کنویں جیسی گہری آواز والا شرارتی دوست

میں سہرا باندھے بیٹھا تھا کہ عدنان نے پانچ روپے والے نوٹوں کا ہار گلے میں ڈال دیا، خوب قہقہے لگے، میں نے کہا، تیری شادی پر یہی کروں گا، عدنان نے شادی اتنی دیر سے کی کہ پانچ کے نوٹ ہی بند ہوگئے

کنویں جیسی گہری آواز والا شرارتی دوست