کینسر کی ویکسین سے زندگی بچانا ممکن ہوگیا

کینسر جسم کے اپنے خلیوں سے بنتا ہے اس لیے مدافعتی نظام اسے پہچان نہیں پاتا، ویکسین جسم کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ کینسر کے مخصوص خلیوں کو دشمن سمجھے اور ان پر حملہ کرے

کینسر کی ویکسین سے زندگی بچانا ممکن ہوگیا

کینسر ایسا مرض ہے جس کا نام سنتے ہی بہت سے لوگ ڈر جاتے ہیں۔ کینسر کے کچھ مریض زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک کینسر میں مبتلا ہونے کو یقینی موت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن میڈیکل سائنس کی ترقی نے بہت سی جانیں بچانا شروع کردی ہیں۔ اب ایک امید یہ پیدا ہوئی کہ کینسر کے مریضوں کے لیے ذاتی نوعیت کی ویکسین علاج میں بڑی تبدیلی لاسکتی ہے۔

امریکی خاتون باربرا برائگم کو 2020 میں لبلبے کا کینسر تشخیص ہوا۔ اسے خطرناک ترین کینسروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے سرجری کے ذریعے ان کا ٹیومر نکالا اور کینسر کے خلیوں کا جینیاتی تجزیہ کیا۔ سائنس دانوں نے دیکھا کہ ان کے کینسر میں کون سی ایسی جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں جو عام جسمانی خلیوں سے مختلف ہیں۔ ان تبدیلیوں کی بنیاد پر ان کے لیے ایک خاص ایم آر این اے ویکسین تیار کی گئی۔ یہ ویکسین صرف ان کے کینسر کے مطابق بنائی گئی تھی۔

ویکسین دراصل جسم کے مدافعتی نظام کو تربیت دیتی ہے۔ انسانی جسم کا دفاعی نظام عام طور پر جراثیم اور وائرس پر حملہ کرتا ہے۔ لیکن کینسر چونکہ جسم کے اپنے خلیوں سے بنتا ہے، اس لیے مدافعتی نظام اکثر اسے پہچان نہیں پاتا۔ ایم آر این اے ویکسین جسم کو یہ ہدایت دیتی ہے کہ وہ کینسر کے مخصوص خلیوں کو دشمن سمجھے اور ان پر حملہ کرے۔ باربرا برائگم نے ایک سال کے دوران اس ویکسین کی نو خوراکیں لیں۔ کئی سال گزرنے کے باوجود ان کا کینسر واپس نہیں آیا۔

یہ تحقیق صرف برائگم تک محدود نہیں۔ ایک کلینیکل ٹرائل میں 16 مریضوں کو یہ ویکسین دی گئی۔ ان میں سے آٹھ مریضوں میں مدافعتی نظام نے مضبوط ردعمل دکھایا۔ ان میں سے بیشتر اب بھی کینسر سے محفوظ ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد بہت زیادہ نہیں لیکن لبلبے کے کینسر جیسے خطرناک مرض میں یہ نتائج سائنس دانوں کے لیے بہت حوصلہ افزا ہیں۔

ایم آر این اے ویکسینوں کا خیال نیا نہیں لیکن کووڈ کی وبا نے اس ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں مشہور کردیا۔ فائزر، بائیو این ٹیک اور موڈرنا جیسی کمپنیوں نے اربوں لوگوں کو ایسی ویکسینیں فراہم کیں۔ اس کے بعد سائنس دانوں نے سوچا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی وائرس کے خلاف کام کرسکتی ہے تو کینسر کے خلاف بھی مددگار ہوسکتی ہے۔ اب میلانوما، پھیپھڑوں، مثانے اور گردے کے کینسر پر بھی اسی قسم کی ویکسینوں کے تجربات جاری ہیں۔ بعض تحقیقات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ویکسین لینے والے مریضوں میں کینسر کے دوبارہ ہونے یا موت کا خطرہ تقریباً آدھا رہ گیا۔

اس سے پہلے سائنس دانوں نے کئی دہائیوں تک یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مدافعتی نظام کینسر کو کیوں نہیں روکتا۔ معلوم ہوا کہ بعض کینسر ایسے پروٹین بناتے ہیں جو مدافعتی خلیوں کو دھوکا دے دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر امیونوتھراپی کا علاج سامنے آیا، جس میں جسم کے دفاعی نظام کو کینسر کے خلاف زیادہ مؤثر بنایا جاتا ہے۔ ایم آر این اے ویکسینیں اسی سوچ کا نیا مرحلہ ہیں۔

اس تحقیق میں مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹر الگورتھمز کا بھی اہم کردار ہے۔ ہر مریض کے کینسر میں ہزاروں جینیاتی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔ سائنس دانوں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان میں سے کون سی تبدیلی مدافعتی نظام کے لیے سب سے نمایاں ہوگی۔ کمپیوٹر اسی انتخاب میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہر مریض کی الگ اور ذاتی نوعیت کی ویکسین تیار کی جاتی ہے۔

امکان ہے کہ ذاتی نوعیت کی یہ ویکسینیں مستقبل میں کینسر کے علاج کو مکمل طور پر بدل دیں گی۔ یہ علاج ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس کے نتائج امید افزا ہیں۔ اگر حکومتیں اور معاشرہ سائنسی تحقیق کی حمایت جاری رکھیں تو عین ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں کینسر کے کئی خطرناک اقسام قابلِ علاج بن جائیں۔

 اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Scientific American: Personalized mRNA vaccines will revolutionize cancer treatment—if funding cuts don’t doom them

National Library of Medicine: Clinical advances of mRNA vaccines for cancer immunotherapy