آپ نیند میں بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں

ہم سو رہے ہوں تو بھی دماغ کام کرتا رہتا ہے، نیند ایک لائبریرین کی طرح کام کرتی ہے جو دن بھر کی معلومات کو ترتیب دے کر صحیح جگہ محفوظ کرتی ہے

آپ نیند میں بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں

کیا ہم سوتے ہوئے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ یہ سوال صدیوں سے انسان کے تخیل کا حصہ رہا ہے۔ فلموں، کارٹونوں اور سائنس فکشن کہانیوں میں اکثر ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں کوئی شخص سوتے میں نئی زبان سیکھ لیتا ہے یا مشکل سوال حل کرلیتا ہے۔ کبھی یہ خیال محض مذاق سمجھا جاتا تھا لیکن اب جدید سائنس اس سوال پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ حالیہ برسوں میں ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ نیند صرف جسمانی آرام کا وقت نہیں بلکہ دماغ کے لیے ایک مصروف مرحلہ بھی ہے، جہاں یادداشتیں ترتیب پاتی ہیں، معلومات محفوظ ہوتی ہیں اور بعض اوقات نئی مہارتیں بھی بہتر بنائی جاسکتی ہیں۔

میڈیکل نیوز ٹوڈے میں شائع ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ نیند کے دوران دماغ میں مخصوص لہریں پیدا ہوتی ہیں جنھیں سلیپ اسپنڈلز کہا جاتا ہے۔ یہی لہریں یادداشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تحقیق میں شریک افراد کو سونے سے پہلے کچھ الفاظ اور تصاویر یاد کروائی گئیں۔ جب وہ سو گئے تو ان میں سے بعض الفاظ دوبارہ آہستہ آواز میں سنائے گئے۔ بیدار ہوے پر وہ معلومات انھیں بہتر انداز میں یاد تھی جسے نیند کے دوران دوہرایا گیا تھا۔ اس تحقیق سے اشارہ ملا کہ انسان کے سوتے ہوئے بھی دماغ معلومات پر کام کرتا رہتا ہے۔

یہ تصور دلچسپ بھی ہے اور کچھ حد تک پریشان کن بھی۔ اگر انسان نیند میں سیکھ سکتا ہے تو کیا مستقبل میں کمپنیاں، اسکول یا حکومتیں لوگوں کے سونے کے وقت کو بھی پرڈکشن ٹائم بنانا چاہیں گی؟ نیویارکر کے ایک حالیہ مضمون میں اسی پہلو پر بحث کی گئی۔ مضمون کے مطابق تازہ تحقیق سے پتا چل رہا ہے کہ لوگ خوابوں کے دوران نہ صرف مخصوص اشاروں پر ردعمل دے سکتے ہیں بلکہ بعض مہارتوں کی مشق بھی ممکن ہے۔

اس تصور نے سائنس دانوں کو بے حد متجسس کردیا ہے۔ اگر کوئی شخص پیانو سیکھ رہا ہو، یا نئی زبان کے الفاظ یاد کر رہا ہو، تو کیا نیند کے دوران اس معلومات کو دوہرانے سے سیکھنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے؟ بعض تجربات سے یہی ظاہر ہوا کہ دماغ جاگنے کے بعد بھی اس معلومات کو زیادہ بہتر طریقے سے محفوظ رکھتا ہے جسے نیند میں کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ متحرک کیا گیا ہو۔

یہ سب کچھ جادو کی طرح نہیں ہوتا۔ انسان سوتے ہوئے بالکل نئی معلومات اس طرح نہیں سیکھ سکتا جیسے کلاس روم میں سیکھتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص جاپانی زبان نہیں جانتا تو صرف سوتے ہوئے آڈیو سن کر روانی حاصل نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر اس نے پہلے سے کچھ الفاظ یا قواعد سیکھ رکھے ہوں تو نیند اس معلومات کو مستحکم بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ گویا نیند ایک لائبریرین کی طرح کام کرتی ہے جو دن بھر کی معلومات کو ترتیب دے کر صحیح جگہ محفوظ کرتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق نیند کے دوران دماغ کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ ان میں ایک مرحلہ نان ریم سلیپ کہلاتا ہے، جس میں خواب نسبتاً کم ہوتے ہیں لیکن یادداشت منظم ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دماغ اہم معلومات کو محفوظ اور غیرضروری معلومات کو نظرانداز کرتا ہے۔ اسی لیے اچھی نیند لینے والے طلبہ اکثر امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ مسلسل نیند کی کمی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

نیویارکر کے مضمون میں ایک اور دلچسپ سوال اٹھایا گیا۔ اگر ہم خوابوں کے دوران لوگوں سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں تو کیا ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے جب انسان خوابوں میں تربیت حاصل کرے؟ تصور کریں کہ کوئی ایتھلیٹ سوتے ہوئے اپنے کھیل کی مشق کر رہا ہو، یا کوئی موسیقار خواب میں دھنیں دہرا رہا ہو۔ کچھ ابتدائی تجربات سے اشارہ ملا ہے کہ دماغ خوابوں میں بھی مخصوص سرگرمیوں کی مشق کرسکتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ اخلاقی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر نیند کے دوران انسانی دماغ معلومات قبول کرسکتا ہے تو اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ اشتہارات، سیاسی پیغامات یا تجارتی مقاصد کے لیے خوابوں میں مداخلت کا خیال بعض ماہرین کو پریشان کرتا ہے۔ اسی لیے کئی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں تحقیق کے ساتھ ساتھ اخلاقی اصول بھی ضروری ہوں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ نیند اب بھی انسانی دماغ کے سب سے پراسرار پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ہم روزانہ کئی گھنٹے سوتے ہیں، لیکن سائنس ابھی تک مکمل طور پر نہیں جان سکی کہ اس دوران دماغ کے اندر کیا کچھ ہوتا ہے۔ فی الحال سائنس کا سب سے واضح پیغام یہی ہے کہ اگر آپ واقعی کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو رات بھر جاگنے کے بجائے اچھی نیند لیں۔ کیونکہ ہمارا دماغ سوتے ہوئے بھی خاموش نہیں ہوتا، بلکہ شاید اسی وقت وہ سب سے زیادہ مصروف ہوتا ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Medical News Today: Can you learn in your sleep? Yes, and here's how

New Yorker: It’s Possible to Learn in Our Sleep. Should We?