کیا ہر نوجوان کو یونیورسٹی جانا چاہیے؟

لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کرتے ہیں مگر ملازمت نہیں ملتی، جبکہ اچھے پلمبر، الیکٹریشن، ٹیکنیشن اور مکینک آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے، وائٹ کالر نوکری کو برتر اور ہنر مند کام کو کمتر سمجھا جاتا ہے

کیا ہر نوجوان کو یونیورسٹی جانا چاہیے؟

آج کی دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جسے یہ نہ کہا جاتا ہو کہ بہتر مستقبل کے لیے یونیورسٹی جانا ضروری ہے۔ خاص طور پر امریکا جیسے ممالک میں یونیورسٹی فار آل کا نعرہ ایک سماجی اصول بن چکا ہے۔ لیکن کیا واقعی ہر نوجوان کو یونیورسٹی جانا چاہیے؟ کیا یونیورسٹی کی ڈگری ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے؟ ان سوالات پر حالیہ برسوں میں سنجیدہ بحث شروع ہوئی ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو یونیورسٹی کو معاشی ترقی اور بہتر زندگی کی ضمانت سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہر طالب علم کو یونیورسٹی بھیجنے کا رجحان نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

کرونیکل آف ہائر ایجوکیشن کے مضمون "شُڈ ایوری ون گو ٹو کالج؟" میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں کم آمدنی والے طلبہ پر بھی یونیورسٹی جانے کا دباؤ ہوتا ہے۔ اس میں ایک کمیونٹی کالج کی استانی کا ذکر ہے جس نے ایسے طلبہ کو پڑھایا جو بنیادی جملہ لکھنے میں بھی مشکل محسوس کرتے تھے۔ کئی طلبہ تعلیمی لحاظ سے اتنے کمزور تھے کہ وہ کورس مکمل نہ کرسکے، لیکن انتظامیہ نے انھیں فیل کرنے کے بجائے پاس کرنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ یونیورسٹی چھوڑ نہ دیں۔

جریدے کے مطابق ماضی میں بہت سے نوجوان ووکیشنل یا تکنیکی تربیت کی طرف جاتے تھے۔ لوگ ویلڈنگ، مکینک، الیکٹریشن یا دوسرے ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کرلیتے تھے۔ لیکن اب معاشرے میں یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ اگر کسی کے پاس چار سالہ ڈگری نہیں تو وہ کامیاب نہیں سمجھا جاتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ تکنیکی تعلیم کو کمتر سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ بہت سے شعبوں میں ہنرمند افراد کی شدید کمی ہے۔

اٹلانٹک میگزین میں برائن کیپلان کے مضمون "دا ورلڈ مائٹ بی بیٹر آف ود آوٹ کالج فور ایوری ون" میں اس تصور پر اور زیادہ سخت تنقید کی گئی ہے۔ کیپلان کے مطابق یونیورسٹی کی تعلیم کا بڑا حصہ عملی زندگی سے غیر متعلق ہوتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر بیشتر ملازمتوں میں ادب، لاطینی زبان، پیچیدہ ریاضی یا فلسفے کا براہ راست استعمال نہیں ہوتا تو طلبہ یہ سب کیوں پڑھتے ہیں؟ کیپلان کا کہنا ہے کہ بیشتر آجر ڈگری کو محض ایک فلٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص چار سال یونیورسٹی میں گزار سکتا ہے، وہ نظم و ضبط اور ذہنی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ اس نظریے کو ایجوکیشنل سگنلنگ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی سے ملنے والی مالی کامیابی کا بڑا حصہ اصل علم کی وجہ سے نہیں بلکہ اسی سگنل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف امریکا تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں والدین اور حکومتیں نوجوانوں کو یونیورسٹیوں کی طرف دھکیل رہی ہیں، جبکہ عملی ہنر سیکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کرتے ہیں مگر ملازمت نہیں ملتی، جبکہ اچھے پلمبر، الیکٹریشن، ٹیکنیشن اور مکینک آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔ اس کی ایک وجہ معاشرتی رویہ بھی ہے جہاں وائٹ کالر نوکری کو عزت اور ہنر مند کام کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔

اس بحث کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی بے فائدہ ہے۔ یونیورسٹی بہت سے لوگوں کے لیے زندگی بدلنے والا تجربہ ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، وکیل اور محقق بننے کے لیے اعلیٰ تعلیم ضروری ہے۔ اسی طرح بہت سے طلبہ یونیورسٹی میں تنقیدی سوچ، تحقیق اور سماجی شعور بھی حاصل کرتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایک ہی راستے کو سب کے لیے لازمی سمجھ لیا گیا ہے۔

شاید بہتر راستہ یہ ہے کہ معاشرے میں مختلف تعلیمی راستوں کو یکساں عزت دی جائے۔ اگر کوئی نوجوان یونیورسٹی جانا چاہتا ہے تو اس کے لیے مواقع موجود ہوں، لیکن اگر کوئی ہنر یا تکنیکی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ناکامی نہ سمجھا جائے۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہر شخص اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق راستہ منتخب کرسکے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

The Chronicle of Higher Education: Should Everyone Go to College?

The Atlantic: The World Might Be Better Off Without College for Everyone