جیمز جوئس، ایک سیاسی زندگی
جوئس کے نزدیک اصل جبر انگریز حکومت نہیں بلکہ کیتھولک چرچ کا تھا، جو معاشرے پر سخت کنٹرول رکھتا تھا
اگر آپ فیس بک پر متحرک ہیں اور ادبی حلقوں کے مباحث دیکھتے رہتے ہیں تو جیمز جوئس کے ناول یولیسیز کے اردو ترجمے کی خبر سن لی ہوگی۔ ممتاز صحافی اور شاعر انور سین رائے کی کتاب بک کارنر جہلم کے زیر اہتمام شائع ہوگی۔ اتفاق سے ابھی 14 اپریل کو امریکا میں جیمز جوئس پر نئی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس کا نام جیمز جوئس، اے پولیٹیکل لائف ہے۔ بدقسمتی سے اس کے مصنف فرینک کالینن مسودے کو حتمی شکل دینے سے قبل 2021 میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کے ایڈیٹرز نے اسے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔
جیمز جوئس جب جوانی میں آئرلینڈ چھوڑ کر یورپ گئے تو ایسا لگا جیسے وہ اپنے وطن سے کٹ گئے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ آئرلینڈ کی آزادی کی جدوجہد ان کے ذہن اور تخلیق میں ہمیشہ زندہ رہی۔ ان کے نظریات کو سمجھنے کے لیے ان کے ناول A Portrait of the Artist as a Young Man کا ایک اقتباس اہم ہے۔ اس میں ان کا کردار اسٹیفن ڈیڈلس کہتا ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کی خدمت نہیں کرے گا جس پر اس کا ایمان نہیں رہا، چاہے وہ اس کا وطن ہو، خاندان ہو یا مذہب۔ وہ اپنی زندگی اور فن کے ذریعے خود کو ظاہر کرے گا اور اس کے ہتھیار ہوں گے، خاموشی، جلاوطنی اور ہوشیاری۔
فرینک کالینن کی کتاب میں ان تین الفاظ کی وضاحت کی گئی ہے۔ خاموشی، یعنی آئرلینڈ کی پیچیدہ سیاست سے دور رہنا۔ جلاوطنی، یعنی ایسے ملک سے نکل جانا جہاں مذہبی اور سماجی دباؤ بہت زیادہ تھا۔ اور ہوشیاری، یعنی ایک فنکار کے طور پر اپنی آزادی بچاتے ہوئے کام کرنا۔
جیمز جوئس کے بچپن کے دور میں آئرلینڈ کی سیاست پر چارلس اسٹیورٹ پارنیل کا غلبہ تھا۔ وہ ایک طاقتور رہنما تھے جنھوں نے قوم کو ایک مقصد پر متحد کیا۔ لیکن 1890 کے ایک اسکینڈل نے ان کا کیریئر تباہ کردیا۔ ان کی موت کے بعد آئرلینڈ کے سیاسی خواب بھی بکھر گئے۔
پارنیل کی یاد جوئس کے ناولوں میں بار بار آتی ہے، خاص طور پر A Portrait of the Artist as a Young Man میں ایک ڈنر کے منظر میں، جہاں مہمان ان کے بارے میں مختلف آرا رکھتے ہیں۔
اگرچہ جوئس نے خود سیاست میں سرگرمی نہیں دکھائی، لیکن وہ اس ماحول سے متاثر ضرور تھے۔ ان کے لیے اصل آزادی سیاسی نہیں بلکہ فنکارانہ آزادی تھی۔ ان کے نزدیک اصل جبر انگریز حکومت نہیں بلکہ کیتھولک چرچ کا تھا، جو معاشرے پر سخت کنٹرول رکھتا تھا۔
اس زمانے میں آئرلینڈ کے ادیبوں کو بھی سنسرشپ کا سامنا تھا۔ مشہور ڈراموں پر احتجاج ہوتے تھے۔ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ فنکار کی آزادی کو عوام کی مرضی کے تابع ہونا چاہیے۔ ایسے ماحول میں جوئس کے لیے جلاوطنی ہی واحد راستہ تھا۔
جوئس نے 1904 میں ڈبلن چھوڑا اور یورپ میں طویل جلاوطنی کی زندگی اختیار کی۔ انھوں نے اپنے ناول کو 1914 میں مکمل کیا، یعنی دس سال بعد۔
ڈبلن چھوڑنے کے بعد جوئس کی زندگی مشکلات سے بھری رہی۔ وہ اکثر مالی مسائل کا شکار رہے اور پبلشرز اور ایڈیٹرز سے اختلافات ہوتے رہے۔
وہ اپنی ساتھی نورا بارنیکل کے ساتھ اٹلی، آسٹریا اور بعد میں پیرس میں رہے۔ پیرس میں انھیں کچھ استحکام ملا، خاص طور پر ان خواتین کی مدد سے جنھوں نے ان کی کتابوں کی اشاعت ممکن بنائی۔
پھر 1922 میں ان کا شہرہ آفاق ناول یولیسیز شائع ہوا، جسے سلویا بیچ نے اپنے بک اسٹور سے شائع کیا۔ جوئس کی کتاب ڈبلنرز کی اشاعت طویل جدوجہد کے بعد ممکن ہوئی۔ ایک پبلشر نے اسے قبول کیا، پھر ایک کہانی کے مواد پر اعتراض کے بعد رد کردیا۔ دوسرے ناشر نے برطانوی شاہی خاندان کے ذکر پر اعتراض کیا۔ اس سب سے پتا چلتا ہے کہ اس دور میں ادیبوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا تھا۔
جوئس کبھی کبھی کہتے تھے کہ وہ آئرلینڈ سے نفرت کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں وطن کی محبت بھی جھلکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئرلینڈ نے بھی انھیں فوراً قبول نہیں کیا۔ آزادی کے بعد بھی ان کی کتابوں کو چرچ کی مخالفت کا سامنا رہا۔ آج صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ ڈبلن میں جوئس کو ایک ادبی ہیرو کے طور پر مانا جاتا ہے اور ان کی زندگی سے متعلق جگہیں سیاحتی مقامات بن گئی ہیں۔
جوئس کا 1941 میں زیورخ میں انتقال ہوا تھا۔ اس سے کچھ پہلے ان کی آخری بڑی کتاب Finnegans Wake شائع ہوئی۔ جیمز جوئس اے پولیٹیکل لائف انھیں تاریخی اور سماجی پس منظر میں دکھاتی ہے۔ اگرچہ اس کا عنوان سیاسی زندگی ہے لیکن اصل میں یہ ایک فنکار کی آزادی، جلاوطنی اور جدوجہد کی کہانی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Wall Street Journal: ‘James Joyce: A Political Life’ Review: Dublin Days