غزہ میں صحت کا بحران

دوائیں، طبی آلات اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جہاں عام بیماریاں بھی جان لیوا بن رہی ہیں

غزہ میں صحت کا بحران

فلسطین میں کام کرنے والے امدادی اداروں اور میڈیا نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صحت کا بحران محض انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ المیے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ خود اسرائیلی اخبارات کی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ جنگ کے بعد بھی حالات میں کوئی بنیادی بہتری نہیں آئی بلکہ کئی حوالوں سے صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔

اس بحران کی شدت کو سمجھنے کے لیے ہاریتز کی رپورٹ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔ دوائیں، طبی آلات اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جہاں عام بیماریاں بھی جان لیوا بن رہی ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ضروری ادویہ کا بڑا حصہ مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔

اسپتالوں کے اندر حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ڈاکٹروں کو بعض اوقات مکمل بے ہوشی کی دوا کے بغیر آپریشن کرنا پڑتا ہے جبکہ دل اور دماغ کے پیچیدہ آپریشن تقریباً بند ہوچکے ہیں۔ ہزاروں مریض ایسے ہیں جنھیں فوری علاج کی ضرورت ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث ان کا علاج ممکن نہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں 1800 سے زائد طبی مراکز یا تو تباہ ہوچکے ہیں یا جزوی طور پر ناکارہ ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس نظام کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے تقریباً دس ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

این بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے کیمپوں میں زندگی انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔ لاکھوں لوگ عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں، جہاں نہ مناسب صفائی ہے اور نہ ہی صاف پانی ۔ یہ حالات بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ خاص طور پر چوہوں اور کیڑوں کی بہتات نے انفیکشنز کو بڑھا دیا ہے۔ گندا پانی اور کھلے نالے مزید خطرات پیدا کررہے ہیں۔

امدادی ادارے خبردار کررہے ہیں کہ گرمی کے موسم میں یہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ کیمپوں میں رہنے والے افراد میں جلدی بیماریاں اور سانس کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وبائی امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

غزہ کی ایک بڑی آبادی کو خوراک کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے اور لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ جب کسی خاندان کو خوراک اور علاج کے درمیان انتخاب کونا ہو تو اکثر علاج کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، جس سے بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ ہاریتز کے مطابق سرحدی پابندیاں اور بیوروکریٹک مسائل امدادی سامان کی ترسیل کو سست کردیتے ہیں، جس کے باعث فوری مدد بھی مؤثر نہیں رہتی۔ کئی بین الاقوامی امدادی اداروں کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف طبی سہولتیں متاثر ہوئی ہیں بلکہ پانی اور صفائی کے نظام بھی بگڑ گئے ہیں۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں صحت کا بحران کئی سطحوں پر پھیل چکا ہے۔ تباہ شدہ اسپتال، دواوں کی کمی، گنجان کیمپ، آلودہ ماحول اور امداد کی کمی۔ اگر فوری اور بڑے پیمانے پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران آنے والے وقت میں مزید سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔