آخر ایران چاہتا کیا ہے؟
عراق سے طویل جنگ نے ایران میں ایسا نظریہ پیدا کیا جس میں خطرات کا احساس اور علاقائی اہمیت حاصل کرنے کی خواہش شامل تھی، اسی سوچ کے تحت ایران نے خطے میں اپنی پراکسیز بنائیں
کرسٹوفر دے بولیگ [فارن افئیر میگزین]
ولی رضا نصر ایرانی امریکن ماہر تعلیم اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ وہ مشرق وسطی کے امور اور اسلام کی تاریخ میں اختصاص رکھتے ہیں اور واشنگٹن ڈی سی کی جان ہوپکز یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ وہ کئی کتابیں تحریر کرچکے ہیں اور ان کے مضامین عالمی جریدوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اکانومسٹ کے مطابق وہ شیعہ اسلام پر اتھارٹی ہیں۔
والی نصر نے اپنی کتاب Iran’s Grand Strategy میں ایران کی خارجہ پالیسی کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی محض مذہبی انقلاب کو پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی، تاریخی تجربات اور علاقائی رقابتوں پر مبنی ہے۔ اگرچہ اسلام ایران کی سیاست کی زبان ہے لیکن اس کے مقاصد زیادہ تر عملی اور دنیاوی نوعیت کے ہیں۔
ایران کی موجودہ پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے ایران عراق جنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 1980 کی دہائی میں ہونے والی اس طویل اور خونریز جنگ نے ایران کی سوچ اور حکمتِ عملی کو گہرائی سے متاثر کیا۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے لیکن اس نے ایران میں ایک ایسا نظریہ پیدا کیا جس میں خطرات کا احساس اور بڑی علاقائی اہمیت حاصل کرنے کی خواہش دونوں شامل ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران نے خطے میں اپنی پراکسیز بنائیں اور غیر روایتی طریقوں سے اپنے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔
صدام حسین نے 1980 میں ایران پر حملہ کیا لیکن اس کے نتیجے میں ایران کی نئی اسلامی حکومت مزید مضبوط ہو گئی۔ ایران نے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس لی بلکہ ایک انقلابی تنظیم پاسداران انقلاب بھی قائم کی۔ اس دوران مغربی دنیا، سوویت یونین اور کئی عرب ممالک نے عراق کا ساتھ دیا جبکہ ایران کو اسلحے کی شدید کمی کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود ایران نے خود انحصاری، مذہبی جذبے اور قوم پرستی کے ذریعے جنگ جاری رکھی۔
اس جنگ نے ایران کو یہ سکھایا کہ وہ پابندیوں کے باوجود کیسے اپنی معیشت اور فوجی طاقت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر ایران نے بعد میں ڈرونز، میزائل اور دوسرے جدید ہتھیار تیار کیے۔ 2003 کے بعد ایران نے فارورڈ ڈیفنس کی پالیسی اپنائی جس کے تحت وہ خطرات کو اپنی سرحدوں سے دور ہی روکنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کے لیے خطے میں مداخلت کیوں نہ کرنی پڑے۔
اس حکمتِ عملی کا سب سے نمایاں کردار جنرل قاسم سلیمانی تھے جنھوں نے عراق، شام اور لبنان میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے روس اور حزب اللہ کو شام میں مداخلت پر آمادہ کیا اور داعش کے خلاف لڑائی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت میں فوجی جرات، سیاسی چالاکی اور سفارتی مہارت کا امتزاج تھا۔
لیکن ایران کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ نئی نسل، جو جنگ کے تجربے سے محروم ہے، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے۔ خاص طور پر اس بات پر کہ ملک کے وسائل بیرونی مہموں پر خرچ کیے جارہے ہیں۔ 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے احتجاج اس بے چینی کی واضح مثال ہیں۔
ایران کو اس وقت ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف امریکا کی جانب سے دباو ہے اور دوسری طرف ایٹمی پروگرام کا مسئلہ ہے۔ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ پیچھے ہٹنے کی صورت میں اسے اپنی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔
ایران ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے داخلی دباو، خارجی خطرات اور اسٹریٹجک فیصلوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اس کی موجودہ مشکلات کے باوجود، اس کی تاریخی لچک اور قومی احساس اسے مکمل طور پر کمزور ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
[یہ کتاب مئی 2025 میں شائع ہوئی لیکن ولی نصر نے تبھی بتادیا تھا کہ مجتبی خامنہ ای اگلے سپریم لیڈر بن سکتے ہیں اور وہ والد کی پالیسیاں جاری رکھیں گے۔]
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Foreign Affairs: What Iran Wants
Princeton University Press: Iran's Grand Strategy: A Political History