فٹبال ورلڈکپ کے دوران جان لیوا گرمی کا خدشہ

16 میں سے 14 میزبان شہروں میں گرمی خطرناک حد تک پہنچ سکتی ہے، انتہائی گرم موسم ایک چوتھائی میچوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے

فٹبال ورلڈکپ کے دوران جان لیوا گرمی کا خدشہ

کھیلوں کے شائقین بے چینی سے 11 جون کا انتظار کررہے ہیں جب فٹبال کا ورلڈکپ شروع ہوگا اور دنیا کے بہترین کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والا اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہوں گی اور 39 روز کے دوران 104 میچ کھیلے جائیں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ میزبان شہروں میں کھلاڑیوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا جائے گا اور بری خبر یہ کہ ان شہروں میں ورلڈکپ کے دوران گرمی خطرناک حد تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ انتہائی گرم موسم ایک چوتھائی میچوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

عالمی درجۂ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث شمالی امریکا کے کئی علاقے پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو چکے ہیں۔ اے پی کے مطابق 16 میں سے 14 میزبان شہر ایسے ہیں جہاں گرمی کی شدت انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک اور جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر ٹیکساس کے شہر ڈیلس، ہیوسٹن اور میکسیکو کا مونتری ان مقامات میں شامل ہیں جہاں دوپہر کے وقت "ویٹ بلب گلوب ٹمپریچر" خطرناک حدوں کو چھو سکتا ہے۔ یہ پیمانہ صرف درجۂ حرارت نہیں بلکہ نمی، دھوپ اور ہوا کے اثرات کو بھی مدنظر رکھتا ہے، اس لیے اسے انسانی جسم پر گرمی کے حقیقی اثرات کا بہتر اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔

این پی آر نے گزشتہ بیس برس کے ویدر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے اندازہ لگایا ہے کہ ورلڈ کپ کے ایک تہائی سے زیادہ میچ ایسے حالات میں کھیلے جاسکتے ہیں جہاں گرمی اور نمی کھلاڑیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان میں کچھ انتہائی اہم مقابلے، حتیٰ کہ فائنل اور تیسری پوزیشن کے میچ تک شامل ہیں۔ 104 میں سے 67 میچ ایسے مقامات اور اوقات میں رکھے گئے ہیں جہاں گرمی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ موجود ہے، جبکہ 39 میچوں کو "ہائی رسک" کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

شدید گرمی کے خطرات کو سمجھنے کے لیے ماضی کی مثالیں کافی ہیں۔ 2024 میں کوپا امریکا کے ایک میچ کے دوران اسسٹنٹ ریفری ہمبرتو پانخوی گرمی کی وجہ سے میدان میں بے ہوش ہوگئے تھے اور انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح میامی میں ایک بین الاقوامی مقابلے کے دوران یوراگوئے کے ایک معروف کھلاڑی کو ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے چکر آنے لگے تھے۔ 2017 میں ہیوسٹن میں انگلش کھلاڑی ریچل ڈیلی گرمی سے نڈھال ہو کر میدان میں گر گئی تھیں۔ ان واقعات نے واضح کیا کہ ماڈرن فٹبال میں گرمی ایک حقیقی اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔

فیفا اور میزبان شہروں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ کھلاڑیوں کو ہر ہاف کے دوران تین منٹ کا لازمی واٹر بریک دیا جائے گا، چاہے موسم کیسا ہی ہو۔ ٹیموں کو پانچ متبادل کھلاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ ٹیموں کے میچوں کے درمیان کم از کم تین دن کا وقفہ رکھا گیا ہے۔ متبادل کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے لیے ائیر کنڈیشنڈ بینچوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

فیفا نے ایک خصوصی "ہیٹ النیس مٹیگیشن اینڈ مینجمنٹ ٹاسک فورس" بھی تشکیل دی ہے جس میں طبی اور انتظامی ماہرین شامل ہیں۔ اس فورس کا مقصد گرمی کے خطرات کی نگرانی، الرٹ سسٹم کی تیاری اور طبی ہنگامی منصوبوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ گرم ترین اوقات میں ہونے والے میچوں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے اور جہاں ممکن ہوا، وہاں مقابلے چھت والے اسٹیڈیموں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

تماشائیوں کے لیے بھی مختلف انتظامات کیے جارہے ہیں۔ اگر کسی شہر میں شدید گرمی کی وارننگ جاری ہوتی ہے تو پانی کے اضافی فوارے، مسٹنگ اسٹیشن، سایہ دار علاقے اور طبی امدادی مراکز فعال کردیے جائیں گے۔ وینکوور، لاس اینجلس اور نیویارک جیسے شہروں نے گرمی سے متعلق حفاظتی پیغامات کئی زبانوں میں جاری کرنے کے منصوبے بنائے ہیں تاکہ غیر ملکی شائقین بروقت معلومات حاصل کرسکیں۔

اس کے باوجود ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔ این پی آر کے مطابق میامی، ہیوسٹن، ڈلاس اور اٹلانٹا جیسے شہروں میں اوسط درجۂ حرارت 80 سے 84 فارن ہائیٹ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ بعض اسٹیڈیم مکمل طور پر کھلے ہیں اور ان پر چھت موجود نہیں۔ ایسے حالات میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو مسلسل دھوپ اور نمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بلوم برگ کی ایک تفصیلی رپورٹ نے اس بحث میں ایک اور پہلو شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک چوتھائی میچ ایسے موسم میں کھیلے جائیں گے جو بعض ٹیموں کے لیے واضح نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ چونکہ ٹیمیں مختلف شہروں میں سفر کرتی رہیں گی، اس لیے کچھ کو نسبتاً ٹھنڈے ماحول میں کھیلنے کا موقع ملے گا جبکہ دوسروں کو شدید گرمی اور نمی میں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ یوں موسم خود ایک طرح کا حریف بن جائے گا جو کھیل کے میدان میں برابری کے اصول کو متاثر کرسکتا ہے۔

پچھلا ورلڈ کپ قطر میں موسم سرما میں منعقد کیا گیا تھا کیونکہ گرمی کی شدت ناقابلِ برداشت سمجھی گئی تھی۔ اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا مستقبل میں بھی بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے شیڈول تبدیل کرنے پڑیں گے؟ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی درجۂ حرارت اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو موسم گرما میں عالمی کھیلوں کے انعقاد پر ازسرِنو غور کرنا پڑسکتا ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

AP: This year’s World Cup games could be sizzling

NPR: These World Cup games are most at risk for dangerously hot weather

Bloomberg: Some World Cup Teams Will Face a Much Hotter Tournament