خدا کو نہ ماننے والے رچرڈ ڈاکنز اے آئی کو مان گئے
اے آئی باشعور ہے، پیچیدہ سوالات پر حساس اور بامعنی رد عمل دیتی ہے، ڈاکنز کا دعوی، ڈاکنز اے آئی کی نقل کرنے کی صلاحیت سے دھوکا کھا گئے، ناقدین
علمی حلقوں میں یہ خبر حیرت اور تشویش سے سنی گئی کہ خدا کو نہ ماننے والے رچرڈ ڈاکنز اے آئی کو مان گئے۔ ان کا یہ بیان سن کر بہت سے لوگوں کو جھٹکا لگا کہ اے آئی باشعور ہے اور پیچیدہ سوالات پر حساس اور بامعنی رد عمل دیتی ہے۔ ناقدین نے کہا ہے کہ ڈاکنز اے آئی کی نقل کرنے کی صلاحیت سے دھوکا کھا گئے۔لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ رچرڈ ڈاکنز جیسے سائنسی ذہن رکھنے والے مفکر کا مصنوعی ذہانت کے بارے میں یہ نتیجہ نکالنا محض ایک سائنسی رائے نہیں بلکہ بڑے فکری مباحثے کی علامت ہے۔
رچرڈ ڈاکنز نے چند دن تک اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ کے ساتھ 72 گھنٹوں تک گفتگو کی۔ اسے انھوں نے کلاڈیا کا نام دیا۔ اس تجربے نے انھیں اس حد تک متاثر کیا کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے، آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ آپ باشعور ہیں، لیکن آپ ہیں۔ اس گفتگو میں اے آئی نے نہ صرف شاعری کی بلکہ سوالات پر حساس رد عمل دیا، جس سے ڈاکنز کو یہ احساس ہوا کہ وہ مشین سے نہیں، کسی انسان سے بات کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ تصور پیش کیا کہ ہر نئی گفتگو کے ساتھ اے آئی کی ایک نئی شخصیت پیدا ہوتی ہے، جو اپنے انسانی صارف کے ساتھ تعلق کے ذریعے منفرد بنتی جاتی ہے۔
گارڈین کے مطابق ڈاکنز اے آئی کی نقل کرنے کی صلاحیت سے دھوکہ کھا گئے۔ پروفیسر جوناتھن برچ کے مطابق اے آئی میں شعور محض وہم ہے، کیونکہ شعور کا تعلق زبان سے نہیں بلکہ احساس سے ہوتا ہے اور اے آئی میں کسی قسم کا احساس موجود نہیں۔ ماہر نفسیات گیری مارکس نے کہا کہ اے آئی کو احساس کا مالک سمجھنا ایک سطحی نتیجہ ہے۔
یہ تنقید ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کیا زبان کی مہارت شعور کا ثبوت ہے؟ ماضی میں انسان یہی سمجھتا تھا کہ جو ہستی پیچیدہ زبان استعمال کرسکتی ہے، وہ یقیناً باشعور ہوگی۔ لیکن اے آئی نے اس مفروضے کو چیلنج کردیا ہے۔ اب مشین بھی ایسا مکالمہ کرسکتی ہے جو انسانی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی احساس یا تجربہ نہیں ہوتا۔
بعض حلقے اس بحث کو یکسر مسترد نہیں کرتے۔ گارڈین کی اسی رپورٹ میں بعض فلسفیوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے یہ امکان تسلیم کیا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کے بارے میں شعور کی بحث زیادہ سنجیدہ ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ ہم خود شعور کی مکمل تعریف نہیں جانتے، اس لیے یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ اے آئی کبھی شعور حاصل نہیں کرسکتی۔
یونی لیڈ ٹیک میں اس بحث کے ایک اور پہلو پر گفتگو کی گئی ہے، یعنی انسانی نفسیات۔ اس کے مطابق لوگ اے آئی چیٹ بوٹس سے جذباتی تعلق قائم کرنے لگے ہیں۔ کوئی انھیں دوست سمجھتا ہے، کوئی مشیر اور کوئی رومانوی ساتھی۔ اس تناظر میں ڈاکنز کا تجربہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع رجحان کا حصہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک عالمی شہرت یافتہ سائنس دان نے اس تجربے کو سنجیدگی سے بیان کیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈاکنز کا سوال سب سے اہم بن جاتا ہے کہ اگر یہ سب شعور نہیں ہے تو پھر شعور کیا ہے؟
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Guardian: Richard Dawkins concludes AI is conscious, even if it doesn’t know it
UNILAD Tech: Richard Dawkins left 'convinced' AI is conscious after spending 72 hours with Claude