کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟

انسان صدیوں سے یہ سوال پوچھتا آیا ہے کہ کیا زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے، سائنس دان اب جدید دوربینوں اور اے آئی کی مدد سے نئی دنیائیں کی تلاش کررہے ہیں

کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟

حالیہ برسوں کے دوران یو ایف اوز [ان آئیڈنٹیفائیڈ فلائینگ اوبجیکٹ] یا امریکا کی سرکاری اصطلاح میں یو اے پیز [ان آئیڈنٹیفائیڈ ایریل فینومینا] دوبارہ بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی انتظامیہ نے کچھ ایسی ویڈیوز اور معلومات جاری کی ہیں جن میں آسمان میں نظر آنے والی نامعلوم اشیا کا ذکر ہے۔ اس ڈیٹا نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا انسان کائنات میں اکیلا ہے یا کہیں اور بھی ذہین مخلوق موجود ہوسکتی ہے۔

درحقیقت انسان صدیوں سے یہ سوال پوچھتا آیا ہے کہ کیا زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے۔ دو ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں کے درمیان اس موضوع پر بحث ہوتی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کائنات میں بے شمار دنیائیں ہوسکتی ہیں جبکہ دوسرے لوگ زمین کو منفرد سمجھتے تھے۔ وقت کے ساتھ سائنس نے ترقی کی اور انسان نے جانا کہ ہماری کہکشاں میں اربوں ستارے اور ان کے گرد گھومنے والے کھربوں سیارے موجود ہیں۔

آج سائنس دان سمجھتے ہیں کہ ان میں سے لاکھوں یا شاید کروڑوں سیارے ایسے ہوسکتے ہیں جہاں زندگی کے لیے مناسب حالات موجود ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین سے باہر زندگی کی تلاش سنجیدہ سائنسی منصوبہ بن چکی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سائنس دان اب جدید دوربینوں، کمپیوٹر ماڈلز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئی دنیاؤں کی تلاش کررہے ہیں۔ جدید دوربینیں ہر رات آسمان کی ہزاروں تصاویر لیتی ہیں۔ اتنا زیادہ ڈیٹا انسان اکیلا نہیں دیکھ سکتا، اس لیے کمپیوٹر اور اے آئی ماڈلز استعمال کیے جارہے ہیں تاکہ غیرمعمولی پیٹرنز تلاش کیے جاسکیں۔ سائنس دان امید کررہے ہیں کہ مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی ہمیں کائنات میں زندگی کے ممکنہ آثار تک پہنچانے میں مدد دے گی۔

اس تلاش میں سب سے زیادہ توجہ مریخ پر دی جارہی ہے۔ ناسا کا پرسویرنس روور کئی برسوں سے مریخ پر تحقیق کررہا ہے۔ گزشتہ برس اس نے ایک ایسے پتھر کا مطالعہ کیا جس میں نامیاتی مرکبات اور لوہے کے عجیب دھبے پائے گئے۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ اربوں سال پہلے موجود خوردبینی زندگی کے آثار ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا لیکن کئی محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بہت اہم ہے۔ ناسا اب مریخ سے نمونے زمین پر لانے کے منصوبوں پر غور کررہا ہے تاکہ لیبارٹریوں میں مزید تفصیلی تحقیق کی جاسکے۔

مریخ کے علاوہ مشتری اور زحل کے چند برفیلے چاند بھی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ یوروپا، اینسیلاڈس اور ٹائٹن جیسے چاندوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے اندر برف کے نیچے پانی کے سمندر موجود ہوسکتے ہیں۔ جہاں پانی ہو، وہاں زندگی کے امکانات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔

سائنس دان دور دراز سیاروں کی فضاؤں کا بھی مطالعہ کررہے ہیں۔ طاقتور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ دوسرے ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں کی فضا میں موجود گیسوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر کسی سیارے کی فضا میں آکسیجن، میتھین یا دوسری مخصوص گیسیں ایک ساتھ پائی جائیں تو یہ زندگی کی ممکنہ علامت ہوسکتی ہیں۔

حال میں نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ سائنس دانوں نے نظامِ شمسی کے انتہائی دور ایک چھوٹے برفیلے جسم 2002 XV93 کے گرد ممکنہ فضا کے آثار دریافت کیے ہیں۔ یہ دنیا سورج سے تقریباً ساڑھے تین ارب میل دور واقع ہے اور سائز میں بہت چھوٹی ہے۔ عام طور پر سائنس دان سمجھتے تھے کہ اتنے چھوٹے جسم اپنی فضا برقرار نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کی کششِ ثقل بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن جاپانی ماہرینِ فلکیات نے دیکھا کہ جب یہ جسم ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرا تو ستارے کی روشنی اچانک غائب ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ مدھم ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ شاید اس چھوٹے جسم کے گرد بہت باریک فضا موجود ہے۔

کئی سائنس دان اس دریافت پر حیران ہیں کیونکہ اتنی سرد جگہ پر گیسوں کا فضا کی شکل میں باقی رہنا آسان نہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید برفیلے آتش فشاں یا کسی تصادم نے عارضی طور پر یہ فضا پیدا کی ہو۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کائنات ہماری توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سائنس دان جتنا زیادہ خلا کا مطالعہ کرتے ہیں، اتنے ہی نئے سوال پیدا ہوتے جاتے ہیں۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ سائنس دان ایلین زندگی تو تلاش کررہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یو ایف اوز واقعی خلائی جہاز ثابت ہوچکے ہیں۔ بیشتر یو ایف او واقعات اب بھی غیر تشریح شدہ مشاہدات ہیں۔ بعض اوقات یہ فوجی تجربات، فضائی مظاہر یا تکنیکی غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کے باوجود امریکی حکومت کی جانب سے اس موضوع کو سنجیدگی سے لینا عوامی دلچسپی میں اضافے کا باعث بنا ہے۔


 اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں

NPR: UFO files spanning decades are released by Defense Department

Wall Street Journal: The Hunt for Extraterrestrial Life Enters a New Frontier

New York Times: Surprising Signs of an Atmosphere Around a Tiny World, Billions of Miles Away