کیا آپ روبوٹ پیش امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیں گے؟
جنوبی کوریا میں انسانی شکل والے روبوٹ نے بدھ راہبوں کی تقریب میں شرکت کی، مذہبی کلمات ادا کیے اور لوگوں سے گفتگو کی، ٹیکنالوجی عبادت گاہوں کا حصہ بنتی جارہی ہے
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں حال میں ایک ایسا منظر دیکھا گیا جس نے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی، مذہب اور انسان کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی۔ ایک انسانی شکل والے روبوٹ نے بدھ راہبوں کی تقریب میں شرکت کی، مذہبی جملے ادا کیے، جھک کر احترام کیا اور عبادت گاہ میں آنے والوں سے گفتگو بھی کی۔ گابی نام کے اس روبوٹ کو جنوبی کوریا کے ایک بدھ مندر میں متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک تکنیکی مظاہرہ نہیں تھا بلکہ اس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس مستقبل میں مذہبی دنیا کا حصہ بن جائیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو انسان اور مشین کے درمیان روحانیت کی لکیر کہاں کھنچے گی؟
برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جنوبی کوریا میں بدھ مت کے ماننے والوں کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل مذہبی اداروں سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اس پس منظر میں بعض مذہبی حلقے ٹیکنالوجی کو ایک نئے ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو دوبارہ مذہبی مراکز کی طرف متوجہ کیا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق گابی نہ صرف سوالات کے جواب دیتا ہے بلکہ مذہبی انداز میں ہاتھ جوڑنے اور احترام ظاہر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یہ منظر دیکھنے والے بہت سے افراد حیران ہوئے اور کچھ پریشان بھی۔ بعض لوگوں نے اسے مستقبل کی جھلک قرار دیا جبکہ کچھ کے خیال میں مذہب اور روحانیت کو مشینوں کے حوالے کرنا خطرناک ہوسکتا ہے، کیونکہ مذہب صرف الفاظ یا حرکات کا نام نہیں بلکہ نیت، احساس اور انسانی روح سے جڑا معاملہ ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس روبوٹ کی تقریب میں موجود بعض افراد نے اسے دلچسپ تجربہ قرار دیا۔ لیکن کچھ بدھ راہبوں نے بھی یہ اعتراف کیا کہ روبوٹ عبادت کی نقل تو کرسکتا ہے لیکن روحانی کیفیت پیدا نہیں کرسکتا۔
آج مصنوعی ذہانت صرف سوالوں کے جواب نہیں دے رہی بلکہ شاعری لکھ رہی ہے، تصویریں بنا رہی ہے، فلمیں تخلیق کررہی ہے اور انسانوں جیسی گفتگو بھی کررہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اب غیرمعمولی نہیں کہ کیا مستقبل میں روبوٹس مذہبی خدمات بھی انجام دیں گے؟ کیا کوئی مشین خطبہ دے سکتی ہے؟ کیا کوئی اے آئی مذہبی سوالات پر فتوے جاری کرسکتی ہے؟ اور کیا عبادت گاہوں میں انسانوں کے ساتھ روبوٹ بھی موجود ہوں گے؟
دنیا کے کئی مذاہب میں پہلے ہی ٹیکنالوجی داخل ہوچکی ہے۔ جاپان کی کئی عبادت گاہوں میں روبوٹک راہب مذہبی خطبات دیتے رہے ہیں۔ امریکا اور یورپ میں اے آئی چیٹ بوٹس بائبل یا مذہبی رہنمائی کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ عرب دنیا میں بھی بعض ادارے مصنوعی ذہانت سے اسلامی سوالات کے جوابات فراہم کررہے ہیں۔
لیکن جنوبی کوریا کے گابی نے اس بحث کو زیادہ نمایاں کیا ہے کیونکہ یہ صرف اسکرین یا موبائل ایپ نہیں بلکہ انسانی شکل والا روبوٹ ہے۔ جب کوئی مشین انسان جیسی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات نفسیاتی طور پر گہرے ہوجاتے ہیں۔ لوگ اسے صرف کمپیوٹر نہیں سمجھتے بلکہ لاشعوری طور پر ایک وجود کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔
یہاں ایک اور دلچسپ سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو کیا مستقبل میں مسلمان بھی کسی روبوٹ پیش امام کے پیچھے نماز یا تراویح پڑھتے نظر آسکتے ہیں؟ کیا کوئی روبوٹ ذاکر محرم کی مجلس پڑھ سکتا ہے؟
آج یہ سوال عجیب محسوس ہوتا ہے، لیکن چند دہائیاں پہلے لوگ یہ بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی آواز میں تقریر کرے گی، قرآن کی تلاوت کرے گی یا مذہبی سوالات کے فوری جواب دے گی۔ اس کے باوجود اسلامی دنیا میں عبادت کا تصور نیت، انسانیت اور روحانی قیادت سے جڑا ہوا ہے، اس لیے بہت ممکن ہے کہ مسلمان معاشروں میں روبوٹ پیش امام یا ذاکر کا خیال سخت مزاحمت کا سامنا کرے۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی اکثر وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں انسان پہلے جانے کا تصور نہیں کرتا۔ ایک وقت تھا جب آن لائن نکاح، زوم پر مذہبی اجتماعات یا یوٹیوب پر تراویح کی لائیو نشریات بھی غیرمعمولی سمجھی جاتی تھیں لیکن اب یہ سب عام ہوچکا ہے۔
شاید مستقبل میں روبوٹ امام نہ ہوں، لیکن اے آئی معاونت سے چلنے والی مساجد، خودکار مذہبی رہنمائی، مختلف زبانوں میں فوری ترجمہ کرنے والے خطبات اور ورچوئل مذہبی اساتذہ عام ہوجائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی روبوٹ مسجد کے دروازے پر آنے والوں کو خوش آمدید کہے، قرآن کی تلاوت سنائے یا بچوں کو تجوید سکھائے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Guardian: I, robe-ot: the android monk working to reboot the faith of South Korea’s Buddhists
Reuters: Humanoid robot becomes Buddhist monk in South Korea