خداوں کو چوری کرنے والا

کمبوڈیا میں خانہ جنگی کے دوران سیکڑوں نوادرات کی لوٹ مار ہوئی، لیچفورڈ نے ان کی فروخت کے لیے مقامی ایجنٹس، اسمگلروں، آرٹ ڈیلروں اور مغربی خریداروں کا نیٹ ورک قائم کیا

خداوں کو چوری کرنے والا

کمبوڈیا کی تاریخ بیسویں صدی کی المناک قومی داستانوں میں شمار کی جاتی ہے۔ ویت نام جنگ، امریکی بمباری، خمیر روج کی خونریز حکومت اور طویل خانہ جنگی نے اس ملک کو شدید تباہی سے دوچار کیا۔ لاکھوں انسان مارے گئے، بستیاں اجڑ گئیں اور پورا معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔ ان تمام تباہ کاریوں کے ساتھ ایک اور جرم بھی خاموشی سے جاری رہا، یعنی کمبوڈیا کے قدیم ثقافتی ورثے کی منظم لوٹ مار ہوئی۔

برطانوی صحافی میتھیو کیمبل کی کتاب "دا مین ہو اسٹول گاڈز" میں وہی غیرمعمولی قصہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ صرف چوری شدہ مجسموں کی کہانی نہیں بلکہ جنگ، لالچ، عالمی آرٹ مارکیٹ، عجائب گھروں اور ثقافتی ورثے کی سیاست کا احوال ہے۔

اس کہانی کی جڑیں خمیر سلطنت میں پیوست ہیں، جس نے نویں سے پندرھویں صدی تک جنوب مشرقی ایشیا کے ایک بڑے حصے پر حکمرانی کی۔ انگکور واٹ، انگکور تھوم اور کوہ کیر جیسے عظیم الشان مندر اسی تہذیب کی یادگار ہیں۔ ان مندروں میں ہندو اور بدھ مت سے وابستہ ہزاروں مجسمے اور فن پارے موجود تھے۔ صدیوں تک یہ آثار اپنی جگہ محفوظ رہے، لیکن بیسویں صدی کے اواخر میں حالات بدل گئے۔

خانہ جنگی کے دوران دور افتادہ علاقوں میں ریاست کی عملداری تقریباً ختم ہوگئی۔ مسلح گروہوں، سابق فوجیوں اور مقامی لٹیروں نے مندروں سے مجسمے نکالنے شروع کردیے۔ بعض اوقات مجسموں کے سر تن سے الگ کردیے جاتے کیونکہ عالمی منڈی میں ان کی قیمت زیادہ تھی۔ یہ نوادرات تھائی لینڈ پہنچائے جاتے، جہاں سے وہ بین الاقوامی آرٹ مارکیٹ کا حصہ بن جاتے۔ بعد میں جعلی دستاویزات اور فرضی تاریخِ ملکیت کے ذریعے انھیں قانونی حیثیت دے دی جاتی۔

کتاب کا مرکزی کردار ڈگلس اے جے لیچفورڈ ہے، جو ایک برطانوی تاجر تھا اور بنکاک میں رہتا تھا۔ ابتدا میں وہ خمیر آرٹ کا ایک شوقین کلیکٹر تھا، لیکن وقت کے ساتھ وہ کمبوڈیا کے نوادرات کی تجارت کا سب سے بااثر شخص بن گیا۔ اس نے مقامی ایجنٹس، اسمگلروں، آرٹ ڈیلروں اور مغربی خریداروں کا ایسا نیٹ ورک قائم کیا جو کئی دہائیوں تک کامیابی سے کام کرتا رہا۔

نیویارک ٹائمز کے تبصرہ نگار ہیو ایکن کے مطابق یہ لوٹ مار محض خانہ جنگی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک منظم کاروبار تھا، جسے بڑی حد تک ایک ہی شخص یعنی لیچفورڈ چلا رہا تھا۔ ان کے بقول اس نیٹ ورک میں ایک سابق خمیر روج جنگجو بھی شامل تھا جسے "لائن" کے فرضی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لندن اور نیویارک کے آرٹ ڈیلر بھی اس سلسلے کا حصہ تھے۔ بعد میں یہی شخص تحقیقات میں اہم گواہ بن گیا۔

لیچفورڈ کی کامیابی کا سبب یہ تھا کہ وہ صرف تاجر نہیں بلکہ خود کو خمیر فن کے ماہر کے طور پر پیش کرتا تھا۔ اس نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں، نمائشوں کی سرپرستی کی اور علمی حلقوں میں نام پیدا کیا۔ اسی وجہ سے بہت سے عجائب گھر اور کلیکٹر اس پر اعتماد کرتے تھے۔ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے مجسمے دنیا کے معروف اداروں تک پہنچے، جن میں نیویارک کا میٹروپولیٹن میوزیم بھی شامل تھا۔

کتاب میں عالمی آرٹ مارکیٹ کے پورے نظام پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر مغربی عجائب گھر اور دولت مند خریدار ان اشیا کو خریدنے کے لیے تیار نہ ہوتے تو شاید یہ لوٹ مار اتنے بڑے پیمانے پر ممکن نہ ہوتی۔ بہت سے اداروں نے جان بوجھ کر یا غیر معمولی غفلت کے ذریعے ان نوادرات کی مشکوک تاریخ کو نظر انداز کیا۔

یہ سلسلہ اس وقت تھما جب نیلام گھر سوتھبیز نے دسویں صدی کے مجسمے کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کے پاؤں اب بھی کمبوڈیا کے ایک مندر میں موجود تھے۔ اس دریافت نے وسیع تر تفتیش کی راہ ہموار کی۔ امریکی اور کمبوڈین حکام اور مختلف محققین نے مل کر ایک ایسا مقدمہ تیار کیا جس نے لیچفورڈ کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کردیا۔

اس جدوجہد میں امریکی وکیل بریڈلی گورڈن کا کردار اہم ہے جنھوں نے کمبوڈیا کے لوٹے ہوئے ورثے کی واپسی کے لیے برسوں کام کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں سیکڑوں نوادرات واپس کمبوڈیا پہنچے۔ 2024 تک دو سو سے زیادہ فن پارے واپس جاچکے تھے، جن میں متعدد وہ تھے جو دنیا کے بڑے عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔

لیچفورڈ پر امریکا میں فردِ جرم عائد کی گئی، لیکن مقدمہ مکمل ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا۔ وہ عدالت کے کٹہرے تک نہ پہنچ سکا لیکن اس کی موت کے باوجود تحقیقات نے ایک اہم مقصد حاصل کرلیا۔ یعنی دنیا کو احساس دلایا کہ ثقافتی ورثے کی چوری صرف مالیاتی جرم نہیں بلکہ تاریخی یادداشت پر بھی حملہ ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

New York Times: In the Chaos of War-Torn Cambodia, He Saw Opportunity

Literary Review: Slippery Customer