فہمیدہ ریاض سے آخری ملاقات

میں دو تین کتابیں ساتھ لے کر گیا تھا، ایک کا نام تم کبیر تھا، ادیب دوسروں کے ہاتھ میں اپنی کتابیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، وہ میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر افسردہ ہوئیں

فہمیدہ ریاض سے آخری ملاقات