کیا آڈیو بکس طلبہ کے لیے مطالعے کا متبادل بن سکتی ہیں؟

انسان ہزاروں برس تک زبانی روایت کے ذریعے علم منتقل کرتا رہا ہے، لہٰذا سن کر سیکھنا ہماری فطری صلاحیتوں میں شامل ہے

کیا آڈیو بکس طلبہ کے لیے مطالعے کا متبادل بن سکتی ہیں؟

اسمارٹ فونز، پوڈکاسٹس اور اسٹریمنگ سروسز کے دور میں آڈیو بکس کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں افراد سفر کے دوران، ورزش کرتے ہوئے یا گھر کے کام نمٹاتے ہوئے کتابیں سنتے ہیں۔ اس رجحان نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا آڈیو بک سننا کتاب پڑھنے کے برابر ہے؟ خاص طور پر اسکول کے طلبہ کے لیے، کیا آڈیو بکس وہی تعلیمی فوائد فراہم کرتی ہیں جو روایتی مطالعہ کرتا ہے؟

جدید تحقیق کا جواب سادہ ہاں یا ناں میں نہیں دیا جاسکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آڈیو بکس اور روایتی مطالعہ کئی پہلوؤں میں ایک دوسرے کے قریب ہیں، لیکن دونوں کے فوائد اور حدود الگ ہیں۔

ماہر تعلیم بیتھ روگوسکی نے 2016 میں اس بارے میں تحقیق کی۔ طلبہ کے ایک گروپ نے ایک کتاب کے حصے سنے، دوسرے گروپ نے وہی حصے ای ریڈر پر پڑھے، جبکہ تیسرے گروپ نے بیک وقت پڑھنے اور سننے کا تجربہ کیا۔ بعد میں جب ان کی فہم کا جائزہ لیا گیا تو تینوں گروپوں کے نتائج میں کوئی نمایاں فرق نہیں پایا گیا۔ اس تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ آڈیو بکس لازماً مطالعے سے کم مؤثر ہوتی ہیں۔

لیکن ماہرِ نفسیات ڈینیل ولنگھم کے مطابق کتاب پڑھتے وقت قاری کو بعض ایسے ذہنی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو آڈیو میں مکمل طور پر نہیں ملتے۔ مطالعے کے دوران آنکھیں بار بار پیچھے جاکر الفاظ اور جملوں کا دوبارہ جائزہ لیتی ہیں۔ قاری آسانی سے کسی پیراگراف یا صفحے کی طرف واپس جاسکتا ہے، جبکہ آڈیو میں یہ عمل نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مطبوعہ کتاب میں الفاظ اور صفحات کی جگہ ذہن میں ایک بصری نقش بھی بناتی ہے جو یادداشت میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس فرق کی ایک مثال 2010 کی ایک تحقیق میں سامنے آئی تھی جس میں طلبہ کے ایک گروپ نے سبق کاغذ پر پڑھا اور دوسرے نے وہی مواد پوڈکاسٹ کی شکل میں سنا۔ کمپری ہینشن ٹیسٹ میں سننے والے طلبہ کے نمبر اوسطاً نمایاں طور پر کم تھے۔ محقق ڈیوڈ ڈینیل کے مطابق پیچیدہ یا تعلیمی مواد میں پڑھنے والے طلبہ کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اہم حصوں کو نشان زد کرسکتے ہیں، دوبارہ پڑھ سکتے ہیں اور معلومات پر زیادہ دیر غور کرسکتے ہیں۔

اس کے باوجود آڈیو بکس کے اپنے فائدے ہیں۔ انسان ہزاروں برس تک زبانی روایت کے ذریعے علم منتقل کرتا رہا ہے، لہٰذا سن کر سیکھنا ہماری فطری صلاحیتوں میں شامل ہے۔ ایک اچھا راوی اپنے لہجے، جذبات اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے متن میں ایسی معنوی جہتیں پیدا کرسکتا ہے جو بعض اوقات خاموش مطالعے میں محسوس نہیں ہوتیں۔ طنز، مزاح یا جذباتی کیفیت آڈیو میں زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔

بچوں کے لیے آڈیو بکس کے فوائد اور بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ ابتدائی جماعتوں کے طلبہ جب روانی سے پڑھنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو انھیں اچھے قاری کی آواز سننے سے فائدہ پہنچتا ہے۔ آڈیو بکس تلفظ، رفتار اور جملوں کے اتار چڑھاؤ کا عملی نمونہ فراہم کرتی ہیں۔ اس سے بچوں میں زبان کی روانی اور سننے کا فہم بہتر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آڈیو بکس خاص طور پر ان بچوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں جو پڑھنے میں مشکلات کا شکار ہوں یا جنھیں ڈسلیکسیا جیسے مسائل درپیش ہوں۔ ایسے طلبہ اکثر الفاظ کو پہچاننے میں اتنی توانائی صرف کرتے ہیں کہ متن کا مفہوم سمجھنے کے لیے کم توجہ بچتی ہے۔ آڈیو بکس انھیں کہانی اور خیالات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتی ہیں۔

آڈیو بکس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ وہ مطالعے کو زیادہ دلچسپ بناسکتی ہیں۔ پیشہ ور راوی کرداروں کو آواز دیتے ہیں، جذبات پیدا کرتے ہیں اور کہانی کو زندگی بخشتے ہیں۔ ایسے طلبہ، جو روایتی مطالعے میں دلچسپی نہیں لیتے، آڈیو بکس کے ذریعے کتابوں کی دنیا سے جُڑ سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بعض سائنس دانوں نے دماغی سرگرمیوں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ 2019 میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب لوگ ایک ہی کہانی کو پڑھتے یا سنتے ہیں تو معنی اخذ کرنے کے لیے دماغ کے ایک ہی حصے متحرک ہوتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ توجہ کے ساتھ سننا محض تفریح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ علمی سرگرمی بھی ہوسکتا ہے۔

البتہ اس کی ایک اہم شرط ہے، یعنی توجہ۔ اگر کوئی شخص گاڑی چلاتے ہوئے، گھر کے کام کرتے ہوئے یا بار بار توجہ بٹنے والی حالت میں آڈیو بک سن رہا ہو تو فہم کم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ آڈیو بکس سے زیادہ فائدہ تب حاصل ہوتا ہے جب سامع پوری توجہ کے ساتھ سن رہا ہو۔

آج بہت سے ماہرین ایک درمیانی راستہ تجویز کرتے ہیں جسے "بائی ماڈل ریڈنگ" یا دوہرا مطالعہ کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں طالب علم متن کو دیکھتے ہوئے آڈیو سنتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر کمزور قارئین کے لیے مددگار ہوسکتا ہے۔

جدید تحقیق بتاتی ہے کہ آڈیو بکس کو مطالعے کا دشمن یا متبادل سمجھنے کے بجائے اضافی تعلیمی ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ اگر مقصد کہانی یا عمومی معلومات کا فہم حاصل کرنا ہو تو آڈیو بکس اکثر روایتی مطالعے کے قریب پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن اگر مقصد املا، الفاظ کی شناخت، قریبی مطالعہ یا پیچیدہ علمی تجزیہ ہو تو کتاب کو خود پڑھنے کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ اسکول کے طلبہ کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ وہ دونوں ذرائع سے فائدہ اٹھائیں۔ آنکھوں سے پڑھیں بھی اور کانوں سے سنیں بھی۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

New York Times: Do Audiobooks Count as Reading?

Time: Are Audiobooks As Good For You As Reading? Here’s What Experts Say

All About Learning Press: Benefits of Audio Books for Children Learning to Read