چینی الیکٹرک گاڑیاں اتنی سستی کیوں ہیں؟

ٹیسلا کے پاس برانڈ اور ابتدائی برتری ہے لیکن چینی کمپنیوں کے پاس کم لاگت، زیادہ رفتار اور اختراع کی طاقت ہے

چینی الیکٹرک گاڑیاں اتنی سستی کیوں ہیں؟

پوری دنیا میں ایندھن کا بحران ہے جس کی وجہ سے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت بڑھنے کا امکان ہے۔ لیکن حقیقیت یہ ہے کہ اس کاروبار میں برتری کا عالمی مقابلہ پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔ ایلون مسک کی ٹیسلا نے اس صنعت کو مقبول بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن اب چینی کمپنیاں نہ صرف اس کا مقابلہ کررہی ہیں بلکہ کئی شعبوں میں اسے پیچھے بھی چھوڑ رہی ہیں۔

ٹیسلا اب بھی بڑی عالمی کمپنی ہے لیکن چین جیسے اہم بازار میں اس کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ چین میں چند سال پہلے تک مغربی کمپنیوں کا حصہ دو تہائی تھا جو کم ہوکر ایک تہائی کے قریب رہ گیا ہے۔ چینی کمپنیاں نہ صرف مقامی مارکیٹ پر قابض ہو رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی جگہ بنارہی ہیں۔

چینی الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی کم قیمت ہے، لیکن اس کے پیچھے صرف سبسڈی نہیں بلکہ مکمل صنعتی حکمت عملی ہے۔ بڑے پیمانے پر پیداوار، سستی انجینئرنگ لیبر اور پرزوں پر خود انحصاری نے ان کمپنیوں کو وہ برتری دی ہے جو مغربی کمپنیاں آسانی سے حاصل نہیں کر سکتیں۔ مثال کے طور پر BYD اور ٹیسلا کے درمیان فی گاڑی کئی ہزار ڈالر کا فرق ہے۔ اس میں سبسڈی کا حصہ بہت کم ہے۔

چین میں نہ صرف درمیانی قیمت کی گاڑیاں بلکہ انتہائی سستی گاڑیاں بھی دستیاب ہیں۔ کچھ چینی الیکٹرک گاڑیاں صرف چھ ہزار ڈالر میں فروخت ہو رہی ہیں، جیسے Hongguang Mini EV، جو ترقی پذیر ممالک میں موٹر سائیکلوں کا متبادل بن سکتی ہے۔ اس رجحان پر بلوم برگ نے بھی روشنی ڈالی ہے کہ سستی الیکٹرک گاڑیاں توانائی کے بحران کے دوران خاص طور پر زیادہ پرکشش ہورہی ہیں۔

دوسری طرف چینی کمپنیوں نے صرف قیمت پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ NIO کے بیٹری تبدیل کرنے کے نظام نے ایک بڑی رکاوٹ یعنی چارجنگ کے وقت کو تقریبا ختم کردیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے گاڑی کی بیٹری صرف تین منٹ میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔ چین میں ہزاروں ایسے اسٹیشن قائم ہوچکے ہیں اور کروڑوں بار بیٹریاں تبدیل کی جا چکی ہیں، جس سے یہ نظام عملی طور پر کامیاب ثابت ہورہا ہے۔

چینی مارکیٹ کی ایک اور خاص بات اس کی شدید مسابقت ہے۔ وہاں صرف ایک یا دو بڑی کمپنیاں نہیں بلکہ درجنوں برانڈز موجود ہیں، جن میں BYD، Geely، NIO، اور اب Xiaomi جیسے نئے کھلاڑی بھی شامل ہوچکے ہیں۔ Xiaomi کی مثال خاص طور پر دلچسپ ہے جس نے صرف چند سالوں میں لاکھوں گاڑیاں فروخت کردی ہیں۔ یہ تعداد چین کی سب سے بڑی مارکیٹ میں ٹیسلا کی فروخت کے برابر ہے۔ اس پیشرفت کو فائننشل ٹائمز نے اجاگر کیا ہے کہ صرف دو سال میں Xiaomi نے ساڑھے چھ لاکھ گاڑیاں فراہم کی ہیں اور اب یورپ میں ٹیسلا کو چیلنج کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

Xiaomi کی گاڑیاں تیز رفتار، جدید سافٹ ویئر اور اسمارٹ فیچرز کے باعث مغربی کمپنیوں کے لیے بڑا چیلنج بن رہی ہیں۔ کمپنی کی فیکٹریاں خودکار ہیں، جہاں ہر 76 سیکنڈ میں ایک گاڑی تیار ہورہی ہے۔ یہ رفتار اور کارکردگی اس بات کی علامت ہے کہ چینی صنعت کس حد تک ترقی کرچکی ہے۔

البتہ اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ کچھ چیلنج بھی ہیں۔ چین کی مقامی مارکیٹ میں مسابقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ منافع کم ہورہا ہے اور کچھ کمپنیوں کو بیرون ملک مارکیٹس کی تلاش ہے۔ اس میں کامیابی بھی ہورہی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق صرف ایک سہ ماہی میں چین نے 9 لاکھ 35 ہزار الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں برآمد کیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔ البتہ یورپ اور امریکا میں داخلہ آسان نہیں کیونکہ وہاں برانڈ سے وفاداری، ریگولیشنز اور سیاسی مسائل رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

مستقبل کے امکانات پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس انڈسٹری میں اصل مقابلہ اب تین چیزوں پر ہوگا، قیمت، ٹیکنالوجی اور عالمی رسائی۔ ٹیسلا کے پاس برانڈ اور ابتدائی برتری ہے لیکن چینی کمپنیوں کے پاس کم لاگت، زیادہ رفتار اور اختراع کی طاقت ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Bloomberg: This $6,000 EV Should Be Winning the Energy Shock

Financial Times: China’s smartphone king takes on Elon Musk in Europe with premium EVs