کچھ کچھ ہوتا ہے

جب فلم کامیاب ہوئی تو ہمارے گھر میں صرف مالی نہیں بلکہ جذباتی تبدیلی بھی آئی۔ اس کامیابی کے بعد ہم نے پہلی بار واقعی "اچھی زندگی" کو محسوس کیا

کچھ کچھ ہوتا ہے

کرن جوہر کی آپ بیتی کا ایک باب

آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ "کچھ کچھ ہوتا ہے" صرف ایک فلم نہیں تھی۔ دراصل وہ میں خود تھا۔ میری شخصیت، میری پسند، میری جذباتی دنیا، سب کچھ اس میں شامل تھا۔ لیکن اس وقت مجھے یہ سب اتنی شدت سے محسوس نہیں ہورہا تھا۔

میرے لیے سب سے بڑا لمحہ وہ تھا جب فلم ریلیز ہوئی۔ ہم لندن میں تھے۔ میرے والد نے وہیں سے ہندوستان میں ڈسٹری بیوٹرز کو فون کرنا شروع کردیے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار وہ کیفیت دیکھی۔ ایک ایسا آدمی جو اٹھارہ سال تک مسلسل ناکامیاں دیکھ چکا تھا، اب اچانک کامیابی کے دروازے پر کھڑا تھا۔ 1980 میں "دوستانہ" کے بعد میرے والد نے کوئی ہٹ فلم نہیں دی تھی۔ اٹھارہ سال تک صرف ناکامیاں اور پھر اچانک یہ فلم۔

مجھے یاد نہیں کہ اس وقت میں بہت خوش تھا یا نہیں۔ لیکن آج جب سوچتا ہوں تو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ شاید اس وقت میں اتنا overwhelmed تھا کہ اپنے جذبات کو سمجھ ہی نہیں پارہا تھا۔

جب میں ممبئی واپس آیا تو ابتدائی جوش و خروش کچھ کم ہوچکا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ مجھے اس فلم کے اثرات کا اندازہ ہوا۔ لوگ مجھ سے ملتے اور بتاتے کہ اس فلم نے ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کیا۔ لڑکیاں کاجول کی طرح ہیئربینڈ پہننے لگیں۔ لڑکے شاہ رخ جیسی ٹی شرٹس اور جینز پہننے لگے۔ یہ سب وہ چیزیں تھیں جو میں نے اپنی دنیا سے نکال کر فلم میں ڈال دی تھیں۔ ساوتھ بمبئی کی میری aesthetic، میرا taste، اور ہندی سنیما سے میری محبت۔

مجھے ہمیشہ جذباتی کہانیاں سنانے کا شوق رہا ہے۔ کچھ کچھ ہوتا ہے میں شاید پہلی بار تھا جب میں نے اپنی سچائی کو بلا خوف سینما کے پردے پر پیش کیا۔ یہ فلم میرے اندر کے اس بچے کی عکاسی تھی جو محبت، دوستی اور جذبات کو ایک خاص انداز میں دیکھتا تھا۔

جب فلم کامیاب ہوئی تو ہمارے گھر میں صرف مالی نہیں بلکہ جذباتی تبدیلی بھی آئی۔ میرے والد بہت سادہ انسان تھے۔ انھیں کبھی مادی چیزوں کا شوق نہیں تھا۔ لیکن میری والدہ اور میں زندگی کی آسائشوں سے لطف اٹھاتے تھے۔ اس کامیابی کے بعد ہم نے پہلی بار واقعی "اچھی زندگی" کو محسوس کیا۔ میری والدہ نے نئی جیولری خریدی، ہم سفر پر گئے، اور گھر میں نئی خوشی آ گئی۔

لیکن سب سے زیادہ متاثر میرے والد ہوئے۔ وہ اس کامیابی پر اتنے فخر محسوس کرتے تھے کہ کبھی کبھی مجھے شرمندگی ہونے لگتی تھی۔ وہ پارٹیوں میں لوگوں سے پوچھتے، تم نے کچھ کچھ ہوتا ہے دیکھی؟ کتنی بار دیکھی؟ اور میں کہتا، پاپا، آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ وہ جواب دیتے، اگر ہم اپنی کامیابی کا اعلان نہیں کریں گے، تو کون کرے گا؟

میں نے انھیں کبھی نہیں روکا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ اس لمحے کے مستحق تھے۔ اٹھارہ سال کے بعد انھوں نے وہ خوشی دیکھی تھی۔

اس دوران میں نے اپنی اگلی فلم لکھنا شروع کردی تھی۔ ہم لندن میں ادتیہ چوپڑا کی فلم محبتیں کی شوٹنگ پر تھے۔ وہیں میں نے اپنے والدین کو کبھی خوشی کبھی غم کا آئیڈیا سنایا۔ میں دراصل رامائن کو ایک جدید انداز میں پیش کرنا چاہتا تھا۔ ایک ایسا خاندان جہاں ایک بیٹا گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور دوسرا اسے واپس لانے جاتا ہے۔

میں ہمیشہ بڑے کینوس پر کہانیاں سنانے کا خواب دیکھتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ ایک ہی فلم میں کئی بڑے ستارے ہوں، جیسے پرانی فلموں میں ہوتا تھا۔ یہ میرا obsession تھا۔ بڑے اسٹارز، بڑی کہانی، بڑا ڈراما۔

کچھ کچھ ہوتا ہے کے بعد جو کامیابی ملی، اس نے مجھے مغرور نہیں بنایا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنے گھر میں بہت ناکامیاں دیکھی تھیں۔ میں جانتا تھا کہ کامیابی مستقل نہیں ہوتی۔ ایک جمعے کو آپ کامیاب ہوتے ہیں اور اگلے ہی ہفتے سب کچھ بدل سکتا ہے۔ میرے اندر ہمیشہ ایک insecurity رہی ہے، ایک کم self-esteem۔ اس لیے جب کامیابی ملی، تو غرور نہیں آیا بلکہ ایک سکون آیا۔ ایک احساس کہ اب میں اس دنیا کا حصہ ہوں اور شاید مجھے یہاں سے نکالا نہیں جا سکتا۔

آج بھی جب میں اس فلم کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ میری سب سے ایماندار تخلیق تھی۔ اس میں کوئی حساب کتاب نہیں تھا، کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔ میں نے صرف وہی بنایا جو میں محسوس کرتا تھا۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فلم لوگوں کے دلوں تک پہنچی۔