جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے
امریکا کی جانب سے ناکابندی جاری رکھنے کا اعلان اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل کی دھمکیاں خطرے کو بڑھارہی ہیں
امریکا کی جانب سے ایران کی سمندری ناکابندی جاری رہنے سے ایک طرف تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور دوسری جانب جنگ دوبارہ بھڑکنے کے اندیشوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ مغربی میڈیا اور تھنک ٹینکس کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کو معاشی دباؤ میں لا کر کسی نئے جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کی امریکی پالیسی کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی۔
امریکی ناکابندی کا بنیادی ہدف ایران کی تیل برآمدات ہیں جن پر اس کی معیشت بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اس کا تیل عالمی منڈی تک نہ پہنچنے سے حکومت کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ایک اور مسئلہ اس کی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے پاس زمین پر ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور سمندر میں کھڑے ٹینکر موجود ہیں۔ لیکن اگر برآمدات رکی رہیں تو یہ گنجائش جلد بھر سکتی ہے۔ اس کے بعد ایران کو یا تو پیداوار کم کرنی پڑے گی یا کنویں بند کرنا ہوں گے، جو تکنیکی طور پر مشکل اور بعض اوقات نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہی وہ معاشی دباؤ ہے جسے ماہرین خاموش ہتھیار قرار دیتے ہیں۔
دوسری طرف امریکی پالیسی کے عالمی اثرات بھی کم اہم نہیں۔ آبنائے ہرمز ایندھن کی فراہمی کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل گزرتا تھا۔ یہاں رکاوٹ ہونے سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت 120 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
اس ہفتے متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے نکلنے سے امید پیدا ہوئی ہے کہ وہ کچھ اضافی پیداوار سے مارکیٹ کو سہارا دے سکتا ہے۔ امارات کی فجیرہ پورٹ آبنائے ہرمز کو بائی پاس بھی کرتی ہے۔ حبشان فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے ابوظہبی کا تیل سیدھا فجیرہ پہنچ کر عالمی منڈی میں جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ فجیرہ کی گنجائش محدود ہے اور یہ پورے خطے کی ترسیل کا متبادل نہیں بن سکتا۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیہ کار میکس بوٹ کے مطابق ایسی ناکابندی عموماً مختصر مدت تک مؤثر رہتی ہے، کیونکہ متاثرہ ملک جلد یا بدیر کسی نہ کسی شکل میں ردعمل دیتا ہے۔ وہ ایران غیر متواز طریقوں سے جواب دے سکتا ہے، جیسے خطے میں اپنی پروکسیز کو متحرک کرنا یا محدود فوجی کارروائیاں کرنا۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ یہ کشیدگی دوبارہ کھلی جنگ میں تبدیل نہ ہوجائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب معاشی دباؤ، فوجی موجودگی اور سفارتی تعطل ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو تصادم کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ امریکا کی جانب سے ناکابندی جاری رکھنے کا اعلان اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل کی دھمکیاں خطرے کو بڑھارہی ہیں۔ ایک چھوٹی سی سمندر جھڑپ یا کسی پروکسی کی کارروائی سے دوبارہ بڑی جنگ بھڑک سکتی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Reuters: Hormuz shipping traffic remains at a trickle as US-Iran deadlock deepens
Guardian: Trump in tough spot as he tries to avoid deal that highlights US failures in Iran
CFR: Coercing Iran: Why Trump’s Hormuz Blockade Has a Short Fuse