خوابوں کی سرزمین کے ڈھائی سو سال کا جشن
امریکا نے چار جولائی 1776 کو آزادی کا اعلان کیا تھا، مسلسل جمہوریت، اعلیٰ تعلیم، ایجادات اور مضبوط معیشت نے سوپرپاور بنایا، ایک سال تک ملک بھر میں تقریبات ہوں گی
امریکی نوآبادیوں نے چار جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اسے ہی آزاد امریکا کے قیام کا دن کہا جاتا ہے۔ اس واقعے کو ایک ماہ بعد ڈھائی سو سال مکمل ہوجائیں گے۔ دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریتوں میں شمار ہونے والا یہ ملک اس موقع کو صرف ایک قومی تعطیل کے طور پر نہیں بلکہ پورے سال جاری رہنے والے جشن کے طور پر منارہا ہے۔ نیویارک سے کیلی فورنیا تک، چھوٹے قصبوں سے بڑے شہروں تک، عجائب گھروں، اسکولوں، کھیل کے میدانوں اور ثقافتی اداروں میں سیکڑوں تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
امریکا کی 200ویں سالگرہ 1976 میں بہت جوش و خروش سے منائی گئی تھی۔ اس بار حالات کچھ مختلف ہیں۔ ایک طرف ملک سیاسی تقسیم کا شکار ہے، دوسری طرف ایران سے جنگ، روس سے کشیدگی، یورپی اتحادیوں سے شکر رنجی اور چین سے معاشی مسابقت چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 250ویں سالگرہ کو محض ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ قومی خوداحتسابی اور قومی اعتماد کے اظہار کے موقع کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
اس جشن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے دو متوازی منصوبے سامنے آئے ہیں۔ ایک سرکاری منصوبہ "امریکا 250" ہے جسے کانگریس نے برسوں پہلے تشکیل دیا تھا۔ اس کا مقصد تاریخی ورثے، شہری ذمے داریوں اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں نمائشیں، کمیونٹی تقریبات، تاریخی پروگرام، خیراتی مہم اور تعلیمی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔
دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے "فریڈم 250" کے نام سے علیحدہ پروگرام شروع کیا ہے۔ اس میں بڑے عوامی اجتماعات، ریاستی میلے، موٹر ریسیں اور دوسری نمایاں تقریبات ہوں گی۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سرکاری پروگرام کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان اختیارات اور فنڈنگ کے معاملات پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
عام امریکی کے لیے اس بحث سے زیادہ اہم وہ تقریبات ہیں جو اسے اپنے شہر اور اپنی کمیونٹی میں نظر آئیں گی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ملک بھر میں پرچم لہرانے کی مہم، عوامی میلوں، تاریخی پریڈوں، ثقافتی نمائشوں، موسیقی کے پروگراموں اور مقامی تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ فلاڈیلفیا، جہاں 1776 میں اعلانِ آزادی پر دستخط ہوئے تھے، خصوصی طور پر توجہ کا مرکز ہوگا۔ وہاں جون کے وسط سے چار جولائی تک مسلسل تقریبات جاری رہیں گی۔
امریکی تاریخ کو زندہ کرنے کی ایک اہم کوشش واشنگٹن کے اسمتھ سونین عجائب گھر میں نظر آئے گی۔ یہاں "250 اشیا میں امریکا" کے عنوان سے منفرد نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس میں امریکی تاریخ کے ڈھائی سو سال کو 250 مختلف اشیا کے ذریعے بیان کیا جارہا ہے۔ ان میں آزادی کی جنگ کے زمانے کی ایک توپ بردار کشتی، تھامس جیفرسن کی رائٹنگ ٹیبل، جارج واشنگٹن کی وردی، قومی پرچم اور جدید دور کی کئی علامتی اشیا شامل ہیں۔ نمائش کے منتظمین کا کہنا ہے کہ امریکا کی تاریخ نہ صرف عظمت کی کہانی ہے بلکہ پیچیدگیوں، اختلافات اور مسلسل تبدیلیوں کی داستان بھی ہے۔
اتفاق سے یہی وہ سال ہے جب امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کررہے ہیں۔ دنیا بھر سے لاکھوں شائقین شمالی امریکا کا رخ کریں گے۔ امریکی حکام کو امید ہے کہ ورلڈکپ اور 250ویں سالگرہ کی تقریبات ایک دوسرے کو تقویت دیں گی اور امریکا کو خود کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا نادر موقع ملے گا۔ واشنگٹن اور دیگر شہروں میں خصوصی تقریبات کا شیڈول اس طرح ترتیب دیا جارہا ہے کہ دونوں بڑے ایونٹس سے ایک دوسرے کو فائدہ ہو۔
صدر ٹرمپ اس موقع کو بھرپور انداز میں منانا چاہتے ہیں۔ ان کے منصوبوں میں وائٹ ہاؤس میں ایک یو ایف سی مقابلہ، بڑے عوامی اجتماعات اور مختلف قومی تقریبات شامل ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے جشن کا رنگ سیاسی ہوسکتا ہے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں عوامی دلچسپی میں اضافہ کریں گی۔
امریکا کی سالگرہوں کی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔ 1876 میں سو سالہ جشن کے دوران فلاڈیلفیا میں عالمی نمائش منعقد ہوئی تھی جس میں ٹیلی فون اور برقی روشنی جیسی نئی ایجادات پیش کی گئی تھیں۔ 1976 میں دو سو سالہ جشن نے واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد امریکیوں میں قومی اعتماد بحال کرنے میں مدد دی۔ اب 2026 میں سوال یہ نہیں کہ امریکا عروج پر ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ڈھائی سو برس بعد وہ خود کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور مستقبل میں کس سمت جانا چاہتا ہے۔
امریکا کے بارے میں دنیا بھر میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ صرف ڈھائی سو برس میں اس نے ایک نوآبادیاتی بغاوت سے اٹھ کر عالمی سیاست، معیشت، سائنس اور ثقافت میں غیرمعمولی مقام حاصل کیا ہے۔ شاید اسی لیے 2026 کا یہ جشن صرف ماضی کی کامیابیوں کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کا بھی اظہار ہے۔ آتش بازی، پریڈوں اور کنسرٹس کے شور میں امریکی قوم ایک بار پھر اپنے آپ سے یہ سوال پوچھے گی کہ وہ کہاں سے آئی تھی، کہاں پہنچی ہے اور آگے کہاں جانا چاہتی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
New York Times: America Turns 250 A Guide to the Coming Festivities
Guardian: the Smithsonian celebrates America in 250 objects
AP: Trump takes the lead for America’s 250th birthday and World Cup celebrations