب لکھ سکیں،
یا کیوبا کے کردار پر (یا دونوں پر)،
اور اس مخصوص، قدرے شوخ،
لیکن کیوبنز کی دل گرمانے والی ہسپانوی پر بھی۔
بعض لوگ موجودہ بحران کا آغاز گزشتہ دسمبر سے جوڑتے ہیں، جب امریکی بحریہ نے وینزویلا کا محاصرہ کیا، نکولس مادورو کو گرفتار کیا اور اعلان کیا کہ جو ملک بھی کیوبا کو ایندھن فراہم کرے گا، اس پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔ تاریخی طور پر کیوبا سستے غیر ملکی ایندھن پر انحصار کرتا رہا ہے۔ یہ اقدام یقیناً آخری دھکا ثابت ہوا، لیکن یہ قصہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد شروع نہیں ہوا۔ بجلی کی بندش اور خوراک اور دواوں کی قلت برسوں سے روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔
اگر ہمیں موجودہ کیوبا کو سمجھنا ہے تو کم از کم 2019 تک واپس جانا ہوگا، جب "موجودہ صورتحال" کی اصطلاح عام ہونا شروع ہوئی۔ نومنتخب صدر میگوئل دیاز کانیل نے ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں امریکی پابندیوں کے سخت ہونے کے جواب میں یہ اصطلاح استعمال کی تھی۔ سیاحتی پروازیں متاثر ہوئیں، ایندھن کی درآمدات کم ہوئیں اور امریکا میں مقیم کیوبن باشندوں کی ترسیلاتِ زر محدود کردی گئیں۔
پھر کووڈ کی وبا آ گئی۔ سیاحت، جو ہماری معیشت کا بنیادی ستون تھی، تقریباً تباہ ہوگئی۔ کچھ عرصے کے لیے وبا نے ہر مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا اور معاشی زوال کی شدت کو چھپا دیا۔ لیکن مسئلہ ختم نہیں ہوا تھا، صرف دب گیا تھا۔ جب دنیا دوبارہ کھلنے لگی تو کیوبا کا اندرونی ڈھانچا پہلے کی طرح کام کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
لیکن کیوبا کو صرف امریکی خارجہ پالیسی کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ہماری حکومت بھی بڑی حد تک ذمے دار ہے۔ اس عرصے میں کیے گئے معاشی فیصلوں نے حالات کو بہتر نہیں، بدتر بنایا۔ نام نہاد "ٹاسک آف آرگنائزیشن" کے تحت مالیاتی اور اجرتی نظام کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کا نتیجہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں نکلا جبکہ آمدنی میں اس کے حساب سے اضافہ نہیں ہوا۔ مہنگائی ایک احساس نہیں رہی، روزمرہ حقیقت بن گئی۔ چند ہی مہینوں میں تنخواہوں کی حقیقی قدر ختم ہوگئی اور لوگ اپنی آمدنی کو پیسو کے بجائے ڈالر میں ناپنے لگے۔
اس دوران حکومت نے بنیادی اشیا تک رسائی کا نظام بھی بدل دیا۔ بہت سی چیزیں ایسی دکانوں میں منتقل کردی گئیں جہاں صرف غیرملکی کرنسی یا ایم ایل سی کے ذریعے خریداری ممکن تھی۔ اس سے معاشرے میں واضح تقسیم پیدا ہوئی۔ جن کے پاس ڈالر تھے اور جن کے پاس صرف مقامی کرنسی تھی، ان کے درمیان فرق نمایاں ہوگیا۔
انہ حالات میں 11 جولائی 2021 کو کیوبا میں عوامی احتجاج ہوئے جو 1959 کے بعد سب سے بڑے مظاہرے تھے۔ مظاہرین نے عدم مساوات اور آمرانہ طرزِ حکومت کے خلاف آواز اٹھائی لیکن صدر دیاز کانیل نے انھیں امریکا کی پشت پناہی سے ہونے والی "نرم بغاوت" قرار دیا۔ احتجاج کے خلاف کارروائی میں ایک ہزار سے زیادہ افراد جیلوں میں ڈال دیے گئے اور ایک شخص ہلاک ہوا۔
توانائی کے شعبے میں بھی عشروں کی کم سرمایہ کاری، قابلِ تجدید توانائی کی جانب تاخیر سے آغاز اور درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار نے نظام کو کمزور کردیا۔ خرابیوں میں اضافہ ہوا، تھرمل پاور پلانٹس کی دیکھ بھال ناکافی رہی اور حل عارضی اور غیر منظم نوعیت کے ہوتے گئے۔ نتیجہ وہی ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں، بلیک آؤٹ پر بلیک آؤٹ۔
میں آج کے کیوبا کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایک لفظ ذہن میں آتا ہے، مایوسی۔ کوئی ادبی یا وقتی مایوسی نہیں، بلکہ ایک دائمی اور گہری کیفیت۔ ایسی کیفیت جس میں لوگوں کو یقین ہوچکا ہے کہ کچھ بھی بہتر نہیں ہوگا۔
صحت کا نظام بگڑ چکا ہے۔ تعلیم کا معیار گرگیا ہے۔ رات کے وقت اطمینان سے سڑک پر نہیں چلا جاسکتا کیونکہ جرائم میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ایک احساس مسلسل موجود رہتا ہے کہ ملک زوال پذیر ہے اور اپنے ساتھ ہمیں بھی زوال کی طرف لے جارہا ہے۔
انقلاب کے بعد کی تاریخ میں اس مایوسی کی جڑیں گہری ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہر قربانی کو مستقبل کے نام پر جائز قرار دیا جاتا تھا۔ بعض اوقات لگتا بھی تھا کہ وعدے پورے ہوں گے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وعدوں اور حقیقت کے درمیان خلیج اتنی وسیع ہوگئی کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
ایک پوری نسل "سوشلزم کی آخری اینٹ" کے انتظار میں زندگی گزارتی رہی، وہ اینٹ جو کبھی رکھی ہی نہیں گئی۔ آج وہ نسل گویا زومبیوں کے غول کی طرح زندگی گزار رہی ہے، جیسے معاشرتی انہدام کوئی غیر معمولی چیز نہیں بلکہ فطری حالت ہو۔
میری نسل "خصوصی دور" کے آخری برسوں میں پیدا ہوئی۔ ہم نے نہ زرعی اصلاحات کے فائدے دیکھے، نہ 80ء کی دہائی کا روسی گوشت کھایا، نہ ان لوگوں کی طرح بلی کا گوشت کھایا جنھوں نے خصوصی دور کی شدید قلت دیکھی تھی۔ جب 2010ء کی دہائی میں انٹرنیٹ آیا تو ریاست کے بہت سے جھوٹ بے نقاب ہو گئے۔ لوگوں، خصوصاً نوجوانوں نے دنیا کا دوسرا رخ دیکھا اور ملک چھوڑنے کی خواہش کرنے لگے۔
مجھے آج بھی اتنا ہی دکھ اور مایوسی محسوس ہوتی ہے جتنی اس جزیرے پر رہنے والے لاکھوں کیوبن باشندوں کو ہوتی ہے۔ لیکن آمریت کی ایک بات میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔ اس نے چند ہی برسوں میں اتنے زیادہ لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ سنہ 2021ء سے 2024ء کے درمیان کیوبا نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت دیکھی۔ بعض اندازوں کے مطابق بیس لاکھ سے زیادہ افراد ملک چھوڑ گئے۔ خاندان بکھر گئے، دوست جدا ہوگئے، رشتے ٹوٹ گئے۔
ذاتی طور پر اس آمریت نے مجھے بھی توڑ دیا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شاید مجھے بھی موقع ملنے پر ملک چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ شاید میں اس امید میں رکا رہا کہ تبدیلی آئے گی۔ شاید والدین اور دادی کی خاطر نہیں گیا۔ شاید اس لیے کہ میرے پاس نکاراگوا جانے یا اسپین میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے رقم نہیں تھی۔ یا شاید صرف اس لیے کہ مجھے پردیسی بننے سے ڈر لگتا ہے۔ ان دنوں میں کوشش کرتا ہوں کہ ان باتوں پر زیادہ نہ سوچوں۔ میں نے طے کیا ہے کہ میری ذہنی صحت ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔
اس رات جب پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، کھانا کھانے کے بعد میں کچھ دیر کے لیے باہر نکل گیا۔ موبائل فون اور دوسرے آلات کی بیٹری تقریباً ختم ہوچکی تھی، اس لیے انھیں استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹارچ ہاتھ میں لے کر میں مالیکون کی سمت چل پڑا۔ راستے میں نظریاتی نعروں والے کئی بورڈ نظر آئے، جن میں فیدل کاسترو، راول کاسترو اور دیاز کانیل کی ایک بڑی تصویر بھی تھی جس پر لکھا تھا، "ہم تسلسل ہیں۔" مجھ میں نفرت کا احساس جاگا اور غصہ آیا۔
دو گھنٹے سے زیادہ چلنے کے بعد مجھے ہر گلی سے برتن پیٹنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ہوانا کی سڑکوں پر یہ آواز اب مانوس ہوچکی ہے۔ کئی جگہوں پر یہ شور ایک مقامی موسیقی کی لے اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے۔ خالی دیگچیاں اور پلیٹیں اور چمچے موسیقی میں بدل گئے ہیں۔ گویا احتجاج نے بھی قلت کے اندر اپنا ردھم پیدا کرلیا ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک میں اگر تین ہفتے تک ایسے احتجاج جاری رہتے تو شاید حکومت گرچکی ہوتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیشتر لوگ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ صرف بجلی، خوراک اور ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جو غیر یقینی حالات سے پاک ہو۔ کیا یہ مزاحمت ہے یا ہتھیار ڈال دینا، بقا کی کوشش یا قبولیت؟ شاید یہ سب کچھ ہے۔ البتہ ایک بات واضح ہے۔ چند مختصر لمحوں کے لیے، جب برتنوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، ایسا محسوس ہوا کہ مایوسی کہیں غائب ہوگئی ہے۔
گیلرمو ایل کا ہسپانوی مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: