چوری کیا گیا انقلاب
شاہ کے خلاف متحد ہونے والوں اس وقت کے نظام سے مشترکہ نفرت نے جوڑا، لیکن ایسا انقلاب جو مساوات اور بے پناہ امیدوں کے ساتھ شروع ہوا، بالآخر ایک مافیا ریاست میں بدل گیا
رضا اصلان
اس سال ایران پر بمباری شروع ہونے سے پہلے جنگ کے حامیوں نے اسے حکومت کی تبدیلی کا ممکنہ ذریعہ قرار دیا تھا۔ ان کے خیال میں یہ ایسی حکومت کے لیے آخری دھچکا ثابت ہوسکتا تھا جو برسوں کے معاشی بحران اور سیاسی بے چینی سے پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی۔ بہت سے بیرونی مبصرین کو لگتا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کے گرنے کا وقت قریب آچکا ہے۔ لیکن امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ بمباری نے الٹا ایرانی ریاست کے سب سے سخت گیر عناصر کو مزید مضبوط کردیا۔
جو لوگ جدید ایران سے واقف ہیں، وہ جانتے تھے کہ یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ جو مواقع اس نظام کو گراتے ہوئے معلوم ہوئے، وہی اس کی بقا کا ذریعہ بن گئے۔ یہی وہ بار بار دہرایا جانے والا واقعہ ہے جسے نیویارک ٹائمز کی صحافی یگانہ تربتی اور سینئر نامہ نگار بزرگمہر شرفالدین نے اپنی کتاب اسٹولن ریوولوشن یا چوری شدہ انقلاب میں بیان کیا ہے۔ یہ ایران میں گزشتہ نصف صدی کے اتار چڑھاؤ کا نہایت باریک بینی سے تیار کیا گیا اور دل گرفتہ کردینے والا جائزہ ہے۔
مصنفین کے مطابق 1979 کا انقلاب، جس نے موجودہ اسلامی جمہوریہ کو جنم دیا، دراصل اس کشیدگی کا نقطۂ عروج تھا جو 1950 کی دہائی میں سی آئی اے کی حمایت سے ہوئی بغاوت کے بعد شدت اختیار کرگئی تھی۔ اس بغاوت نے مختصر جلاوطنی کے بعد شاہ کو دوبارہ اقتدار میں پہنچایا تھا۔ اس انقلاب کو انصاف، آزادی اور اخلاقی نظم کے وعدوں نے تقویت دی، جبکہ غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد بھی اس کا اہم محرک تھی، جس کی جڑیں بیسویں صدی کے آغاز کی آئینی تحریک تک جاتی تھیں۔ شاہ کے خلاف متحد ہونے والوں میں علما، بائیں بازو کے کارکن، طلبہ، قوم پرست اور سیکولر دانشور شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر کو مستقبل کے کسی مشترک تصور نے نہیں بلکہ اس وقت کے نظام سے مشترکہ نفرت نے جوڑ رکھا تھا۔
لیکن جب اقتدار آیت اللہ روح اللہ خمینی کے گرد جمع ہونے والی مذہبی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگا تو ایک متنوع تحریک بتدریج سکڑتی چلی گئی۔ حکومت نے اپنے سابق اتحادیوں کو جیلوں میں ڈالا، ملک بدر کیا اور ان کا تعاقب کیا۔ مصنفین لکھتے ہیں کہ "ایک ایسا انقلاب جو مساوات اور بے پناہ امیدوں کے ساتھ شروع ہوا تھا، بالآخر ایک مافیا ریاست میں بدل گیا۔"
کتاب کے ابتدائی حصے میں اس دور کو مہدی کروبی کی زندگی کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ نوجوان کروبی 1966 میں خفیہ طور پر عراق گئے تاکہ جلاوطن خمینی سے ملاقات کرسکیں۔ وہ سرحد کے قریب کھجوروں کے جھنڈ میں چھپے رہے، پھر نجف میں خمینی کے سادہ سے گھر پہنچے اور روتے ہوئے ان کے ہاتھ چومے۔ بعد کے برسوں میں کروبی نے ایران بھر میں خمینی کی تقاریر پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انھیں بارہا گرفتار کیا اور وہ اکثر دوسرے سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیلوں کے فرش پر سوتے تھے۔
بعد میں کروبی نے ان اداروں کی تعمیر میں مدد دی جنھوں نے اسلامی جمہوریہ کو سہارا دیا۔ انھوں نے انقلاب کا دفاع کیا، مغربی موسیقی پر پابندی اور قدامت پسند لباس کے ضابطوں کی حمایت کی۔ لیکن وقت کے ساتھ حکومت اس سے کہیں زیادہ سخت اور بے رحم ہوگئی جتنا انھوں نے تصور کیا تھا۔ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر پھانسیاں اور تشدد معمول بن گئے۔ 1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ نے اس تبدیلی کو اور تیز کیا۔ آٹھ سالہ جنگ نے پاسدارانِ انقلاب کو طاقتور بنایا اور قربانی، نگرانی اور مستقل ہنگامی حالت کی سیاست کو معاشرے میں راسخ کردیا۔
دو ہزار کی دہائی تک کروبی پارلیمنٹ میں بیٹھے ریاستی سکیورٹی اداروں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر تنقید کررہے تھے۔ 2009 میں جب محمود احمدی نژاد کے متنازع انتخاب کے خلاف گرین موومنٹ ابھری تو کروبی حکومت کے اندر سے بلند ہونے والی سب سے نمایاں تنقیدی آوازوں میں شامل تھے۔
اگر کتاب کا پہلا حصہ اقتدار کے ارتکاز کی کہانی ہے تو دوسرا حصہ مزاحمت کے تسلسل پر ہے۔ یہاں کتاب خاص طور پر زندہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں ان نوجوان ایرانیوں کی داستان ہے جنھوں نے انقلاب کو بطور یادداشت نہیں بلکہ ایک سیاسی ورثے کے طور پر پایا۔
مصنفین نے محمد خاتمی کے دور میں شہری معاشرے کے دوبارہ ابھرنے کی تفصیل بیان کی ہے۔ اخبارات پھلے پھولے، طلبہ تنظیمیں اور ادبی حلقے وجود میں آئے، اور جمہوری طرزِ عمل روزمرہ زندگی کا حصہ بننے لگا۔ مصنفین کے بقول، "جمہوریت وہ نظام تھا جس کے تحت یہ نوجوان اپنی تنظیمیں چلاتے تھے، اس لیے انھیں یہ فطری لگنے لگا کہ ملک بھی اسی طرح چلنا چاہیے۔"
اس میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ سترہ سالہ کارکن ہیلا صدیقی نے پانچ سو افراد کے لیے مشاعرے کا اہتمام کیا، لیکن مقامی حکام نے اسے اچانک منسوخ کردیا۔ انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور بیوروکریسی کی تہوں سے گزرتے ہوئے بالآخر ایک خوفزدہ سرکاری اہلکار سے اجازت نامہ حاصل کرلیا۔ دستخط کرتے وقت اس اہلکار نے کہا، "میں یہ آگ تمہارے لیے بھی جلا رہا ہوں اور اپنے لیے بھی۔"
کتاب گرین موومنٹ کے جوش و خروش کو بھی خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ انتخابی مواد زیرِ زمین ریلوے اسٹیشنوں میں بلوٹوتھ کے ذریعے ایک فون سے دوسرے فون تک پہنچتا تھا۔ تہران میں میلوں لمبی انسانی زنجیر بنائی گئی۔ نوجوان کارکنوں کو یقین تھا کہ اگر لوگ بڑی تعداد میں نکل آئیں تو حکومت کی دھاندلی ناکام ہوجائے گی۔
لاکھوں افراد جواب دہی اور نمائندگی کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر آگئے۔ حقوق اور آزادی کی زبان ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔ لیکن ایک بار پھر ریاست جیت گئی، کیونکہ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے بنائے گئے ادارے ان قوتوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے جو انھیں چیلنج کررہی تھیں۔
مصنفین نے 2022 میں شروع ہونے والی "عورت، زندگی، آزادی" تحریک کا بھی عمدہ نقشہ کھینچا ہے۔ انھوں نے کرد نژاد ایرانی کارکن روژین یوسف زادہ کا ذکر کیا جو بغیر حجاب تہران کی سڑکوں پر نکلیں۔ انھیں ہر لمحہ گرفتاری کا خدشہ رہتا تھا، لیکن انھوں نے دیکھا کہ اجنبی لوگ ان کی مثال سے حوصلہ پارہے تھے۔
کتاب کی ایک کمزوری اس کا عنوان ہے۔ "چوری شدہ انقلاب" ایسا تاثر دیتا ہے جیسے انقلاب اور بعد کی ریاست کے درمیان ایک واضح دراڑ تھی، جبکہ کتاب دراصل دکھاتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ خود انقلاب کے اندر موجود تضادات سے ابھری۔ حکومت نے عوامی حاکمیت اور ظلم سے نجات کے نعروں کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ انھیں ایسے اداروں میں ڈھال دیا جو انجام کار ان اصولوں کے خلاف استعمال ہوئے۔
اس کے باوجود کتاب مایوسی پر ختم نہیں ہوتی۔ مصنفین دکھاتے ہیں کہ عورتوں کی مزاحمت، شہری تنظیموں کی سرگرمیاں اور نئی نسلوں کی بدلتی ہوئی سوچ ایران کے اندر مسلسل تبدیلی پیدا کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ حالیہ جنگ نے سخت گیر قوتوں کو مزید طاقت دی ہے، لیکن ایرانی معاشرے میں سیاسی صلاحیت اور اجتماعی عمل کی قوت اب بھی موجود ہے۔ لوگ اب بھی جمع ہوسکتے ہیں، تنظیم بنا سکتے ہیں اور ایک مختلف مستقبل کا تصور کرسکتے ہیں۔ اسی معنی میں انقلاب کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ کبھی پس منظر میں چلا جاتا ہے، کبھی سخت ہوجاتا ہے اور پھر کسی نئے روپ میں واپس آجاتا ہے۔
رضا اصلان کا انگریزی مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: