دنیا کا سب سے پہلا ناول

چار سو سال پرانے قصے کا مرکزی کردار ایسا مقبول ہوا کہ آج بھی غیرحقیقی خوابوں کے پیچھے بھاگنے والے کو ڈون کی ہوٹے کہا جاتا ہے

دنیا کا سب سے پہلا ناول

ہر زبان کا ایک ایسا مصنف ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔ انگریزی کے لیے شیکسپیئر، اطالوی زبان کے لیے دانتے اور جرمن کے لیے گوئٹے کا نام لیا جاتا ہے۔ ہسپانوی ادب کا سب سے روشن نام میگیل دی سروانتیس ہے۔ انھوں نے ایک ایسا ناول لکھا جو آج بھی دنیا کے سب سے اہم اور اثرانداز ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا عنوان ڈون کی ہوٹے ہے۔ بہت سے ناقدین اسے دنیا کا پہلا ناول کہتے ہیں، کیونکہ اس میں کرداروں کی نفسیات، سماجی حقیقت اور طنز ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

میگیل دی سروانتیس چار صدیوں پہلے کے ہسپانوی ادیب تھے۔ انھوں نے فوج میں خدمات انجام دیں، جنگوں میں حصہ لیا، قید بھی ہوئے اور مالی مشکلات کا سامنا بھی کیا۔ لیکن ان تجربات نے ان کے اندر وہ گہرائی پیدا کی جو ان کی تحریر میں جھلکتی ہے۔ ان کا یہ ناول 1605 اور 1615 میں دو حصوں میں شائع ہوا اور فوراً ہی مقبول ہوگیا۔

ناول کی کہانی اسپین کے علاقے لا مانچا میں پیش آتی ہے، جو سادہ اور خشک میدانوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ یہاں ایک ادھیڑ عمر شخص رہتا ہے جس کا نام الونسو کیخانو ہے۔ وہ غریب لیکن خوددار زمیندار ہے۔ اسے پرانی کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے، جن میں بہادر شہسوار مہم پر نکلتے ہیں، دشمنوں سے لڑتے ہیں اور مظلوموں کی مدد کرتے ہیں۔ وہ اتنی زیادہ یہ کتابیں پڑھتا ہے کہ رفتہ رفتہ حقیقت اور خیال کے درمیان فرق کھو بیٹھتا ہے۔

ایک دن وہ فیصلہ کرتا ہے کہ خود بھی ایک شہسوار بنے گا۔ وہ پرانے بوسیدہ ہتھیار نکالتا ہے، ایک کمزور گھوڑے کو روسینانتے کا نام دیتا ہے اور خود کو ڈون کی ہوٹے دے لا مانچا کہلانے لگتا ہے۔ وہ ایک عام دیہاتی لڑکی الدونزا کو اپنی محبوبہ بنا کر اسے ایک شاہانہ نام دیتا ہے، ڈولسینیا دل توبوسو۔ اس نے اس لڑکی سے کبھی بات تک نہیں کی ہوتی لیکن اس کے خیال میں وہ ایک شہزادی ہے۔

یہاں سے اس کے عجیب و غریب سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

اپنے پہلے سفر میں ڈون کی ہوٹے ایک عام سرائے کو قلعہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ وہ اس کے مالک سے درخواست کرتا ہے کہ اسے باقاعدہ شہسوار بنایا جائے۔ سرائے کا مالک اس کی دیوانگی کو سمجھ کر اس کا ساتھ دیتا ہے اور ایک مزاحیہ انداز میں اسے نائٹ بنادیتا ہے۔

جلد ہی وہ چند تاجروں کو روک کر ان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس کی محبوبہ ڈولسینیا کی خوبصورتی کو تسلیم کریں۔ جب وہ مذاق میں اس کی بات ماننے سے انکار کرتے ہیں، تو وہ حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس کا گھوڑا پھسل جاتا ہے اور وہ خود بھی زمین پر گر جاتا ہے۔ ایک نوکر اسے بری طرح پیٹتا ہے۔ یہ اس کی پہلی بڑی ناکامی ہوتی ہے۔

کچھ دن بعد وہ دوبارہ سفر پر نکلتا ہے۔ اس بار ایک سادہ دیہاتی سانچو پانزا اس کے ساتھ چل پڑتا ہے اور خدمت گار بن جاتا ہے کیونکہ ڈون کی ہوٹے اسے ایک جزیرے کا گورنر بنانے کا وعدہ کرتا ہے۔ سانچو عملی اور حقیقت پسند ہے جبکہ ڈون کی ہوٹے خوابوں میں جینے والا شخص ہے۔ ان دونوں کی جوڑی ناول کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔

ناول کا سب سے مشہور واقعہ وہ ہے جب ڈون کی ہوٹے پن چکی کو دیو سمجھ لیتا ہے۔ وہ ان پر حملہ کرتا ہے لیکن ہوا کے جھونکے سے اس کا نیزہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ سانچو اسے سمجھاتا ہے کہ یہ دیو نہیں بلکہ پن چکی ہیں لیکن ڈون کی ہوٹے اس کی بات ماننے کے بجائے کہتا ہے کہ کسی جادوگر نے دیوؤں کو پنکھوں میں بدل دیا ہے تاکہ وہ اپنی فتح کا اعلان نہ کرسکے۔

یہ ناول صرف ایک مزاحیہ کہانی نہیں بلکہ ایک گہری علامت ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ خواب دیکھنا ضروری ہے لیکن حقیقت سے کٹ جانا خطرناک ہے۔ ڈون کی ہوٹے کا کردار ایک طرف مضحکہ خیز ہے لیکن دوسری طرف وہ ہمدردی بھی پیدا کرتا ہے کیونکہ اس کے اندر نیکی اور انصاف کی خواہش موجود ہے۔ آج بھی جب کوئی شخص غیرحقیقی خوابوں کے پیچھے بھاگتا ہے تو اسے ڈون کی ہوٹے کہا جاتا ہے۔