فیفا ورلڈکپ، چھوٹے ٹورنامنٹ سے اربوں ڈالر کی سلطنت تک

سیپ بلاٹر جان گئے تھے کہ اصل دولت ٹکٹوں کی فروخت میں نہیں بلکہ مارکیٹنگ میں پوشیدہ ہے، ان بلاٹر کے دور میں فیفا نے نشریاتی حقوق فروخت کرکے بے پناہ آمدنی حاصل کی

فیفا ورلڈکپ، چھوٹے ٹورنامنٹ سے اربوں ڈالر کی سلطنت تک

فٹبال ورلڈ کپ آج دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر چار سال بعد اربوں لوگ اسے دیکھتے ہیں، قومی جذبات عروج پر پہنچ جاتے ہیں اور دنیا کے بہترین کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ عظیم الشان ٹورنامنٹ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اس کی ابتدا معمولی ٹورنامنٹ کے طور پر ہوئی تھی۔ لیکن پھر یہ ٹیلی ویژن مارکیٹنگ، کاروبار، سیاست اور طاقت کے گٹھ جوڑ سے اربوں ڈالر کی سلسطنت میں تبدیل ہوگیا۔ اسی سفر کے دوران فیفا پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی لگے۔

ورلڈکپ کی کہانی بیسویں صدی کے اوائل میں شروع ہوتی ہے۔ اس زمانے میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کو مختلف ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ فٹبال کے ابتدائی بین الاقوامی مقابلے اولمپکس میں ہوتے تھے۔ لیکن پھر فیفا نے فیصلہ کیا کہ صرف فٹبال کے لیے ایک عالمی چیمپئن شپ منعقد کی جائے۔ یوں 1930 میں پہلا ورلڈکپ منعقد ہوا۔ میزبان ملک یوراگوئے تھا، جو اس وقت فٹبال کی ایک بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا۔

آج کے مقابلے میں وہ ٹورنامنٹ نہایت محدود نوعیت کا تھا۔ یورپ سے جنوبی امریکا کا بحری سفر تین ہفتوں پر محیط تھا۔ کئی ٹیمیں ایک ہی جہاز میں یوراگوئے پہنچیں۔ مصر کی ٹیم جہاز چھوٹ جانے کے باعث شرکت نہ کرسکی۔ نتیجتاً پہلے ورلڈکپ میں صرف 13 ٹیمیں شامل ہوئیں۔ یوراگوئے نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر یہ مقابلہ جیت لیا، لیکن اس کامیابی کی خبر دنیا کے دوسرے حصوں تک بمشکل پہنچی۔ اس وقت نہ ٹیلی ویژن تھا اور نہ عالمی میڈیا کا وہ نظام جو آج موجود ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد صورتحال بدلنا شروع ہوئی۔ ٹیلی ویژن کی آمد نے ورلڈکپ کو مقامی کھیلوں کے مقابلے سے عالمی تماشے میں بدل دیا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں پہلے بلیک اینڈ وائٹ اور پھر رنگین نشریات نے لاکھوں لوگوں کو فٹبال سے جوڑ دیا۔ اسی دور میں برازیل کے عظیم کھلاڑی پیلے منظرعام پر آئے۔

صرف سترہ سال کی عمر میں پیلے نے 1958 کے ورلڈکپ میں دنیا کو حیران کردیا۔ ان کا کھیل یورپی ٹیموں کے منظم اور محتاط انداز سے بالکل مختلف تھا۔ وہ خوشی، تخلیقی صلاحیت اور انفرادی مہارت کی علامت بن گئے۔ جیسے جیسے ورلڈ کپ مقبول ہوتا گیا، پیلے کی شہرت بھی بڑھتی گئی۔ وہ فٹبال کے پہلے حقیقی عالمی سپر اسٹار بنے، بالکل اسی طرح جیسے بعد میں باسکٹ بال میں مائیکل جارڈن یا باکسنگ میں محمد علی کو عالمی شہرت ملی۔

پیلے کے دور ہی میں ورلڈکپ ایک بڑے کاروبار میں تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔ اس تبدیلی کا دوسرا اہم کردار سیپ بلاٹر تھا۔ سوئزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے بلاٹر نے 1975 میں فیفا میں کام شروع کیا اور 1998 میں تنظیم کے صدر بن گئے۔ وہ یہ بات جان گئے تھے کہ اصل دولت ٹکٹوں کی فروخت میں نہیں بلکہ ٹیلی ویژن اور مارکیٹنگ حقوق میں پوشیدہ ہے۔

بلاٹر کے دور میں فیفا نے دنیا بھر میں نشریاتی حقوق فروخت کرکے بے پناہ آمدنی حاصل کی۔ ایک ایسی تنظیم جو پہلے محدود وسائل رکھتی تھی، چند دہائیوں میں اربوں ڈالر کی مالک بن گئی۔ فیفا نے مختلف ممالک کی فٹبال فیڈریشنز کو ترقیاتی فنڈز بھی دینا شروع کیے تاکہ وہ اسٹیڈیم، تربیتی مراکز اور نوجوانوں کے لیے اکیڈمیاں قائم کرسکیں۔ خاص طور پر افریقا، ایشیا اور وسطی امریکا ممالک میں اس پالیسی نے بلاٹر کے لیے مضبوط سیاسی حمایت پیدا کی۔

لیکن اسی دور میں کرپشن کے شبہات بھی بڑھنے لگے۔ بلاٹر کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز صرف فٹبال کی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی حمایت حاصل کرنے کا ہتھیار بن گئے ہیں۔ وقتاً فوقتاً یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ اہم فیصلوں میں رشوت کا کردار ہوتا ہے، اگرچہ ان میں سے بہت سے الزامات برسوں تک ثابت نہیں ہوسکے۔

بلاٹر کے 1998 میں فیفا کا صدر منتخب ہونے کے وقت بھی ووٹ خریدنے کی افواہیں سامنے آئیں۔ پھر 2006 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے انتخاب پر سوالات اٹھے۔ اسی پس منظر میں فیفا نے مختلف براعظموں کو ورلڈکپ کی میزبانی دینے کا اصول متعارف کرایا، جس کے نتیجے میں 2002 میں جاپان اور جنوبی کوریا اور 2010 کا ورلڈکپ جنوبی افریقا میں منعقد ہوا۔

اصل ہنگامہ 2010 میں اس وقت برپا ہوا جب فیفا نے ایک ہی اجلاس میں 2018 اور 2022 کے ورلڈکپ میزبان ممالک کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2018 کے لیے روس اور 2022 کے لیے قطر کا انتخاب کیا گیا۔ اس فیصلے نے دنیا بھر کو حیران کیا۔ خاص طور پر قطر کے انتخاب پر شدید تنقید ہوئی کیونکہ وہ ایک چھوٹا صحرائی ملک ہے، جہاں شدید گرمی پڑتی ہے، فٹبال کا انفراسٹرکچر محدود تھا اور اس کی قومی ٹیم کبھی ورلڈکپ میں نمایاں کردار ادا نہیں کرسکی تھی۔

فیفا کے ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آخر قطر کو یہ میزبانی کیسے ملی۔ قطر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے تمام قواعد کی پابندی کی، بہترین پیشکش دی اور عرب دنیا بھی پہلی بار ورلڈکپ کی میزبانی کی مستحق تھی۔ لیکن اس فیصلے نے فیفا کے بارے میں شکوک و شبہات کو گہرا کردیا۔

اسی دوران امریکی محکمۂ انصاف نے فیفا کے معاملات میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ فیفا کے بہت سے مالی معاملات امریکی ڈالر میں ہوتے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ٹی وی حقوق اور تجارتی معاہدوں سے متعلق کئی لین دین امریکا، خصوصاً میامی اور نیویارک کے ذریعے انجام پاتے تھے۔ اس لیے امریکی حکام کے پاس تحقیقات کا قانونی جواز موجود تھا۔

تحقیقات میں ایک غیر متوقع کردار چک بلیزر نے ادا کیا، جو فیفا میں امریکی نمائندے تھے۔ ٹیکس مسائل میں پھنسنے کے بعد انھوں نے امریکی حکام سے تعاون شروع کردیا۔ ان کے ذریعے تفتیش کاروں کو فیفا کے اندرونی معاملات تک رسائی ملی۔ بعض ملاقاتوں کی خفیہ ریکارڈنگز اور مالی دستاویزات نے تحقیقات کو نئی سمت دی۔

مئی 2015 میں یہ تحقیقات اپنے عروج پر پہنچ گئیں جب سوئس پولیس نے امریکی حکام کی درخواست پر زیورخ کے ایک پرتعیش ہوٹل پر چھاپا مارا اور فٹبال کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتار کرلیا۔ ان پر رشوت، فراڈ، منی لانڈرنگ اور منظم جرائم سے متعلق الزامات عائد کیے گئے۔ اس کارروائی نے کھیلوں کی دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔

بالآخر دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ سیپ بلاٹر کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا۔ ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ فیفا کو ایک چھوٹی تنظیم سے عالمی طاقت میں تبدیل کرنے والے منتظم تھے، جبکہ ناقدین کے نزدیک ان کے دور میں فیفا میں کرپشن نے جڑیں پکڑیں۔ بہرحال ان کی رخصتی ایک عہد کے خاتمے کی علامت تھی۔

ورلڈکپ کی یہ داستان کھیل، کاروبار، سیاست اور طاقت کے ملاپ کی کہانی ہے۔ ایک ایسا ٹورنامنٹ جو 1930 میں چند ٹیموں کے ساتھ شروع ہوا، آج اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے۔ اس نے دنیا کو پیلے، میراڈونا، زیدان، رونالڈو اور میسی جیسے عظیم کھلاڑی دیے، لیکن ساتھ ہی فیفا کو ایسے بحرانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جنھوں نے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ ورلڈکپ آج بھی دنیا کا مقبول ترین کھیلوں کا مقابلہ ہے، لیکن اس کی تاریخ یہ یاد دلاتی ہے کہ کھیلوں کی بڑی کامیابیاں بھی طاقت اور مفادات کی سیاست سے مکمل طور پر الگ نہیں رہتیں۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Wall Street Journal: The World Cup Story, Part 1, Soccer and Scandal

The Atlantic: The Absurd World Cup