جنگ کے بعد اسرائیل سے تعلقات قائم کرلیں، ٹرمپ کا پاکستان اور سعودی عرب سے مطالبہ
مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، ایران انتہائی افزودہ یورینئم سے دستبردار ہونے پر راضی ہوگیا، امریکی حکام کا دعویٰ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی اور قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل سے تعلقات قائم کرلیں۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران انتہائی افزودہ یورینئم سے دستبردار ہونے پر راضی ہوگیا ہے اور آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ مثبت خبریں آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کو پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، اردن اور ترکی کے رہنماوں سے فون پر بات کی۔ اس کال میں ایران سے مجوزہ معاہدے پر گفتگو ہوئی۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دو امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ جن مسلمان ملکوں کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، ان سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ کے بعد ابراہیم اکارڈز کے تحت معمول کے تعلقات قائم کرلیں۔ اس پر فون لائنز پر خاموشی چھاگئی اور صدر ٹرمپ نے مذاقاََ پوچھا کہ آپ لوگ لائن پر ہیں یا نہیں۔ بعد میں انھوں نے کہا کہ ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس سلسلے میں آئندہ ہفتوں میں ان سے رابطہ کریں گے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران اصولی طور پر ایک ایسے معاہدے پر متفق ہوچکے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہوجائے گا۔ ابھی اس بات پر اتفاق نہیں ہوا کہ یہ یورینیم کس طریقے سے تلف یا منتقل کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ امریکا کا اس عمل میں براہِ راست کردار ہونا چاہیے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے 1500 سے 2000 جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ معاہدے کے بعد نہ صرف بحری تجارت بحال ہوگی بلکہ عالمی توانائی بحران میں بھی کمی آئے گی۔ اسی امید پر عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت میں پانچ ڈالر کمی ہوئی اور نرخ سو ڈالر سے نیچے آگیا۔
امن معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی لیکن امریکا، ایران اور اسرائیل میں سخت گیر حلقوں کی اس پر تنقید کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا میں بعض ریپبلکن رہنماوں نے کہا ہے کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔ کچھ ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے ہاتھوں بیوقوف بن رہے ہیں۔ سینیٹر راجر وکر نے اس مجوزہ معاہدے کو تباہ کن قرار دیا ہے۔ تہران ٹائمز کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران کی قومی سلامتی کے خلاف کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا اور جنگ کی صورت میں پہلے سے سخت جواب دیا جائے گا۔ ہاریتز کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیلی مفادات کو نظر انداز کررہا ہے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا بھرپور ساتھ دیا لیکن اب وائٹ ہاؤس اسرائیل کے مؤقف کو خاطر میں نہیں لارہا۔
اس صورتحال میں تجزیہ کار سوال کررہے ہیں کہ کیا یہ معاہدہ واقعی خطے میں پائیدار امن لاسکے گا یا یہ صرف عارضی جنگ بندی ثابت ہوگا۔ ایران کا میزائل پروگرام، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے گروہوں کی حمایت، اسرائیل کی سلامتی، فلسطینی ریاست کا مسئلہ، اور عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ امریکی حکام بھی اعتراف کررہے ہیں کہ موجودہ سمجھوتا صرف ابتدائی فریم ورک ہے۔ لیکن اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے، جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور مذاکرات جاری رہتے ہیں تو دنیا سکون کا سانس لے سکے گی۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Axios: Trump asked Muslim leaders to join Abraham Accords after Iran war ends
New York Times: U.S.-Iran Peace Deal Nearer, But Could Take Days to Nail Down, U.S. Official Says
Haaretz: Israeli Defense Officials Concerned Emerging Iran Deal Ignores Israel's Interests