چین میں غیر معمولی ذہین طلبہ کی علیحدہ کلاسز پر پابندی
شنگ ٹنگ یاؤ کلاسز ابتدا میں چین کے سائنسی اور تکنیکی مستقبل کے لیے اہم منصوبہ سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب وزارتِ تعلیم انھیں تعلیمی مساوات کے خلاف تصور کررہی ہے
چین میں تعلیم ہمیشہ سے سخت مقابلے، امتحانی دباؤ اور "بہترین اسکول" کی دوڑ سے جڑی رہی ہے۔ لیکن اب چینی حکومت اسی نظام کے ایک اہم حصے کو محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں چین کے کئی شہروں میں ان خصوصی "ایلیٹ کلاسز" کو بند یا محدود کیا گیا ہے جنھیں ذہین اور غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے طلبہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور "شنگ ٹنگ یاؤ کلاسز" ہیں، جنھیں معروف چینی نژاد امریکی ریاضی دان شنگ ٹنگ یاؤ نے شروع کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پروگرام تعلیمی مساوات کو نقصان پہنچارہے تھے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے باصلاحیت طلبہ کے لیے مواقع کم ہوجائیں گے۔
شنگ ٹنگ یاؤ کلاسز کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا تھا کہ ریاضی اور طبیعیات میں غیرمعمولی صلاحیت رکھنے والے بچوں کو کم عمری ہی سے اعلیٰ تربیت دی جائے تاکہ چین مستقبل میں عالمی سطح کے سائنس دان اور ریاضی دان پیدا کرسکے۔ 2021 میں شروع کیے گئے اس منصوبے کو چینی ٹیکنالوجی اور صنعت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ چین چاہتا تھا کہ وہ مغربی ممالک، خاص طور پر امریکا پر تکنیکی انحصار کم کرے اور مصنوعی ذہانت، چپس، سائنس اور انجینئرنگ میں اپنی برتری قائم کرے۔
یہ پروگرام جلد والدین میں بے حد مقبول ہوگیا۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ کلاسز محض اضافی تعلیم نہیں بلکہ ایک "سنہری راستہ" تھیں، کیونکہ ان کے ذریعے بچوں کو چین کے بہترین اسکولوں اور بعد میں سنگھوا یونیورسٹی جیسے اداروں تک رسائی کا امکان پیدا ہوجاتا تھا۔ بیجنگ، شنگھائی، گوانگ ڈونگ اور دوسرے صوبوں کے معروف اسکول ان کلاسز کی میزبانی کررہے تھے۔ بعض مقامات پر ان پروگراموں میں داخلے کے لیے بچوں کو ابتدائی جماعتوں ہی سے خصوصی کوچنگ دی جاتی تھی۔ چینی ویب سائٹ چائے شن کے مطابق شنگ ٹنگ یاؤ کلاسز ابتدا میں چین کے سائنسی اور تکنیکی مستقبل کے لیے ایک اہم منصوبہ سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب وزارتِ تعلیم انھیں تعلیمی مساوات کے خلاف تصور کررہی ہے۔
چین نے گزشتہ چند برسوں میں "ڈبل ریڈکشن" پالیسی متعارف کرائی تھی جس کا مقصد بچوں پر ہوم ورک اور ٹیوشن کا دباؤ کم کرنا تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ تعلیم مقابلے اور امتحانات کی جنگ نہ بنے بلکہ ایک متوازن عمل رہے۔ لیکن یاؤ کلاسز اور اسی نوعیت کے دوسرے پروگراموں نے دوبارہ کوچنگ سینٹرز، اولمپیاڈ تیاری اور سخت مقابلے کی فضا کو بحال کردیا۔
چینی حکومت نے اب "سن شائن انرولمنٹ" مہم کے تحت ایسے پروگراموں پر سخت پابندیاں لگانا شروع کردی ہیں۔ وزارتِ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اسکول امتحانات، انٹرویوز یا خفیہ انتخابی عمل کے ذریعے "خاص کلاسیں" نہیں بناسکتے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع ملنے چاہییں اور اسکولوں کو بہترین طلبہ چننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
فارن پالیسی میگزین کے مطابق چین میں ان ایلیٹ سرکاری اسکولوں کی حیثیت امریکا کی آئی وی لیگ یا برطانیہ کے ایلیٹ تعلیمی اداروں جیسی ہے۔ فرق یہ ہے کہ چین میں یہ ادارے نجی نہیں بلکہ ریاستی نظام کا حصہ ہیں۔ بااثر خاندان اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماضی میں چند معروف اسکولوں میں داخلے کے لیے بھاری رشوتیں بھی دی جاتی رہی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف چند ایلیٹ کلاسز تک محدود نہیں تھا۔ عام اسکولوں میں بھی والدین اساتذہ یا حکام کو رشوت دے کر بچوں کو بہتر سیکشنز یا ٹاپ کلاسز میں شامل کرانے کی کوشش کرتے تھے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو چینی معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھ جائے گا اور زیادہ وسائل صرف امیر خاندانوں تک محدود رہ جائیں گے۔
اس پالیسی پر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ہر طالب علم کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے ذہین بچوں کے لیے خصوصی پروگرام ضروری ہیں۔ اگر ایسے بچوں کو اضافی مواقع نہ ملیں تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہوسکتی ہیں۔ حکومت کے حامی کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کاروبار بن گئی تھی۔ اسکول اور کوچنگ ادارے یاؤ کلاسز کے نام پر بچوں اور والدین پر شدید دباؤ ڈال رہے تھے۔
یہ تبدیلی صدر شی جن پنگ کے اس وژن کا حصہ سمجھی جارہی ہے جس میں مشترکہ خوشحالی اور سماجی مساوات پر زور دیا جارہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں چین نے نجی ٹیوشن انڈسٹری، ٹیک کمپنیوں اور بعض اشرافیہ سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔ تعلیمی میدان میں حالیہ کریک ڈاؤن اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Foreign Policy: Why China Is Cracking Down on Elite Education
Caixin Global: China Phases Out Elite Math Programs in Push for Educational Equality