فلم بنائی تھی یا نہیں؟

فلم کے بارے میں مختلف لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ مکمل ہوگئی تھی، کچھ کہتے ہیں کہ یہ ادھوری رہ گئی، اور کچھ کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا

فلم بنائی تھی یا نہیں؟

ڈینیئل کیلمین جرمنی کے بیسٹ سیلر ناول نگار ہیں۔ وہ درجن بھر ناول اور کئی فلمیں اور ڈرامے لکھ چکے ہیں۔ متعدد ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں۔ ان کا نیا ناول دا ڈائریکٹر بکر انٹرنیشنل کے لیے نامزد ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقی آسٹرین فلم ڈائریکٹر کی زندگی پر مبنی ہے۔

ناول کا آغاز ایک بوڑھے آدمی فرانز ولزیک سے شروع ہوتا ہے جو ایک نرسنگ ہوم میں رہتا ہے۔ اس کی یادداشت کمزور ہوچکی ہے اور وہ اکثر بھول جاتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہے۔ ایک دن ایک کار اسے لینے آتی ہے اور اسے ایک ٹیلی وژن اسٹوڈیو لے جاتی ہے۔ راستے بھر وہ الجھن کا شکار رہتا ہے اور اسے کچھ بھی واضح طور پر یاد نہیں آتا۔ اسٹوڈیو پہنچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیا ہے جہاں اس سے اس کی ماضی کی زندگی کے بارے میں سوال کیے جائیں گے۔

پروگرام میں میزبان اس کا تعارف ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر کراتا ہے اور اس کی پرانی فلموں کا ذکر کرتا ہے۔ ولزیک اپنی پرانی فلموں کے بارے میں کچھ باتیں بتاتا ہے، لیکن وہ بار بار بات بھول جاتا ہے۔ جب اس سے ایک خاص فلم کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ فلم کبھی بنی ہی نہیں۔ دوسرے لوگ اصرار کرتے ہیں کہ وہ فلم بنی تھی۔ انٹرویو کے دوران اس کے ذہن میں کچھ مناظر ابھرتے ہیں، جیسے وہ خود اس فلم کے سیٹ پر موجود ہو، لیکن وہ پھر بھی اس بات سے انکار کرتا رہتا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر وہ تھک جاتا ہے اور واپس نرسنگ ہوم بھیج دیا جاتا ہے۔

کہانی ماضی میں چلی جاتی ہے اور ایک مشہور فلم ڈائریکٹر جی ڈبلیو پابسٹ کی زندگی دکھاتی ہے۔ وہ جرمنی میں ایک کامیاب ہدایت کار ہوتا ہے۔ لیکن نازیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنا ملک چھوڑ کر ہالی وڈ چلا جاتا ہے۔ ہالی وڈ میں اس کا استقبال تو کیا جاتا ہے لیکن اسے جلد احساس ہوتا ہے کہ وہاں کے فلمساز اس کے خیالات کو نہیں سمجھتے۔ اسے ایک فلم اے ماڈرن ہیرو  بنانے کی پیشکش کی جاتی ہے لیکن وہ اس کے اسکرپٹ سے مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ ایک مختلف اور سنجیدہ کہانی بنانا چاہتا ہے لیکن پروڈیوسر اس کی بات نہیں مانتے۔

پابسٹ ہالی وڈ میں رہتے ہوئے ایک نئی کہانی کے بارے میں سوچتا ہے جس میں ایک جہاز پر سفر کرنے والے لوگوں کے درمیان اچانک جنگ کی خبر پھیلتی ہے اور سب لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ جنگ کی خبر غلط تھی۔ وہ اس خیال کو فلم میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن کوئی اس میں دلچسپی نہیں لیتا۔ آخرکار وہ مجبوری میں وہی فلم بنانے پر آمادہ ہوجاتا ہے جو اسے دی گئی تھی۔

اسی دوران پابسٹ اپنی پرانی اداکارہ گریٹا گاربو سے ملتا ہے جسے اس نے کیریئر کے آغاز میں موقع دیا تھا۔ وہ اس سے اپنی نئی فلم میں کام کرنے کی درخواست کرتا ہے لیکن گاربو انکار کردیتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ یہ فلم اس کے لیے مناسب نہیں ہے۔ پابسٹ اس سے اپنی مشکلات بیان کرتا ہے لیکن وہ اس کی مدد نہیں کرتی۔

کچھ عرصے بعد پابسٹ ہالی وڈ چھوڑ کر واپس جرمنی آجاتا ہے جہاں نازی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ وہاں وہ دوبارہ فلمیں بنانا شروع کرتا ہے لیکن اب اس کا کام پہلے جیسا نہیں رہتا۔ حالات بدل چکے تھے اور اس کی فلمیں بھی ایک خاص نظام کے تحت بنتی ہیں۔

اسی دوران ایک نئی فلم کی تیاری شروع ہوتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جنگ کے آخری دنوں میں بن رہی تھی۔ اس فلم کی شوٹنگ مشکل حالات میں ہوتی ہے۔ شہر میں افراتفری ہوتی ہے، جنگ اپنے اختتام کے قریب ہوتی ہے اور ہر طرف خوف کا ماحول ہوتا ہے۔ اس فلم کے بارے میں مختلف لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ مکمل ہوگئی تھی، کچھ کہتے ہیں کہ یہ ادھوری رہ گئی، اور کچھ کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

وقت گزرتا ہے اور جنگ ختم ہوجاتی ہے۔ بہت سی چیزیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس فلم کا بھی کوئی سراغ نہیں ملتا۔ فلم کے نیگیٹو غائب ہوجاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کا کیا بنا۔ کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کے کچھ مناظر دیکھے تھے لیکن کوئی ثبوت موجود نہیں ہوتا۔

کہانی دوبارہ حال میں آتی ہے جہاں وہی نوجوان ایڈیٹر، جس نے ولزیک کو پروگرام میں بلایا تھا، اس گمشدہ فلم کے بارے میں تحقیق کررہا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے والد اس فلم میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرچکے تھے۔ وہ ولزیک سے اس بارے میں بات کرتا ہے اور اس سے سچ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ولزیک مسلسل یہی کہتا رہتا ہے کہ وہ فلم کبھی بنی ہی نہیں۔

نوجوان مختلف لوگوں سے معلومات اکٹھی کرتا ہے اور پرانے ریکارڈز تلاش کرتا ہے لیکن اسے کوئی واضح جواب نہیں ملتا۔ ہر شخص کی بات مختلف ہوتی ہے اور حقیقت دھندلی ہوتی جاتی ہے۔ کچھ یادیں حقیقت سے ملتی جلتی ہیں، کچھ ایک دوسرے سے متضاد ہوتی ہیں۔

آخر میں کہانی اسی غیر یقینی صورتحال پر ختم ہوتی ہے۔ ولزیک اپنی کمزور یادداشت کے ساتھ اپنے ماضی کے ٹکڑوں کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔ گمشدہ فلم کا راز حل نہیں ہوتا اور یہ واضح نہیں ہوپاتا کہ وہ واقعی بنی تھی یا نہیں۔ پابسٹ کی زندگی بھی ایک ادھوری کہانی کی طرح سامنے آتی ہے۔ اس میں کامیابیاں بھی ہیں اور ناکامیاں بھی۔ لیکن بہت سی باتیں ہمیشہ کے لیے دھند میں چھپی رہتی ہیں۔