غریب بھوکے نہ مر جائیں

تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر زرعی پیداوار پر پڑتا ہے کیونکہ جدید زراعت مکمل طور پر توانائی پر انحصار کرتی ہے

غریب بھوکے نہ مر جائیں

ایران جنگ نے ایک ایسا خاموش بحران جنم دیا ہے جس کی آواز ابھی مدھم ہے لیکن اثرات جلد پوری دنیا میں سنائی دینے لگیں گے۔ یہ بحران خوراک کا ہے اور اس کی سب سے زیادہ قیمت غریب ممالک ادا کریں گے۔

فارن افیئرز میگزین کے ایک تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگ نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے جس کے اثرات طویل مدتی ہوں گے۔ جب تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر زرعی پیداوار پر پڑتا ہے کیونکہ جدید زراعت مکمل طور پر توانائی پر انحصار کرتی ہے۔

خوراک کے اس بحران کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آج کی زراعت صرف زمین اور پانی کا نام نہیں بلکہ کیمیکلز اور کھاد پر کھڑی پیچیدہ صنعت ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اس بارے میں تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق بیسویں صدی کے سبز انقلاب نے دنیا کو مصنوعی کھاد کا عادی بنادیا، جو زیادہ تر قدرتی گیس سے تیار ہوتی ہے۔ جیسے ہی گیس کا نرخ بڑھتا ہوتی ہے، کھاد کی قیمت میں اضفہ ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً خوراک بھی مہنگی ہوجاتی ہے۔

یہ مسئلہ مزید سنگین اس وقت ہوجاتا ہے جب ہم کیمیکل سپلائی چین کو دیکھتے ہیں۔ فارن پالیسی میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق کنگ آف کیمیکلز کہلانے والا سلفر کھاد بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی پیداوار تیل و گیس کی صنعت سے جڑی ہوئی ہے۔ جنگ کے باعث اس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے کھاد کی عالمی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔

اکانومسٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ جاری رہی تو کھاد اور ایندھن دونوں کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ اس کے نتیجے میں کسان کم کھاد استعمال کریں گے اور فصلیں کم ہوں گی۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس صورتحال میں کروڑوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے سست رفتار قحط کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو اچانک پوری شدت کے ساتھ سامنے آسکتا ہے۔ بلومبرگ بزنس ویک کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یہ بحران آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے مگر ایک وقت آئے گا جب اس کے اثرات یکدم واضح ہوجائیں گے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں پہلے ہی بنیادی سہولتیں ناکافی ہیں۔

اس پوری صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ بحران غیر مساوی ہوگا۔ امیر ممالک مہنگی خوراک خرید سکتے ہیں، متبادل ذرائع تلاش کرسکتے ہیں اور اپنے کسانوں کو سبسڈی دے سکتے ہیں۔ لیکن غریب ممالک کے کسان نہ تو مہنگی کھاد خرید سکتے ہیں اور نہ ہی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی پیداوار کم ہوگی، آمدنی گھٹے گی اور بھوک بڑھے گی۔

یوں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ اس نے دنیا کے خوراک کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والا وقت صرف معاشی بحران کا نہیں بلکہ خوراک کے عالمی بحران کا ہوگا۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑے گا جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔