ہم جنس پرست شاہ کی آپ بیتی
ایران میں انقلاب آیا اور ہم نے سب کچھ کھودیا، گھر، کاروبار، جڑیں، اور وہ شناخت جس پر ہمیں فخر تھا
رضا فراہان ایرانی نژاد بزنس مین، ٹی وی پرسنیلٹی اور اور رائٹر ہیں، جنھیں بے باک شخصیت اور ریئلٹی شو Shahs of Sunset کے وجہ سے شہرت ملی۔ ان کی کتاب Memoirs of a Gay Shah: My Life in the Persian Bubble ان کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔ اس میں وہ اپنے بچپن کے ایران، انقلاب کے بعد امریکا میں جلاوطنی، ثقافتی شناخت کے بحران، خاندانی زندگی اور اپنی ذاتی جدوجہد کو نہایت صاف گوئی اور دل چسپ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ یہ کتاب صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایرانی مہاجرین کے تجربات، ثقافت کے تحفظ اور نئی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کا أحوال بیان کرتی ہے۔ ان کی کتاب کا خلاصہ ان کے اپنے الفاظ میں:
میرا بچپن ایران میں گزرا۔ ایسا ایران جو خوشحال، رنگین اور زندگی سے بھرپور تھا۔ مجھے وہ گھر، وہ خوشبوئیں، وہ موسیقی اور وہ خاندانی محفلیں آج بھی یاد ہیں۔ لیکن میں بہت چھوٹا تھا جب سب کچھ بدل گیا۔ ہم 1977 میں صرف چند ہفتوں کی چھٹیوں کے لیے امریکا آئے۔ لیکن وہ سفر ہماری مستقل جلاوطنی بن گیا۔
ایران میں انقلاب آیا اور ہم واپس نہ جاسکے۔ اچانک ہم نے سب کچھ کھودیا۔ گھر، کاروبار، جڑیں، اور وہ شناخت جس پر ہمیں فخر تھا۔ امریکا میں ہم محفوظ تو تھے لیکن اجنبی بھی۔ لوگ ہمیں شک کی نظر سے دیکھتے تھے کیونکہ ان کے لیے ہم صرف ایرانی تھے اور اس وقت ایران کا نام خوف اور نفرت سے جڑا تھا۔ میں بچہ تھا لیکن اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا۔ اسکول میں، سڑک پر، یہاں تک کہ عام گفتگو میں بھی، مجھے احساس ہوتا کہ میں دوسروں جیسا نہیں ہوں۔
میرے اندر ایک عجیب سا خلا پیدا ہوگیا۔ میں نہ مکمل طور پر ایرانی رہا تھا اور نہ ہی امریکی بن پایا۔ میں اپنی شناخت کو ڈھونڈ رہا تھا۔ میرے والد نے دوبارہ زندگی شروع کی۔ انہوں نے فارسی قالینوں کے کاروبار سے نہ صرف گھر سنبھالا بلکہ دوسرے ایرانی خاندانوں کی بھی مدد کی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ایک شخص بکھری ہوئی زندگی کو ہمت اور مہارت سے دوبارہ جوڑ سکتا ہے۔
میری ماں نے گھر کو ایران کا چھوٹا سا عکس بنادیا۔ باہر کی دنیا کتنی ہی اجنبی کیوں نہ ہو، گھر کے اندر زبان، کھانا، رسمیں اور محبت ویسی ہی رہی۔ وہ میری طاقت تھیں۔ ان کی محبت نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا۔ انھوں نے مجھے احساس دیا کہ ہم نے سب کچھ نہیں کھویا بلکہ اپنے اندر بہت کچھ محفوظ رکھا ہے۔
وقت کے ساتھ میرے اردگرد ایرانیوں کی نئی کمیونٹی بننے لگی۔ ہم ایک دوسرے کا سہارا بن گئے۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔ اسی ماحول میں میں نے خود کو سمجھنا شروع کیا۔ اپنی شناخت، اپنی خواہشات، اور اپنا مقام۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، خاص طور پر اپنی جنسی شناخت کو قبول کرنا، لیکن میں نے سیکھا کہ خود کو چھپانے سے زیادہ مشکل کچھ نہیں ہوتا۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اپنی زندگی صرف مشکلات کا سلسلہ نہیں لگتی۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد تھی جس نے مجھے مضبوط بنایا۔ میں نے سیکھا کہ انسان کی اصل طاقت اس کی جڑوں میں نہیں بلکہ اس کے انتخاب میں ہوتی ہے، وہ کہاں کھڑا ہونا چاہتا ہے، اور خود کو کیسے دیکھتا ہے۔
یہ میری کہانی ہے۔ کھونے، ڈھونڈنے اور پھر خود کو نئے سرے سے بنانے کی کہانی۔